کامیڈی کنگ امان اللہ کو مداحوں سےبچھڑے ایک سال بیت گیا

ویب ڈیسک (کراچی) دنیائے کامیڈی کے شہنشاہ اور تھیٹر کے بے تاج بادشاہ امان اللہ خان کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال بیت گیا ہے۔

بے مثال اداکاری اور جداگانہ انداز سے کئی دہائیوں تک لوگوں کو ہنسانے والےامان اللہ خان، 1954 میں گوجرانوالہ کے غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مزاح بچپن سے ہی ان کی طبیعت کا نمایاں حصہ تھا۔ امان اللہ نے کامیڈی کا باقاعدہ آغاز 1995 میں تھیٹر سے کیا ۔ ابتدا میں چند چھوٹے موٹے کردار ملے لیکن جب شائقین نے پسند کرنا شروع کیا تو تھیٹر کا دوسرا نام امان اللہ پڑگیا۔ 2006 میں فلم ”ون ٹو کا ون”اور پھر2014 میں فلم ”نامعلوم افراد” میں بھی کردار نبھایا۔

امان اللہ خان کے چہرے پر سنجیدہ تاثرات ہوتے تھے لیکن حاضر جوابی اور ایسا برجستہ جملہ باشی ایسی ہوتی تھی کے سننے والے ہنس ہنس کو لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔

امان اللہ کے اسٹيج ڈراموں شرطيہ مٹھے، محبت سی اين جی، بڑا مزا آئے گا، بيگم ڈش انٹينا اور کھڑکی کے پيچھے نے مقبوليت کے ريکارڈ قائم کئے۔

امان اللہ نے پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پراپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ حکومت پاکستان نے فنی خدمات کے اعتراف مین انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔

انہوں نے 1969 ميں باغ جناح کے اوپن ائير تھيٹر سے فنی سفر کا آغاز کيا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کامیڈی کنگ نے سينکڑوں اسٹيج ڈراموں ميں جو بھی کردار نبھایا اسے امر کر ڈالا۔

امان اللہ نے 3 شادیاں کیں، 7 بیٹے اور 7 بیٹیاں ہیں، 2018 میں انہیں گردوں، پھیپھڑوں اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوئے، 2020 میں ان بیماریوں سے لڑتے ہوئے 6 مارچ دم توڑگئے لیکن کامیڈین امان اللہ کے قہقہے آج بھی شائقین کے دلوں میں دھڑک رہے ہیں۔