syed shakil ahmad 36

کچھ بھی بول دو

آزاد کشمیر اور سیالکو ٹ کے انتخابات کے بعد رنگ برنگ سیاسی تبصرے ، پیشن گوئیاں ،مخبریاں اور اندازے پھیل رہے ہیں یا پھیلائے جارہے ہیں ، بڑی شدت سے کہا جا رہا ہے کہ پے درپے دو انتخابی شکست کے بعد مسلم لیگ ن کا مستقبل اسود بینی کا شکا ر ہو گیا ہے اب سیا ست میں نو از شریف اورمریم نو از کا کرنیں بکھرنے والا سیا رہ سیا ہ راتو ں کا شکا ر ہو چلا ہے ،ایسی باتو ں کی معراج کیا ہے یا پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ سیا ست کی دوڑ میںشکست وجیت ایک لازمی جز و ہے پھر ایسی کیا انوکھی ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کا عروج یا اس کے دولیڈروں کا علم گمنامی کے سمندر میںڈوب چلا ہے اصل میں موجو دہ دور بھی میڈیا وار کا دور ہے ، مریم نو از کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شہر ت اور نا موری کے حصول میں بہت حریص ہو گئی ہیں اسی بنیا د پر انھو ں نے آزاد کشمیر کے انتخابات اپنے ہا تھ میں لیے ،اسی پس منظر میں یہ مہم جوئی کی جارہی ہے کہ نواز شریف کے خاندان کو سیا ست میںدو حصوں میں منقسم دیکھا یا جارہا ہے ۔ مریم نواز کو آزاد کشمیر کے انتخابی مہم کی ذمہ داری مسلم لیگ ن کی ایک مدّبر کمیٹی نے دی تھی جس میں مسلم لیگ ن کے اعلیٰ لیڈرشامل تھے اور اس کمیٹی کے اجلا س میں فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا تھا ، اس اتفاق رائے میں پا رٹی کے صدر شہباز شریف ، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی شامل تھے ، اس لیے خاندان کا سیا سی طورپر بٹوارہ چارلی چپلن کی ادائیں ہی قرار پا تی ہیں ، مسلم لیگ میں توڑ پھوڑ اگرچہ مسلم لیگ مخالف سیا سی جما عتوں کی آرزو بہت ہے مگر اس تو ڑ پھوڑ کی تمنا رکھنے والو ں نے اپنے قوت دار بازؤں کے ساتھ بڑی زورآزمائی کر دکھائی ہے نتیجہ وہی نکلا جو پرویز مشرف کی کا وشو ں کا تھا ، اب مسلم لیگ ن کا سیا سی مستقبل کیا ہوگا اس بارے میں مسلم لیگ کے قائد نو از شریف نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھیو ں کو اب صرف ایک بیانیہ پر ہی اپنی سیا سی تعمیر کرنا ہو گی ، اب کوئی دوسری بات نہیں ہو گی یہ پہلا مو قع ہے کہ نواز شریف نے اتنا دوٹوک موقف اختیا ر کیا ہے ، اس مو قف کے پیش نظریہ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ مسلم لیگ کوجو پہلے کا نٹوں پر چہل قدمی کررہی تھی اب وہ گھمبیر ترین کا نٹوں کی سیج پر دوڑنا ہو گا ، اقتدار کی دنیا میں مسلم لیگ ن کا راستہ اب آسان نہیں رہا ہے ، بلکہ صحافتی جو تشی کہہ رہے ہیں کہ مو لانا فضل الرّحما ن اور نو از شریف کی سیا ست سے بلا ول بھٹو خوب خوب مستفید ہو رہے ہیں ، سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں صاحب اقتدار وہی ہو تا ہے جس کے بارے میں یہ ضرب المثل ہے کہ سہاگن وہی کہلائے جس کو پیّا چاہے ، پّیا کس کو چاہے گا صحافتی جغادری کہتے ہیں کہ بلا ول بھٹو کے سیا سی جملہ بازی اصطلا م کادرجہ رکھتی ہے جس کا ثبوت وہ یہ دے رہے ہیں کہ انھوں نے آزادکشمیر کے انتخابات میں جس آسانی سے مہم چلائی اور اسی دوران وہ امریکا چلے گئے پھر بہت ہشا ش بشاش واپس پلٹے اس کے بعد ان کو گیارہ نشستیں ہا تھ لگ گئیں یہ ان کی سیا سی میدان میںکامیابی ہی قرار پاتی ہے ، بلا ول بھٹو زرداری کی پیشانی پر اقتدار کا چمکتا ستا رہ بھی دیکھتا نظرآرہا ہے ، پی پی کے چیئرمین آصف زرداری نے بھی ایک انٹرویو میں بڑی شد ومد کے ساتھ اظہار کیا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ بلا ول بھٹو کو وزیر اعظم کی کر سی پر براجمان دیکھ لو ں ، پی ڈی ایم کے ساتھ جو سیاست پی پی نے کھیلی وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پی ڈی ایم جو اب بے نا م ہو چکی ہے اس کی گمنامی کا نفع کس نے کمایا ، نفع کمانے والے ہی وارثین پا کستان کہلا تے ہیں اور بلاول بھٹوتو ان کے حسنین قرار پاتے ہیں ان سیا سی حالا ت میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حسن سیا ست سے آنکھ چرانا کفر سیا ست ہو گی ، ایک اہم ترین ادارے سے حال ہی میں ریٹائر ہو نے والے بڑے افسر نے اسلا م آباد کے سنیئر صحافیو ں کے ساتھ بیٹھک کی ، اس گپ شپ میں انھو ں نے انکشاف کیا کہ چاہے کوئی کتنا منظور نظر ہو فائل سب کی بنتی ہے اورکھلتی ہے ۔ ا ن کے مطا بق ایسی فائل بھی ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ سیا سی میدان میں یہ جو کہا جا تا ہے کہ فلا ں اتنے پرسنٹ ہے یہ فائل اس سے کہیں حیران کن پر سنٹ ہے ، ملنے والے صحافیوں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ مو صوف نے یہ بھی فرمایا کہ اس کی فکر وغائر نظر پاکستان سے نہیں بلکہ مغربی منظقہ سے ہو گی ۔ غالباًبہت سی باتیں مفروضوں پر مبنی ہو تی ہیں ، کہنے کو تو سکہ بند لو گ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی کا امکا ن رواں سال کے ما ہ دسمبر سے 2022ء اگست کے درمیانی عرصہ میں ممکن ہے ، اس مفروضے کی بنیا د کیا ہے اس بارے میں سیا سی اور صحافتی جغادری کو ٹھو س بات نہیں کر پا تے ، بلکہ بعض واقعات کو بنیا د بنا نے کی کو شش کر تے ہیں جو جو از کے زمرے میں نظر نہیں آتے ان میں سے ایک یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ قاضی فائز عیٰسی کے چیف جسٹس کے عہد ے پر فائز ہو نے سے قبل اس عمل کو مکمل کرنا غرض ہے جب استفسار کیا جا تا ہے کہ الیکشن سے قاضی فائز ایسا کا کیا لینا دینا ہے تو بغلیں جھانکتے ہیں ، الیکشن کر انا تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔ اور الیکشن کمیشن یہ ذمہ داری پوری کر رہا ہے حال ہی میں اس نے ڈسکہ اور سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے نبھا ئے ہیں اور کسی فریق کی جانب سے الیکشن کمیشن کی کارکر دگی پر انگلی بھی نہیں اٹھائی گئی ، موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے عوام پر جو اعتما د بحال کیا ہے اس کی نظیر ماضی کے کسی انتخابی عمل میں نظر نہیں آتی اور اب تک تما م سیا سی جما عتیں بھی موجو د ہ چئیر مین کی کارکر دگی پر اعتما د رکھتی ہیں پھر عدلیہ کے ایک معزز جج کے حوالے سے عام انتخابات کو نتھی کرنے کی تک سمجھ میں نہیں آتی ۔بہر حال پاکستانی سیا ست کا یہ المیہ ہے کہ منھ میں جو سما جائے وہ اگل دیا جائے جو من کرے وہ کہہ دیا جائے نئی نسل 2013ء سے سیا ست کے یہ ہی رنگ ڈھنگ دیکھ رہی ہے ، کہنے والا یہ جا نتایا سمجھتا ہے کہ آج تک زبان کس نے پکڑی ہے ۔جو کہنے میں باک محسو س کیا جائے ۔