ایک نئے میشاق کی طرف

پاکستان میں قدرتی موسم ٹھنڈا ٹھار، باران رحمت کی رم جھم، برف باری کی چاندی راتیں اپنے حسن بے بدل سے سرشار مگر سیاست پاکستان عوام کو گرما رہی ہے، عجیب طرح سے موسموں کا لین دین جاری ہے۔ چلیں ایسے کاموں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے، ایک زمانے میں اخبارات میں قومی نہیں بلکہ یوں کہنا صحیح ہے کہ ملکی خبروں کا قحط رہتا تھا گوکہ ہنوز بھی قومی خبروں کا قحط بالجبر ہے تاہم پھر بھی تحریک انصاف کی حکومت اپنا پیٹ بھرے نہ بھرے اخبار کا پیٹ بھر دیتی ہے۔ جب سے حضور والا مسند نشین ہوئے ہیں ذرائع ابلاغ نے تو گونگوں کی زبان بولنا شروع کر دی ہے، حزب اختلاف تو جو دوسال سے اپنے بوجھ سے بے خبر تھی اور پاکستان کے ہردلعزیز میڈیا ایڈوائزر اور دل پذیر وزرائے کرام نے ایسی دھوم مچائی کہ قوم یہ ہی سمجھ پارہی ہے شاید تحریک انصاف اب بھی کنٹینر پر ہی براجمان ہے چنانچہ کپتان کی ٹیم کا ہر کھلاڑی اسی طرح چوکے چھکے لگا رہا ہے جس طرح کنٹینر پر کھٹرے کھڑے لگ رہے تھے، اس کو کہتے ہیں ٹیم کی وفاداری۔ برسوں سے دنیا بھر میں یہ سوال حل کرنے کی کوشش ناکام ہوتی رہی کہ پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے جس کو کوئی نہیں سلجھا پایا اس نقار خانہ میں سب اپنی اپنی ہی ڈگڈگی بجاتے چلے آرہے ہیں مگر اب جاکر قوم کوآگاہی ہو پائی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ تو گھر کے اندر ہی پل بڑھ رہا ہے اور وہ ہے خاندانِ شریفانہ اور خاندانِ بھٹویانہ، چنانچہ پاکستان کے قیام کے بعد قوم کو اللہ تعالیٰ نے ایک انمول مسیحا عطا کرا جس نے اپنی زندگی اس کو ڈھونڈنے میں تج کردی ۔خیر یہ الگ سی بات رہی اصل مدعا یہ ہے کہ ہمارا ہر اگلا پچھلا حکمران مضبوط دل وجگر کا ثابت ہوا ہے، کسی مرحلہ میں وہ نہیں لڑکھڑایا بس حزب اختلاف ہی کو لڑکھڑاتا رہا ہے۔ تنقید کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں مگر پاکستانی سیاستدان خود کو دودھ کا دھلا جانتا ہے، جھولی میں چاہے ہزاروں چھید کیوں نہ ہوں وہ نظر نہیں آتے۔ اب نواز شریف کو ہی لے لیں، آج وہ جن کو قاتل جمہوریت اور آئین سے غیروفاداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں وہ آج کے اپنے حبیب اور کل کے سیاسی رقیب دونوں ماضی بعید اور قریب میں ان سے سودمند ہوتے رہے ہیں۔ یہ تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں یا یوں کہئے کہ رہنماؤںکا وتیرہ رہا ہے جب ممتاز قرار پاتے ہیں تو شادباش ہو جاتے ہیں اور جب خود پر پڑتی ہے تو اقتدار کی محرومی کی مروڑ سے کراہنے اور تڑپنے لگتے ہیں۔ بہرحال پونے صدی گزرنے کے بعد اصل مرض کا کھوج لگ گیا ہے تو اس کا علاج بھی ضروری ہے جس کے بارے میں راقم نے کوئی دو ہفتے پہلے ہی کہا تھا کہ تشخیص کا ایک ہی حل ہے کوئی بھی غیر نہیں ہے سب ہی اپنے ہیں اور مل بیٹھ کر ہی کاوشوں کے ذریعے ملک کو درپیش امراض کہنہ کو ختم کیا جا سکتا ہے، نواز شریف جن کو سیاست کا بھولا بادشاہ کہا جاتا ہے انہوں نے سیاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مل جل کر شفاء حاصل ہونے کا راستہ اور کواڑ بند کرنے کی ڈونڈی پیٹ دی جبکہ ایسا کبھی آقاء اور غلا م کے مابین بھی نہیں ہوا کرتا زندہ مثال افغانستان کی ہے جہاں دنیا کی دونوں بڑی طاقتیں اپنے متکبر، گھمنڈ سے لبریز بیانیہ کے آگے لیٹ گئیں، دنیا کی واحد سپرپاور بننے کی دھوم مچانے والی ایک دنیاوی قوت نے اپنے گھمنڈ کا جو طبل بجایا تھا آج وہ بھی دنیا کی کمزور ترین بے یارو مددگار قوت کے سامنے گھٹنے ٹیکے مفاہمت اور مذاکرات کے قدموں کو چوم رہا ہے، ایسے میں جمعیت کے سابق ترجمان جو اپنی چکنی چپڑی زبان کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کے شہزادے بن جاتے ہیں حالانکہ ان سے کہیں زیادہ ملا دوپیازہ لطیفہ باز اور چسکے دار زبان کے واحد وارث قرار پاتے ہیں بہرحال حافظ صاحب کا تازہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ ووٹ کو عزت دیتے دیتے بوٹ کو عزت دینے پر آگئے۔ شاید ان سے کوئی بھول ہوئی ہے جس بوٹ کا ذکر وہ فرما رہے ہیں وہ تو ساری قوم کیلئے باعث عزت ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ کسی آقا کے پیر کی زینت نہیں ہے یہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی شان اور زینت کی علامت ہے۔ کیا وہ بتا پائیں گے کہ یہ بوٹ جو بوٹ کو حقارت سے بولا گیا ہے خود ان کیلئے قابل احترام اور قابل عزت نہیں،اگر انہوں نے اپنی زبان کی چکنائی اُگلنی ہے تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر طنز وتشنیع کے تیر برساتے جس نے اس بوٹ کی بے حرمتی بڑی دھٹائی سے کی کہ ٹی وی کے ٹاک شو میں اسے پروگر ام کے شرکاء کے سامنے رکھ دیا۔ اس طرح یہ بوٹ کو جوتا بناکر ٹی وی سکرین کے ذریعے عوام پر بھی پھینک مارا، ایسی بے حرمتی تو سقوط مشرقی پاکستان کے وقت بدترین اور قبیح صفت دشمن نے بھی نہیں کی، جہاں تک نواز شریف کے بیانئے کا تعلق ہے وہ تو پاکستان کے عوام کا برسوں سے ہے کہ پاکستان کو جمہوریت، قائداعظم کے اقوال اور آئین کی بالادستی قانون کی حاکمیت سے عزت دی جائے۔ اگر دیکھا جائے تو سچ یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی پہلی تقریر میں واضح کر دیا تھا کہ ان کی عمران خان سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ اصل فریق سے ہی بات کریں گے پھر حافظ جی اپنے گردے کھجلا رہے ہیں۔