کورونا کی دوسری لہر، سختی بناچارہ نہیں

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر ملک میں عالمی وبا ء سے نمٹنے والے قومی ادارے نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے ایسے شہر جہاں کیسز مثبت آنے کی شرح دو فیصد سے زیادہ ہے وہاں عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہو گا۔این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے علاقے جہاں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے وہاں لاک ڈائون کے نفاذ کے تحت تمام کاروباری سرگرمیاں جن میں ریستوران، مارکیٹ، شاپنگ مال، شادی ہال وغیرہ رات دس بجے اور تفریحی مقام شام چھ بجے بند کیے جائیں گے۔حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے انکار ممکن نہیں لیکن تجربے اور مشاہدات سے ثابت ہے کہ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود اس امر کا امکان کم ہے کہ عوام تعاون کریں، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں ایک عجیب ذہنیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے یہاں پر ماسک پہننے، فاصلہ رکھنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ رکھنے اور دوسروں کو محفوظ بنانے کو نہ صرف سرے سے غیر ضروری سمجھا جاتا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کی مردانگی اور ایمان تک کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ جہاں اس قسم کی عمومی فضا ہو وہاں پر ترغیب، شعور اُجاگر کرنے اور اپیل کرنے کا عمل کارلاحاصل ہی ٹھہرے گا، حکومت اور انتظامیہ کو صورتحال کا بخوبی علم ہے ایک مرتبہ پھر آنے والی کورونا کی لہر کی روک تھام کیلئے اب حکومت کو سخت سے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمارے تئیں اسلام آباد میں دفعہ144نافذ کرکے خلاف ورزی کے مرتکب عناصر سے سختی سے نمٹنا بہتر حکومت عملی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اگر اس عمل کو موزوں گردانا گیا ہے تو خیبر پختونخوا میںیہ مجبوری اور اشد ضرورت کا تقاضا ہے کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو دفعہ144 لگا کر خلاف وزری کرنے والوں کیخلاف بلاامتیاز کا رروائی کرنے حکم دیا جائے۔ جب تک حکومت انتظامی مشینری کا استعمال نہیں کرے گی تب تک صوبے میں کم ہی لوگ رضاکارانہ طور پر حفاظتی تدابیر اختیار کریں گے، حکومت کو اس ضمن میں کسی مصلحت اور عوامی ناراضگی سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے، اس کے علاوہ باقی تمام تجربات اور طریقہ ہائے کار ناکام ہو چکے ہیں۔ ایس او پیز کی پابندی میں بی آر ٹی کے عملے کی فرض شناسی کو نہ سراہنا انصاف نہ ہوگا۔ بی آر ٹی میں بعداز تاخیر کل سے پوری طرح ماسک کی پابندی کرانے کا جو عمل شروع کیاگیا ہے اور بس میں سوار ہونے کیلئے ماسک پہنے ہوئے ہونے کو پوری طرح یقینی بنایا گیا ہے وہ قابل تحسین امر ہے۔ بس میں بیٹھنے کے بعد ماسک اُتارنے والوں کیخلاف اقدامات یقینی بنانے میں بس کمپنی اور انتظامیہ دونوں کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ بازاروں میںماسک کی پوری طرح پابندی کا تقاضا ہے کہ کسی کو بھی بغیر ماسک کے چلنے کی اجازت نہ دی جائے اورخلاف ورزی پر سخت سے سخت کارروائی سے گریز نہ کیا جائے، قانون کا خوف دلائے بغیر تمام مساعی حسب سابق رائیگاں جائیں گی۔ شاید لوگوں کو احساس نہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی قیمت معاشی طور پر بھی ادا کرنا پڑے گی کیونکہ اگر معاملات دوبارہ بگڑنا شروع ہوئے تو لاک ڈائون کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام ازخود ایس او پیز پر عمل کریں اور کورونا کی دوسری لہر کا اسی طرح سامنا کریں جس طرح پہلی لہر کا یک جان ہو کر مقابلہ کیا تھا۔ ایسا کرنا ان کی زندگیوں کیلئے بہتر ہے اور ملک و قوم کو معاشی مسائل سے بچانے کا بھی یہی طریقہ ہے۔