logo 47

عدم برداشت سے عبارت ماضی سے سبق سیکھئے

امر واقعہ یہ ہے کہ بعض سیاستدان(اپوزیشن اورحکومتی رہنمائوں)کے بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ مفاہمت وتعاون کی حکمت عملی اور عوام الناس کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اجتماعی سوچ کا فقدان ہے۔اس صورتحال کو قومی اسمبلی کے سابق سپیکر ایاز صادق کے ایک حالیہ بیان کا شاخسانہ قرار دینا غلط ہوگا یہ بجا ہے کہ سیاستدانوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیئے جس سے قومی سلامتی اور وقار پر حرف آتا ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔عدم برداشت کی جو فضا ہمارے یہاں پچھلے دو سالوں سے پروان چڑھی یہ پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں کی سیاست کا نیا جنم ہے۔اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیئے کہ حکومت کھلے دل کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے مگر یہ امر دو چند ہے کہ حکومت نے اہم معاملات میں اپوزیشن کو نظر انداز کیا اور کسی مرحلہ پر اپوزیشن نے تعاون بھی کیا جیسا کے مختلف امور میں قانون سازی کے حوالے سے تو اس پر بھی خیر مقدمی جذبات کے اظہار کی بجائے حزب اختلاف کی بھد اڑائی گئی۔ایک ترقی پذیر ملک میں جو ابھی پسماندگی سے بھی صحیح طور نہ نکل پایا ہو عدم برداشت کی فضا سے سب سے زیادہ عوام اور روزمرہ کی کار کردگی متاثر ہوئی ہے۔المیہ یہ ہے کہ اس طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جمہوری روایات کے مطابق حزب اختلاف کی مختلف الخیال جماعتوں نے متحدہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لئے پی ڈی ایم کے نام سے اتحاد قائم کرتے ہوئے رابطہ عوام مہم شروع کی تو حکومتی صفوں سے آوازیں سنائی دیں۔یہ اتحاد بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ بھارت،اسرائیل اور پی ڈی ایم ایک چیز ہیں۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وزیراعظم اس موقع پر اپنا قومی کردار ادا کرتے ہوئے تندوتیز بیانات اور غداروں کے سرٹیفیکٹ تقسیم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے مگر ہوا اس کے برعکس خود وزیراعظم نے بھی اپنا فہمی وزن اپنے ساتھیوں کے پلڑے میں ڈال دیا۔سیاسی بعد بڑھا اور بات بیانات سے تو تکار تک جا پہنچی اس صورتحال پر عوام الناس کی اکثریت دل گرفتہ ہے تو وہ اس پر حق بجانب ہے۔ایک طویل عرصے سے جماعتی اور پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے والے یہ رہنما جانتے ہیں کہ محاذ آرائی نقصان کا باعث بنتی ہے۔حالیہ دنوں میں چند ایسے بیانات سامنے آئے جو اگر نہ دیئے جائیں تو زیادہ مناسب تھا۔افسوس یہ ہے کہ ان بیانات کی سنگینی کا احساس کرنے کو کوئی بھی فریق نہیں بلکہ ان کی پیش کردہ تاویلات کو نرم سے نرم الفاظ میں جلتی پر تیل ڈالنا ہی کہا جا سکتا ہے۔پاکستانی سیاست اور نظام حکومت(حکومتوں کے ادوار)کی تاریخ بہت زیادہ خوشگوار ہرگز نہیں اولین دن سے ہی حکومت کی مخالفت کو ملک کی مخالفت کے طور پر پیش کیا جاتا آرہا ہے۔تہتر سال گزرنے اور اونچ نیچ بھگت لینے کے باوجود سیاسی قائدین نے گزرے ماہ وسال کی تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ستم بالائے ستم یہ اختلاف رائے کا اظہار بھی ایسے کرتے ہیں جیسے دو بد ترین ملک اپنا موقف بیان کر رہے ہوں۔ہونا یہ چاہیئے کہ ہمارے سیاسی قائدین گفتگو،بیانات اور تقاریر میں الفاظ کے چنائو میں بطور خاص احتیاط کریں مگر ہوتا یہ ہے کہ احتیاط کرنے یا احتیاط کا مشورہ دینے والوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔حکومتی اتحاد کے قائدین ہوں یا حزب اختلاف کے رہنما اس ملک کے عوام کے لئے سبھی محترم اور قابل احترام ہیں ان سب کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے مخصوص مقاصد کیلئے کسی کو غدار یا بھارت نواز قرار دینے کا رجحان ماضی میں بھی درست نہیں تھا اور اب بھی یہ صریحاًغلط ہے۔اندریں حالات ہم حکومت اور اپوزیشن کے قائدین کی خدمت میں دست بدست عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ بچوں کی طرح لڑنے اور الزام تراشی سے گریز کیجئے یہ ملک سب کا ہے اور کوئی بھی ملک کا کسی بھی طرح کا نقصان نہیں چاہتا ضرورت اس بات کی ہے کہ عدم برداشت نفرت اور دوسری بے سروپا باتوں سے نجات حاصل کیجئے۔پاکستان اور اس کے عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کے تدارک پر توجہ دیجئے۔وطن عزیر میں غربت ،بیروزگاری اور طبقاتی خلیج وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔مہنگائی کا طوفان آسمان کو چھو رہا ہے ایک اطلاع کے مطابق حکومت وفاقی محکموں میں پچھلے ڈیڑھ سال سے خالی پڑی 71ہزاراسامیوں کو ختم کرنے جارہی ہے ایسا ہے تو یہ غریب وبیروزگاری کے طوفان کو بڑھانے کا موجب ہوگا۔حکومت ہو یا حزب اختلاف ہر دوپر یہ اخلاقی سیاسی،قانونی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ روز بروز سنگین ہوتے مسائل کا ادراک کریں اور محض ادراک ہی نہیں ان کے دل کے لئے اتفاق رائے سے حکمت عملی بھی وضع کریںجن سیاسی یا ملکی ایشوز پر فریقین کو اختلافات ہیں انہیں طے کرنے کی بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے امید واثق ہے کہ سیاسی قائدین زمینی حقائق کو مد منظر رکھتے ہوئے اپنے حقیقی فرائض پر توجہ دیں گے تاکہ عوام الناس کی محرومیوں اور مسائل میں کمی آسکے۔