حکومتی اقدامات کو مؤثر بنانے کے تقاضے

ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اقدامات کے تحت ملک بھر کے مساجد میں نماز کو محدود اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر سندھ حکومت نے با مرمجبوری پابندی عائد کردی ہے جامعہ ازہر نے مساجد میں نماز کی ادائیگی موقوف کرنے کا باقاعدہ فتویٰ جاری کردیا ہے۔ جید علمائے کرام وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مسجد میں باجماعت نماز کی بجائے گھر پر نماز کی ادائیگی کو احسن قرار دے رہے ہیں اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ جتنا جلد سے جلد ہوسکے اس وباء کے پھیلاؤ کی راہیں مسدود کرکے اس پر قابو پالیا جائے اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جانوں کا تحفظ کیا جائے۔ مسلمانوں کے قبلہ اور سب سے محترم مقام خانہ کعبہ اور مسجد نبویۖکی بندش کوئی عام واقعہ نہیں اور نہ ہی مساجد میں نماز باجماعت کو موقوف کرنا کوئی معمولی بات ہے، دنیا کے کئی ممالک میں نمازوں سمیت دیگر اجتماعات پر پابندی اور میل جول میں فاصلہ اور اس سے حتی الوسع گریز کا بنیادی مقصد تحفظ انسان اور انسانیت ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاک ڈاؤن، پابندیوں اور تعطیلات کے اعلان کے ذریعے شہریوں کو اس وباء سے محفوظ رکھنے کا جو اقدام اُٹھایا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں جہاں حکومتی سطح پر اقدامات میں ابھی کمی اور ضروری انتظامات بالخصوص طبی ساز وسامان کی فراہمی قرنطینہ میں سہولیات کا فقدان جیسے امور شامل ہیں، اس میں حکومتی مجبوریوں کا عمل دخل ہو یا دیگر وجوہات ہوں اس سے قطع نظر لوگوں کو محدود کرنے اور اجتماعات پر پابندی کے عمل کو موثر طریقے سے لاگو نہ کرنے سے وہ سارا عمل ہی لاحاصل ہونے کا خدشہ ہے جس کے باعث کاروبار اور روزگار معطل ہوچکے ہیں، لوگوںکو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے نمائندوں کے مطابق صوبہ بھر میں حکومتی اقدامات پر عملدرآمد نہ ہونے سے نہ صرف اس کے مثبت اثرات پر فرق پڑ رہا ہے بلکہ میل جول اور نقل وحمل محدود کرنے کی کوشش رائیگاں جانے کا خدشہ ہے۔ سفری سہولیات میں کمی کے باوجود لوگوں کی آمد ورفت کسی نہ کسی طور جاری ہے جن کی سکریننگ کا بندوبست نہ ہونے سے کورونا کی منتقلی کے خدشات ہیں۔ سوات میں داخل ہونے والوں کی سکریننگ کیلئے لنڈا کے چیک پوسٹ پر کوئی انتظام نہیں، اسی طرح بنوں میں میلہ منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، اسی طرح صوبائی دارالحکومت پشاور میں لوگوں نے تعطیلات اور پابندی کے دورانئے کو باہر نکل کر سیر وتفریح، پارکوں اور کھیلوں کے اجتماعات، قہوہ خانوں اور حجروں میں گپ شپ کا سنہری موقع جان رکھا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں سوائے شہر کی مرکزی شاہراہ کے کسی اور جگہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے پابندی کی ہدایات پر عملدرآمد کی سعی نظر نہیں آتی۔ شہر کے نسبتاً جدید اور بہتر رہائشی سہولیات کے حامل علاقوں میں لوگوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے لیکن جن علاقوں میں سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے وہاں پر صورتحال ایسی نہیں کہ وبائی وائرس کی منتقلی کے عمل کو ختم یا بہت سست کیا جا سکے۔ اسے خوش قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ اس قدرغفلت کے باوجود بھی وائرس کا پھیلاؤ اور زیادہ افراد کے متاثر ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں لیکن صورتحال کے تناظر میں اس بات کا خطرہ بہرحال دکھائی دیتا ہے کہ اگر شہریوں کے عدم تعاون اور غفلت کا یہی وتیرہ رہا تو خدانخواستہ صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ کاروبار کی بندش اور سرکاری ونجی عملے کو تعطیلات روزمرہ، اُجرت کے حامل افراد کو بری طرح متاثر کرنے کی بھاری قیمت کے باوجود بھی اگر مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہ ہوسکا تو یہ دوہرے نقصان کا باعث امر ہوگا جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کی اصابت سے اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن ان اقدامات کے ادھورے پن کی بھی گنجائش نہیں۔ ان اقدامات کی کامیابی عملدرآمد سے مشروط ہے اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر سندھ کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کا طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پڑے گی اور ممکن ہے ایسا کرتے ہوئے اس امر کا بھی احساس ہو کہ بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ صوبائی حکومت کو مساجد میں نماز باجماعت کو موقوف کرنے کے حوالے سے بھی علمائے کرام سے مشاورت کے بعد جلد فیصلہ کرلینا چاہئے۔ ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی اور دارالعلوم کراچی کے درالافتاء کے فتویٰ کے بعد ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں، حکومت عوام کے تحفظ کیلئے اقدامات اُٹھا سکتی ہے۔ اس کی شرع میں گنجائش اور حکومت کے مجاز ہونے میں دو رائے نہیں، پہلے مرحلے میں جید علمائے کرام کی رائے ہی کو عوام کے سامنے رکھا جائے اور اس کی تشہیر کے ذریعے ذہن سازی کی جائے تو لوگوں کو اسے اختیار کرنے میں تردد نہ ہوگا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اب گھروں پر نماز پڑھنے لگی ہے اور جو لوگ مساجد جاتے ہیں وہ بھی خوف اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں، ان کی مناسب رہنمائی کی جائے اور انسانی جانوں کے تحفظ اور دوسروں کیلئے خطرے کا سبب بننے کے عمل کی طرف ان کو متوجہ کیا جائے تو ان کیلئے اسے قبول کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وباء کی روک تھام کیلئے درجہ بدرجہ اقدامات مؤثر ہوں تو سختی اختیار کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، البتہ اس عمل کا احتیاط سے جائزہ لینے اور بروقت اگلا قدم اُٹھانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ جس قدر سنجیدہ اور سخت اقدامات اختیار کئے جائیں گے اور عوام تعاون کریں گے اس کے نتائج جلد سامنے آنے سے حفاظت اور کم وقت میں صورتحال پر قابو پایا جا سکے گا۔