2 549

ہائے افسوس صد افسوس

27مئی 2021ء کو ا قوام متحدہ کا ہیومن رائٹس کونسل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا یہ اجلاس فلسطین کے حوالے سے ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے ۔ اس اجلاس میں مائیکل لنک جو کہ فلسطین کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر ‘ ایلچی مقرر ہیں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے سامنے کوآرڈی نیشن کمیٹی آف سپیشل پروسیجرز (Coordination comitte of Special Procedure)کی جانب سے ایک مشترکہ رپورٹ پیش کی۔ یہ نہیں کہ یہ رپورٹ اپنی نوعیت کی واحد رپورٹ تھی اس لئے اس میں کوئی اچھنبے کی بات تھی ۔ اس سے پہلے بھی اس کمیٹی کے مختلف لوگوں نے ملتی جلتی نوعیت کی رپورٹس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کی ہیں۔ اس رپورٹ کی خاص بات اس رپورٹ کے آخر میں پیش کی گئی تجاویز ہیں فلسطین کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے اس رپورٹ کے آغاز میں ہی یہ بات واضح کر دی گئی کہ فلسطین کے حالات کی ابتری کوئی نئی بات نہیں یہ سب رہی ہے جو 1987 ,2000,2008-9,2012,2014, 2018,اور اس سے پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے ۔ اس رپورٹ میں ایڈورڈ سیڈ کی اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں اس نے فلسطین کے لوگوں کو مظلومین کے مظلوم(The victims Of victims) قرار دیا ہے ۔ گزشتہ چند مہینوں میں غزہ کی پٹی میں ہونے والے مظالم کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور اطراف کی صورتحال کا زخمیوں اور وفات پانے والوں کی تعداد کا احاطہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر بہت بری طرح ظلم ڈھا رہا ہے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”غزہ میں رہنے والے فلسطینی ایک انتہائی موقوف حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جسے خود اقوام متحدہ نے ناقابل بیان ‘ زندگی کے لئے غیر موزوں اور مشترکہ سزا کی ایک قسم بیان کیا ہے ۔ غزہ کو اکثر اوقات دنیا کا سب سے بڑا اوپن ایئرعقوبت خانہ بھی کہا جاتا ہے ۔ غزہ کے موازنے کے لئے دنیا میں کوئی دوسری ایسی جگہ موجود نہیں جہاں ایک بیرونی طاقت نے اس طور محاصرہ کر رکھا ہو اور ایک مکمل معاشرت کو یرغمال بنا رکھا ہو۔ جب غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کو بہیمانہ مظالم کا سامنا ہوتا ہے جو کہ اکثر ہوتا ہے تو ان کے پاس کوئی راہ فرار نہیں اور یہ سب گزشتہ چودہ سال سے انتہائی بربریت کے ساتھ مسلسل جاری وساری ہے ۔
اس رپورٹ میں 1967ء کے بعد سے مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادیوں کو ایک مکمل غیر قانونی آبادی قرار دیا گیا ہے اور اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ اقوام متحدہ کی بار بارکی سفارشات پر بھی اسرائیل کی جانب سے یہ گھنائونا جرم بند نہیں کیا گیا۔ حالیہ جھڑپوں میں 6800 فسلطینی زخمی جبکہ ان گنت کا جان گنوانے کا ذکر بھی اس رپورٹ میں موجود ہے ۔ رپورٹ کہتی ہے کہ فلسطینیوں کے مشترکہ مستقبل کو یہ اسرائیلی آبادیاں اقوام متحدہ کے سامنے نگل رہی ہیں اور عالم یہ ہے کہ یہ قبضہ آفات میں تبدیل ہوتا جارہا ہے یورپی یونین نے اسے ”غیرمساوی حقوق کی ریاست” قرار دے رکھا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے نسل کشی سمجھتی ہیں۔ فلسطین کے معاملے کو انصاف کا المیہ قرار دیا جاتا ہے ایک ایسا المیہ جسے اب احتساب کی ضرورت ہے ۔ اس رپورٹ میں گزشتہ تین رپورٹوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ ”تمام چار رپورٹس یہ سوال کرتی ہیں کہ آخر احتساب کہاں ہے” اور میں یہ سوال کرتی ہوں کیا کیا ہمارے پاس کافی ثبوت نہیں ‘ کافی رپورٹیں نہیں۔ اسرائیل اس وقت تک اپنا غاصبانہ قبضہ ختم نہ کرے گا جب تک کہ بین الاقوامی سخت اقدام نہ اٹھائے جائیں گے اور جن کی بنیاد انسانی حقوق کی زمین میں ہو گی” رپورٹ مزید کہتی ہے کہ ”صرف احتساب اور کڑا احتساب ہی اس زنداں کا دروازہ کھول سکتا ہے ”اس رپورٹ میں احتساب کی سفارشات میں ایک بہت اہم بات یہ کی گئی کہ اسرائیل کو مجبور کیا جانا چاہئے کہ وہ اس قبضے اور فلسطینی قوم کو مسلسل ہراساں کرنے کا ہرجانہ بھرے اگر انسانی حقوق کی کونسل احتساب کا یہ نظام رائج کرنے میں ناکام رہے تو پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس حوالے سے اقدامات کرے جس میں وہ ریاستیں جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتی ہیں اس بات کا اعلان کریں کہ وہ فلسطین کی مقبوضہ زمین پر اسرائیل کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتیں اور وہ ریاستیں اسرائیل سے نہ صرف سفارتی بلکہ تجارتی اور ہر دوسرے قسم کے معاہدوں اور تعلقات کے خاتمے کا اعلان کریں۔ ان ملکوں کے ادارے اور تجارتی کمپنیاں ہر قسم کی سرمایہ کاری کا خاتمہ کریں۔ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے باہمی دلچسپی کے معاملات کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے ۔ اسرائیل کی جانب سے ان ملکوں سے کسی قسم کی سیاحت کے لئے لوگ بالکل نہ جائیں۔ اسرائیل کی مصنوعات کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔ ایسے کئی اقدامات کی سفارشات پیش کی گئی ہیں اور یہ بھی عندیہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ ریاستیں اقدامات کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے اقدامات سے آگاہ کریں۔
میں اس رپورٹ کو پڑھتی رہی ۔ ان سفارشات کے حوالے سے غور کرتی رہی اور ذہن الجھتا رہا کہ فلسطینی مسلمانوں کی حالت پر اقوام متحدہ کے ہومن رائٹس کمیشن کے خصوصی ایلچی مائیکل لنک کا خون کھول رہا ہے اور ان مسلمان ملکوں کی فہرست کا کیا جو اسرائیل کو تسلیم بھی کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کے روابط کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں آخر یہ سب کیا ہے ۔ وہ امن کیلئے متحد ہونا چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک امریکہ کی خوشنودی اور تجارت کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کی جان کے سودے کر رہے ہیں ہائے افسوس صد افسوس۔