کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج کے مطابق حکومت پی ٹی آئی نے ملک بھرمیں 63 نون لیگ نے 58 پیپلز پارٹی نے 17نشستیں حاصل کیں۔ 58 نشستوں پر آزاد امیدوار جیتے ’10 ایم کیو ایم ‘ سات پر جماعت اسلامی ‘ اے این پی اور بی اے پی نے دو دو نشستیں جیتیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب ‘ بلوچستان اور سرائیکی وسیب سے کوئی نشست نہ جیت پائی ۔ اتوار کی شب چند جیالوں اور جیالیوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ملتان اوربہاولپور میں جیتنے والے پی پی پی کے حمایت یافتہ ہیں۔ کچھ نے وہی پرانے دکھڑے سنائے ۔ جنرل ضیاء کے دور میں بنایا گیا ماحول اب بھی کنٹونمنٹ کے علاقوں میں موجود ہے ۔ پی پی نے 17میں سے تین نشستیں خیبر پختونخوا سے حاصل کی۔ ایک ایبٹ آباد سے اور دو پشاور ‘ پشاور سے البتہ پی ٹی آئی صاف ہوئی ۔ لاہور ‘ راولپنڈی اور سیالکوٹ میں نون لیگ واضح برتری سے جیتی ۔ ملتان میں اسے ایک نشست ملی ‘ باقی کے نو امیدوار آزاد تھے ۔ ان کے حوالے سے دو دعویدار ہیں اولاً فواد چوہدری اور ثانیاً پیپلز پارٹی کہ یہ ہمارے ہیں۔سیاسی جماعتیں کارکنوں کے بل بوتے پرآگے بڑھتی ہیں عقیدت مندوں ‘ تعلق داروں اور انوسٹروں کی وجہ سے ہر گز نہیں ۔ اس طرح محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہمیں آج بھی ضیائی ماحول کا سامنا ہے ۔تنظیمی عمل 2008ء سے تو مکمل طور پر نظر انداز ہے دوسری جماعتوں کی طرح نامزدگیوں سے کام چلایا جا رہا ہے ہر سطح کے عہدیدار نامزد ہوتے ہیں ذیلی تنظیموں تک کے ۔ ایسے میں دعویداریاں تو ہوتی ہیں حقیقت کچھ نہیں۔ پنجاب میں ہی سہی نون لیگ نے ایک بار پھر اپنا سیاسی وجود ثابت کر دیا۔ اب آپ یہ کہیں کہ جیسے پی ٹی آئی کو 2018ء میں قبضہ دلایا گیا ویسے اب نون لیگ کو کنٹونمنٹ بورڈز میں قبضہ دلوایا گیا ہے تو لوگ آپ کی ذہنی حالت پر ہنسیں گے حکمران پی ٹی آئی کی63 نشستیں غیرمتوقع ہیں وجہ روز مرہ کے مسائل ہیں جو حل ہونے کے باوجود ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ پھر بھی متعدد بورڈز میں اس کی کارکردگی اچھی رہی۔ یہ کارکردگی اگر دھاندلی اور ”تعاون” کی بدولت ہے تو مخالفین کیسے جیت پائے؟۔
کراچی میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی بہتر رہی پچھلے الیکشن میں اس کے پاس کنٹونمنٹ کی چار نشستیں تھیں اس بار گیارہ ہیں۔ ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی ٹی آئی بھی موجود ہیں بلکہ کراچی میں پی ٹی آئی کے چودہ امیدوار جیتنے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ محدود علاقوں پر مشتمل کنونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج ملکی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوتے یہ الگ ہی دنیا ہے لیکن چونکہ یہ انتخابات سیاسی بنیادوں پر ہوئے یں اس لئے سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کو ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنا ہو گا اس طرح اے این پی کے ذمہ داران کو بھی غور و فکر کرنا چاہئے ۔ پچھلی شب سے سوشل میڈیا پر پھبتیاں کسی جارہی ہیں ایسی ایسی تاویلات پیش کی جارہی ہیں اگر ہٹلر کا وزیر اطلاعات گوئبلز ان تاویلات کو جان پاتا تو ان تاویل پسندوں کی شاگردی میں آبیٹھتا ۔ پنجاب میں نون لیگ نے جماعتی سطح پر کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کو سنجیدگی سے لیا کیونکہ یہ اس کا بیس کیمپ ہے ۔ پی ٹی آئی نے جماعتی حکمت عملی سے زیادہ حکومت میں ہونے کے تاثر کو کیش کروایا صوبائی سطح پر اس کی کارکردگی بری ہرگز نہیں ۔ البتہ جو پشاور میں ہوا وہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے ۔خیبر پختونخوا میں پچھلے آٹھ برسوں سے پی ٹی آئی کا راج ہے ۔اس راج کا طلسم بکھررہا ہے کیوں؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ناقص کارکردگی کیساتھ وہ مسائل ہیں جو لوگوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں ۔2018ء کے انتخابی نتائج میں سے ذرا کنٹونمنٹ کے صوبائی اور قومی حلقوں کے نتائج نکال کر دیکھ لیجئے ۔ مزید وضاحت کے ساتھ جواز ان انتخابات میں پی ٹی آئی کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ لے پائی تھی۔ اب کیا ہوا یہ اس کی قیادت کو سوچنا ہے ۔ کھلے دل سے یہ بات ماننا ہو گی کہ نون لیگ نے وسطی پنجاب میں اور خصوصاً راولپنڈی ‘ لاہور اور سیالکوٹ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لاہور اس کی طاقت کا مرکز ہے نتیجہ تقریباً یہی ہونا چاہئے تھا ۔ پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر وسطی پنجاب قمر زمان کائرہ اور دوسرے عہدیداران نے اپنے عہدوں کے عرصے میں پی پی پی کو منظم کرنے کی بجائے دانشوری پر گزارا کیا۔ سیاست اور خصوصاً عوامی سیاست کے تقاضے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے حالیہ انتخابی نتائج نے سرائیکی وسیب میں منعقد ہونے والے پی پی پی کے حالیہ ورکرز کنونشنوں ‘ جلسوں ریلیوں سے بنی فضا کو متاثر کیا۔ خیر چھوڑیں اس سے زیادہ عرض کرنے میں امر مانع بھی ہے وہ یہ کہ سیاسی جماعتیں اگر تجزیہ نہ کرناچاہیں تو آپ زبردستی انہیں اس راہ پر نہیں ڈال سکتے ۔ بہاولپور کا نتیجہ دلچسپ ہے یہاں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا پورا پینل بری طرح شکست سے دوچار ہوا ان سے ناراض اور ان کے متاثرین دونوں طرح کے لوگوں نے اپنا وزن چیمہ گروپ کے مخالفین کے پلڑے میں ڈالا۔ ملتان وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیر مملکت عامر ڈوگر کا آبائی شہر ہے اس شہر کے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابی نتائج کی حقیقت دو چند ہے ان لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا جو یہ کہتے ہیں یہاں پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی تھی یعنی جس کو ٹکٹ نہیں ملا وہ آزاد حیثیت میں جیت گیا ایسا ہے تو ٹکٹیں تقسیم کرنے والوں کو قلعہ کہنہ قاسم باغ کے دورے پر کان پکڑوانا چاہیں۔41 کنٹونمنٹ بورڈز کے 218 حلقوں میں اتوار کوکانٹے دار مقابلے ہوئے ۔ ماضی کی روایات کو دیکھیں تو حکمران گروپ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائے گا کامیاب آزاد امیدواروں کی ترجیح بھی ہمیشہ حکومتی جماعت ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومتی گروپ میں شامل نہیں ہوتے تو اپنے حلقوں میں کام نہیں کروا سکیں گے ۔ بہر طور اتوار کو منعقد ہوئے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات اور نتائج مجموعی طور پر بہت زیادہ حیران کن ہرگز نہیں ۔ آخری بات یہ ہے کہ جنہیں پنجاب اور سرائیکی وسیب سے امیدوارو نہیں ملے انہیں دوسروں پر پھبتیاں کسنے کی بجائے اپنی تنظیمی اور سیاسی کمزوریوں پر غور و فکر کرنا چاہئے۔