لاک ڈائون کو مئوثر بنایا جائے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہدایت کی ہے کہ عید کیلئے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔حکومت کورونا کے حوالے سے جس قدر ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کر رہی ہے بد قسمتی سے عوام اور بالخصوص تاجروں کا رویہ بالکل برعکس ہے اگرچہ حکومت نے لاک ڈائون کا اعلان کر کے نفاذ بھی کردیا ہے لیکن شہر کی مرکزی سڑکوں پر کسی قسم کی روک ٹوک کے انتظامات نظر نہیں آئے صرف ٹریفک کم چل رہی تھی جس کی وجہ چھٹیاں گرمی اور رمضان بھی ہوسکتا ہے ۔بہرحال نو روزہ لاک ڈائون لگ چکا۔خیبر پختونخوا کے تاجروں نے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے عید کے بعد ''تاجر بچائو،معیشت بچائو ،ملک بچائو ''تحریک کا اعلان کردیا ہے تاہم تاجروں نے لاک ڈائون کو بامر مجبوری تسلیم کرلیا ہے جو خوش آئند امر ہے تاجروں کا غصہ اور احتجاج کی دھمکی فطری امر ہے کہ وہ اپنے کاروباری نقصان کے باعث دبائو اور غصے میں ہیں۔لاک ڈائون مسلمہ ضرورت ہے لیکن پاکستان میں لاک ڈائون اور دنیا کے دیگر ممالک کے لاک ڈائون میں زمین آسمان کا فرق ہے ہمارے ہاں راستے پر سیمنٹ کے بلاک رکھ کر اور ایک طرف کی سڑک بند کر کے باقی تمام معمولات کو جاری رکھنے یا کم از کم دکانیں بند کر نے کو لاک ڈائون کا نام دیا جاتا ہے جبکہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں وہاں لاک ڈائون کا مطلب لاک ڈائون اور اس کا مئوثر نفاذ ہے۔ دیکھا جائے توصرف حکومتی سطح پر ذمہ داریوں کو کھیل نہیں بنایا گیا ہے عوام اور تاجربرادری نے بھی اسے کھیل بنادیا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ازخود احتیاط یا پھر حکومتی اپیل پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے الٹا عوام نالاں ہیں اور تجار حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی تیاری میں ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ حکومت نے لاک ڈائون کا فیصلہ کوئی خوشی سے تو نہیں کیا بلکہ یہ مجبوری بن گئی تھی۔لاک ڈائون کے اعلان ونفاذ کے باوجود مساجد ،گلی محلوں اور اندرون شہروں اور قصبات میں حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد پھر بھی شہریوں اور عوام ہی نے کرنا ہے ،شہری اگر رضا کارانہ طور پر ایسا نہ کریں اور ان میں احساس ذمہ داری نہ ہوا تو حکومتی انتظامات پھر بھی ادھورے اور نیم مئوثر ہی رہیں گے۔پاکستان کے عوام کو اس رویے پر فوری طور پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جس کا عام طور پر اور ہر سطح پر مظاہرہ کیاجارہا ہے۔ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں اس وقت جس قسم کی صورتحال ہے اس سے ہی ہمیں سبق سیکھنا چاہئے اور اپنی ذمہ داریوں کا خیال کرنا چاہئے۔وطن عزیز کا طبی نظام اور وسائل دونوں کی حالت اور کارکردگی کا عوام کو بخوبی علم ہے یہاں وینٹی لیٹرز کم اور آکسیجن کی ناپیدگی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ہسپتال بھر چکے ہیں اس کے بعد کی صورتحال کا خیال آتے ہی جھر جھری آتی ہے بھارت ہی نہیں امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی صورتحال شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے اس ساری صورتحال کے اعادے اور توجہ دلانے کا مقصود فقط یہ ہے کہ عام آدمی کو حالات کی سنگینی کا احساس دلایا جائے۔عام آدمی کو کیا ہر خاص وعام کومعلوم ہونا چاہئے کہ جس صورتحال کا اس وقت پاکستان کو سامنا ہے بالکل ایسی ہی صورتحال بھارت میں بھی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر رمضان اور عید کے موقع پر بندشوں پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تو اگلے ایک ماہ میں کیسز میں کمی آسکتی ہے اور اگر خدانخواستہ غفلت برتی گئی تو بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اب صورتحال کی بہتری کا واحد دارومدار کورونا ایس او پیز سے جڑا ہوا ہے جس کے ادراک اور عملدرآمد ہی میں بقاء ہے ایس اوپیز پر پوری طرح عملدرآمد ہونے کی شرط پر ماہرین بہتری کی توقع ضرور کر رہے ہیں لیکن ہسپتالوں پردبائو پھر بھی برقرار رہے گا۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں جہاں آخرت اور مغفرت کی فکر ہونی چاہئے اگر عوام اجتماعی خودکشی کے اقدامات اپنے ہاتھوں انجام دینے لگیں توحکومت کیا کرسکتی ہے عوام کو چاہئے کہ وہ رضا کارانہ طور پر عملدرآمد کر کے اچھے اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیں یہی ایک کارگر نسخہ ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ ہمارے ہاں دوہری مشکل یہ ہے کہ ایک جانب عوام احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتے اور دوسری جانب ویکسین کی فراہمی اور ویکسین لگانے کی رفتار بہت سست ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مشکل یہ ہے کہ ابھی تک اچھے خاصے باشعور افراد ویکسین لگوانے کیلئے تیار نہیں، معمول کی افواہیں اورخدشات ایک طرف یہاں بھی روایتی لاپرواہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیسٹ بھی کم تعداد میں ہورہے ہیں اور ویکسی نیشن کا عمل بھی سست ہے، انتظامات اور منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے اور عوام کی جانب سے عدم احتیاط کا تو تذکرہ ہی عبث ہے۔ حالات جو بھی ہوں ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے ویکسین لگانے کی تعداد میں فوری اضافہ ضروری ہے اور کوشش ہونی چاہئے کہ جتنا جلد شہریوں کی ویکسی نیشن ہوسکے اتنا اچھا ہوگا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس وباء سے بچائو کیلئے پولیو مہم کی طرز پرمہم چلائی جائے۔جب تک اس صورتحال سے ہم من حیث القوم نمٹنے کیلئے آمادہ نہیں ہوں گے، حکومتی اقدامات خواہ کتنے ہی مثالی کیوں نہ ہوں وباء پر قابو پانے کیلئے کافی نہیں ہوسکتے۔