یورپی پارلیمنٹ کی پاکستان مخالف قرارداد

یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد ' اس میں خاص طور پر توہین رسالت کے قوانین کا جائزہ لینے پر زور اور توہین رسالت کے جرم میں سزا یافتہ عیسائی جوڑے کو عدالتی ریلیف دینے کی بات نے اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا ہے کہ مغرب ناسمجھی میں یا اظہار رائے کی آزادی کے تناظر میں اسلام اور ہمارے پیارے نبیۖ کی توہین کا مرتکب ہو رہا ہے۔ توہین رسالت کے حوالے سے ان کی سوچ کیا ہے اس کو اس قرارداد کے الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قرارداد کے مطابق پاکستان کے توہین رسالت قوانین انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں ہے اور یہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ قرارداد پاکستان پر زور دیتی ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کیخلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے۔ اس قرارداد میں یورپی کمیشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کو کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دئیے گئے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر فوری نظرثانی کی جائے اور حالیہ واقعات کے تناظر میں اس سٹیٹس کو عارضی طور پر ختم کیا جائے یعنی پاکستان کو سبق سکھانے اور فرانس سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کیلئے یورپ کے تمام ممالک یکجا ہو گئے ہیں۔ اس قرارداد کے حق میں 681 اراکین نے ووٹ دیا ہے جبکہ صرف تین ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغرب اپنے نظریات اور خیالات میں کس قدر یکسو ہے۔ وہاں ہمیں ویسی تقسیم دکھائی نہیں دیتی جیسی ہمارے ہاں ان کی سوچ کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کا تاثر ہے کہ اہل مغرب کو ہم نبیۖ اور اسلام کے بارے میں اپنی حساسیت سمجھا نہیں پائے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے مذہب سے اپنی شدید محبت ان کو بتانے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ اس سوچ کا محور ہے کہ مغربی عوام بھولپن میں یہ سب کر رہے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ جو لوگ مذہب کو ہی نہیں مانتے اور جن کے خیالات نے مذہب بیزار تحریک سے نمو پائی ہے ان کو کیا ہم سمجھا سکتے ہیں کہ دیکھو تم بھلے اپنے مذہب سے بیزاری رکھتے ہو لیکن ہمارے جذبات کو سمجھو اور ان کی توہین نہ کرو۔ یہ کیسی معصومانہ سوچ ہے۔ اہل مغرب مذہبی' انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے بارے اپنے واضح نظریات رکھتے ہیں۔ ان کی تہذیب جسے وہ فخر سے مغربی اور یورپی تہذیب قرار دیتے ہیں کا خمیر ہی مذہب بیزاری' فرد کی بنیاد پر انسانی حقوق کا تعین اور بنا قدغن خوشی کے حصول جیسے اصولوں سے اُٹھا ہے۔ فرد کی زندگی پر کوئی قدغن نہیں اور وہ اپنے اعمال' رہن سہن اور بلاروک ٹوک کہیں آنے جانے میں قطعاً آزاد ہے۔
دریں حالات پاکستان نے پورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کے جواب میں ختم نبوتۖ کے قانون اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا ہے اس میں یہ دو ٹوک اعلان کیا گیا ہے کہ ناموس رسالتۖ کے قانون کا تحفظ کیا جائے۔ وزیراعظم نے او آئی سی ممالک کے سفیروں سے اپنی ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو حضوراکرمۖ اور قرآن مجیدکیلئے تمام مسلمانوںکی گہری محبت اور عقیدت کو سمجھانے کیلئے ملکر کام کریں۔ وزیراعظم نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم عالمی برادری کو اس حساسیت سے آگاہ کرنے کیلئے مشترکہ کام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کو ہی ٹیسٹ کیس بنائیں اور مسلمان ممالک کی قیادت کو جھنجھوڑیں تاکہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے یورپی ممالک کو ایک مضبوط پیغام جائے۔ مسلمان ممالک کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے تبھی مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہونا ممکن ہے ورنہ وہ ہمیشہ خوار ہوتے رہیںگے اور مغرب انہیں ذلیل ورسوا کرتا رہے گا۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں ایران کے بارے میں جن مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے اُمید پیدا ہوئی ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات مستقبل میں خوشگوار ہوں گے۔ یہ مسلمان اُمہ کیلئے نہایت نیک شگون ہے۔ سعودی عرب' ایران' پاکستان اور ترکی باہم ملکر مسلمان اُمت کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ ہماری نااتفاقی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنے آقا محمدۖ کی ناموس کا تحفظ کرنے میں صریحاً ناکام رہے ہیں۔ مغرب کو ہمارے جذبات کا احساس ہوتا تو کیا یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد اس طرح بھاری اکثریت سے منظور ہوتی؟ دنیا جتنی چاہے مہذب ہو جائے طاقت کی زبان ہی ظلم اور ناانصافی کا راستہ روک سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم اور زیادتیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں طاقت ور بننا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب دنیا کے57ممالک مضبوط اتحادکی لڑی میں پروئے ہوں گے۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات