پی ڈی ایم کی واپسی

پیپلز پارٹی کے بعد پی ڈیم ایم کی دوسری اہم اکائی مسلم لیگ ن نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ کہاں سسٹم کو تسلیم نہ کرنے کے دعوے، سب کچھ جلا ڈالنے اور بھسم کر دینے کی باتیں، سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کے طعنے، استعفوں کے ڈھیر اور استعفے منہ پر مار دینے کے بھاری بھر کم جملے اور کہاں رفتہ رفتہ سسٹم کے دائر ے سے نکلتے ہوئے قدموں کا اچانک رک جانا اور پھر دوبارہ سسٹم کے دائرے میں محوِ رقص ہونے کا فیصلہ، اڑھائی سال کا عرصہ اپوزیشن کی چند جماعتوں پر بھاری گزرا۔ ہر دن عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی اُمید پر گزرتا چلا گیا اور یوں ڈھائی سال گزر گئے۔ آزادی مارچ، جلسے جلوس سمیت سٹریٹ پاور کا ہر نرم انداز اپنا کر دیکھا گیا۔ استعفیٰ لینے کا عزم ظاہر کرتے کرتے استعفیٰ دینے تک بات پہنچ گئی۔ آر یا پار ہونے اور فیصلہ کن مرحلہ آنے کے خواب دیکھے اور دکھائے گئے مگر ہر بار نتیجہ مرزا غالب کے اس شعر کی صورت ہی برآمد ہوتا رہا۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا
دھمکیوں اور زوردار اعلانات کا ہر دور جوں کی توں صورتحال کی صورت میں برآمد ہوا۔ سسٹم کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے اپوزیشن کے پاس دو ہتھیار تھے، اول یہ کہ عوام کا ہجوم اکٹھا ہو کر انقلاب کے انداز میں ملک میں زندگی کا پہیہ جام کر دیتا اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا یہ وقت نے ہی فیصلہ کرنا تھا مگر حکومت اُلٹنے کے امکانات بھی اس آپشن میں موجود تھے۔ دوسرا طریقہ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر سے ہو کر گزرنا تھا وہ تھا تحریک عدم اعتماد۔ اپوزیشن کی طرف سے سٹریٹ پاور کے استعمال کا امکان موجودہ حکومت کے قیام سے بہت پہلے ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ پاکستان میں خالص سٹریٹ پاور کے ذریعے کسی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پی این اے اور بھٹو صاحب بھی احتجاج اور مارا ماری کے بعد ایک سمجھوتے پر متفق ہو گئے تھے اور جنرل ضیاء الحق نے مداخلت کرکے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ میاں نوازشریف نے ایوان وزیراعظم سے نکلنے کے بعد ''مجھے کیوں نکالا'' کا نعرہ لگا کر جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا فیصلہ ایک موہوم اُمید پر کیا۔ انہیں یہ گمان تھا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے مقبول ترین راہنما ہیں اور اس صوبے کے دل یعنی جی ٹی روڈ کے بے تاج بادشاہ ہیں، جہاں وہ کھمبا بھی الیکشن میں کھڑا کریں تو لوگ اس کو بھی ووٹوں سے نہال کر ڈالیں۔ اس لئے بڑے صوبے کے مقبول راہنما کی حیثیت سے جب وہ مظلوم بن کر جی ٹی روڈ پر نکلیں گے تو پنجاب کے گھر ویران اور سڑکیں آباد ہوجائیں گی اور لوگ ایک ماؤز ے تنگ کے عظیم انقلاب کیلئے ان کیساتھ چل پڑیں گے۔ یہ اپنی قوت اور مقبولیت کو جی ٹی روڈ کے ترازو پر تولنے کی کوشش تھی۔ جی ٹی روڈ کا سفر اختتام کو پہنچا، اسلام آباد سے چلنے والے قافلے لاہور پہنچ گئے۔ صبح کو سورج طلوع ہوا تو پنجاب روایتی انگڑائی کیساتھ بیدار ہو کر اپنے کاموں میں مشغول ہوا۔ نہ باد سموم چلی اور نہ صحرا کی ریت اُڑی نہ کوئی گرم ہوا سے کوئی آشیانہ جلا اور نہ کسی اور قسم کی تباہی پھیلی۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت تھی، مرکز ان کے پاس تھا، انتظامیہ اور وسائل انہی کے ماتحت اور تصرف میں تھے۔ معجزے کے نتیجے میں سارا منظر بدل جانے کی اُمید بھی توانا اور برقرار تھی، اس کے باجود کوئی انقلاب برپا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد ہر انقلاب کی طلب اور تمنا سراب کے تعاقب کی طرح تھی۔ بعد میں مسلم لیگ ن کے وسائل میں مولانا فضل الرحمان کی سٹریٹ پاور بھی مل گئی مگر تب بھی کوئی معجزہ رونما نہ ہو سکا۔ پی ڈی ایم بنا تو استعفوں کا آپشن ہمیشہ ایجنڈے پر موجود رہا۔ استعفوں کا مطلب سسٹم کے دائرے سے نکل جانا اور مستقل طور پر سڑک چھاپ بن جانا تھا۔ مسلم لیگ ن اور مولانا کیلئے تو یہ ایک بہترین آپشن تھا کہ باقی سب انہی کیساتھ دائرے سے باہر ہوجاتے مگر پیپلزپارٹی کیلئے یہ ایک مہنگا سودا تھا۔ سندھ اورکراچی کے محلات سے باہر ہوکر سڑکوں کا مکین بن جانے کا تصور سوہانِ روح تھا۔ بلاول کی انقلابیت اس مہم جوئی کیلئے کبھی کبھی آمادہ ہوتی دکھائی دیتی رہی مگر آصف زرداری کی زمانہ شناس شخصیت کو یہ خسارہ قبول نہیں تھا۔ اسلئے پیپلزپارٹی نے استعفوں کی راہوں سے الگ ہونا شروع کیا۔ یہاں تک کہ پیپلزپارٹی نے استعفیٰ لینے اور دینے کی باتوں کو ترک کرتے ہوئے ضمنی انتخابات اور سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ ن کے جن دوارکان نے جوش جذبات میں سپیکر کو استعفے دئیے تھے ایک سہانی صبح سپیکر سے مل کر استعفے واپس لے لئے، حالانکہ ان کیلئے مریم نواز کی ہدایت یہ تھی کہ جاؤ اور جا کر ان کے منہ پر ماردو استعفے اور کہو یہ ہیں تمہارے استعفے۔ منہ پر مارنا تو دور انہوں نے میز پر بھی نہیں مارے بلکہ واپس لے کر ردی کی ٹوکری میں جا مارے۔ پیپلزپارٹی آخرکار ہر انتخاب میں حصہ لینے کی قائل ہوئی تو چار وناچار مسلم لیگ ن نے بھی سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ یوں سسٹم کے دائرے سے دور ہوتے ہوئے اتحادی واپس لوٹ آئے۔ عمران خان تو نہیں سسٹم ان سے کہہ رہا ہے۔
تمہارے بگڑ کر چلے جانے سے بھی
نہیں مجھ کو کوئی گلہ لوٹ آؤ