افغانستان کے حالات اور ماہرین کی آرائ

15اگست2021کو افغانستان کی سرزمین پر ایک اور تاریخ رقم ہوئی۔ افغان طالبان نے جس آسانی اور بغیر خون خرابے کے تحت کابل پر قبضہ کیا۔ اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ سقوط کابل سے چند ہفتے پہلے افغان امور میں دلچسپی رکھنے والے تجزیہ نگار اور سیاستدان سارے اس بات پر متفق تھے کہ اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ پچھلے بیس سالوں میں امریکہ نے افغانستان میں دو ٹریلین ڈالرز کی کثیر سرمایہ کاری کی ہے۔ جس میں 85 ارب ڈالر صرف افغان آرمی کی بھرتیوں، تنخواہوں اور تربیت پر لگ چکے ہیں۔ لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ افغان آرمی ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تخت کابل پر قبضہ کرنا تو آسان ہے مگر حکومت کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ جس کی بڑی وجہ امن و امان کی صورت حال، معاشی مشکلات اور اقوام عالم کیساتھ تعلقات کی بحالی ہے۔ ان ہی سوالات اور مستقبل میں ممکنہ حکومت کے قیام اور خطے پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں 26 اگست کو ایک گول میز کانفرس کا انعقاد کیا گیا جس میں سابقہ سفیر رستم شاہ مہمند، سابقہ وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمت حیات خان، ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سینٹر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خان، چئیرمن شعبہ آئی آر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی، کرنل فضل واحد اور کرنل اشفاق خان نے اپنے مقالات پیش کئے۔ کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر شبیراحمد خان نے کہا کہ افغان طالبان کی آزمائش کا دور اب شروع ہوگیا ہے۔ کیونکہ اب تک تو وہ حالت جنگ میں تھے لیکن حکومت ملنے کے بعد اب ان کو امن و امان کی بحالی، اداروں کی بحالی، معاشی مشکلات، عوام اور عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جو افغانسان کے ساتھ 2600 کلو میٹر لمبی سرحد رکھتا ہے وہاں کے حالات سے بے خبراور لاتعلق نہیں رہ سکتا اور انکے ساتھ اچھے اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ سابقہ سفیر رستم شاہ مہمند نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ اور افغان حکومت کی ناکامی کی اصل وجہ وہاں پر موجود بداعتمادی، کرپشن اور موقع پرست انتظامیہ تھی جو طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور کابل پر قبضہ سے روز روشن کیطرح عیاں ہوگئی۔ اسی لئے افغان آرمی نے بھی ان کے لئے جاں دینے کی بجائے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بین الافغان مذاکرات اور مخلوط حکومت بنانے پر زور دیا۔ ڈاکٹر عظمت حیات خان نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی ان کی انٹیلی جنس کی وجہ سے نہیں بلکہ وہاں کے معاشرتی نظام اور ثقافت کو نا سمجھنے کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ افغان طالبان عصری علوم کی کمی کی وجہ سے حکومت چلانے کے اہل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان وقت کے امتحانات اور سختیوں کو سہتے ہوئے کافی بدل چکے ہیں اور اب وہ عورتوں کو تعلیم اور دیگر معاشرتی حقوق دینے کے حق میں ہیں۔ ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے کہا کہ اشرف غنی نے اپنے دور حکومت میں جو سب سے بڑی غلطی کی وہ اپنے ہمسایوں کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کیساتھ تعلقات استوار کرنا تھے۔ طالبان کو اپنے ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیے اور خطے کے معاشی منصوبوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے کا مستقبل عالمی معاشی منصوبوں بی آر آئی اور سی پیک سے وابستہ ہے جس کے لئے افغانستان کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔کرنل فضل محمود نے اپنے خطاب میں مخلوط حکومت کی مخالفت کی اور کہا کہ کابل میں کبھی بھی مخلوط حکومت کامیاب نہیں رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مثبت کردار پر زور دیا اور کہا کہ افغانستان میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی کمی کے خدشات ہیں اسلئے پاکستان کو نہ صرف ہمسائے بلکہ ایک برادر اسلامی ملک کی حثیت سے اچھا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کانفرس کے آخری مبصر کرنل اشفاق خان نے کہا کہ افغان طالبان کو وہاں کے غریب اور بدامنی سے تباہ حال عوام کی خاطر ملک کے امن و امان اور خوشحالی کی طرف قدم اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک پرامن افغانستان کے حق میں ہیں۔ کانفرس کی اختتامی سیشن میں شرکا کی طرف سے سوالات بھی ہوئے اور کافی سیر حاصل گفتگو کے بعد سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پرامن افغانستان ہی اس خطے کی معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت ہے۔یہاں پر میں ایک بات کا اضافہ کرکے قارئین کے علم میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ ازبکستان جو وسطی ایشیا کا سب سے اہم ملک ہے جو تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہے وہ ریلوے لائن کے ذریعے سی پیک میں شمولیت کا خواہاں ہے یعنی ترمیز سے پشاور تک براستہ افغانستان یہ ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔ لیکن وہی بات جو اس تحریر میں ذکر ہوئی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا تو یہ سارے منصوبے کامیاب ہونگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے لئے خطے کے سارے ممالک عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ افغانستان کو مستقبل میں خانہ جنگی سے بچایا جاسکے۔