رحمت اللعالمین اتھار ٹی کا قیام، مقصود کیا ہے؟

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے رحمت اللعالمین اتھا رٹی کے قیام کا آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ یہ اتھارٹی دنیا میں اسلام کا اصل تشخص اجاگر کرنے کیلئے اقدامات اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی روک تھام، اعتدال اور میانہ روی کے رجحان کو بڑھانے کیلئے کام کرے گی ۔ اسکے علاوہ اتھارٹی نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے سیرت نبویۖ اور احادیث پر تحقیق کرے گی اور سیرت نبویۖ کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے متعلقہ ماہرین سے مشاورت کرے گی۔ علاوہ ازیں اتھارٹی کے قیام کا مقصد عالمی سطح پر اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنا اور حضورۖ کی زندگی کے اہم اسباق کی تشہیر و تبلیغ بھی ہے۔وزیراعظم اس اتھارٹی کے سرپرست اعلیٰ ہوںگے۔ اس اتھارٹی کے چیئرمین عالمی سطح کے مانے ہوئے مذہبی سکالر ہونگے۔ چیئرمین کے علاوہ اس کے چھ ممبران ہونگے جو سیرت کے معاملات میں اعلیٰ شہرت وقابلیت کے حامل ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ رحمت اللعالمینۖ سرور کائنات ، فخر موجودات کی زندگی ہمارے لئے سراسر مشعل راہ اور سرچشمہ ہدایت ہے ۔
رحمت اللعاملینۖ کی زندگی کا ہر گوشہ سراپا رحمت ہے ۔ اسی اعتبار سے اس اتھارٹی کا مقصد بھی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہونا چاہئے۔ اس اتھا رٹی کے قیام کا مقصد محض نوجوانوں کی اصلاح، جنسی جرائم کی روک تھام، نصاب اور سیرت کے حوالے سے تعلیم و تعلم پر مبنی ایک لائبریری کے قیام تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ اتھارٹی سیاسی ، سماجی اورمعاشی اعتبارات سے بھی ان تمام سفارشات کا جائزہ لینے کی مجاز ہو جو عدل وقسط پر مبنی ایک صالح معاشرے کے قیام کیلئے سامنے لائی جائیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے ۔ محمد عربیۖ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا کہ وہ نظام عدل اجتماعی کو کل کے کل نظام زندگی پر اس طرح غالب کردیں کہ کوئی گوشہ زندگی اس سے مستثنیٰ نہ رہیں۔ خواہ وہ انفرادی زندگی ہو جو عقائد وعبادات اور رسومات سے عبارت ہے یا اجتماعی زندگی ہو جو کسی معاشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا احاطہ کرتی ہے۔دنیا میں اب تک دو بڑے انقلابات آئے ہیں۔ انقلاب فرانس میں سیاسی نظام کو تبدیل کیا گیا لیکن باقی نظام زندگی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آئی، اسی طرح انقلاب روس میں انسان کے بنائے ہوئے فلسفوں کے ذریعے معاشی نظام کو تبدیل کردیا گیا لیکن باقی نظام ہائے زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ یہ نظام صرف سات دہائیوں تک ہی چل کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ حضورۖ نے تاریخ انسانی کا ایک ایسا عظیم اور ہمہ گیرانقلاب برپا کیا جس نے انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
حضور کے لائے ہوئے انقلاب نے ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو بھائی بھائی بنادیا۔ امیوں کو معلم بنادیا، رہزنوں کو رہبر بنادیا۔ اسی داعی برحق کے پیروکاروں نے دنیا کو تہذیب سکھایا۔ انہوں نے دنیا کو سکھایا کہ سیاست کیسے کی جاتی ہے، عدل وانصاف کیا ہوتا ہے۔ ایک متوازن معاشی نظام کیسے قائم کی جاتی ہے۔ ایک حقیقی فلاحی معاشرہ کسے کہتے ہیں ۔ اور ان سب کو عملا قائم کرکے دکھایا ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم امت کے ہادی و مربی ہیں وہ سیاست کے میدان کے شہسوار ہیں تو ایک مدبر اور کامیاب سپہ سالار بھی تھے۔ وہ معلم بھی ہیں تو ایک کامیاب سفارتکار بھی۔ وہ ماہر معیشت بھی تھے اور طبیب بھی۔وہ داعی انقلاب بھی تھے اور امن کا مدرس بھی ۔ عدل انصاف کے علمبردار بھی
تھے اور مساوات کامجسم نمونہ بھی ۔ دیانت و امانت کا ایک بہترین نمونہ بھی تھے اور ایفائے عہد کا پیکر بھی۔وہ ایک مہربان شوہر بھی تھے اور ایک شفیق باپ بھی۔ایک مہربان دوست بھی تھے اور ایک غمگسار ہمسایہ بھی۔عرض ان کی پوری زندگی ایک کھلی کتا ب ہے جس میں ہر ہر قدم پر ہمارے لئے رہنمائی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم داعی انقلاب کے بتائے ہوئے ان زریں اصولوں کو چھوڑ کر کبھی سوشلزم ،کمیونزم اور کیپیٹلزم میں اپنے لئے جائے پناہ ڈھونڈتے ہیں اور کبھی مغربی تہذیب کے لبادے اوڑھ کرسیاسی اور معاشی میدان میں کامیابی کو تلاش کر رہے ہیں۔ہم رحمت اللعالمینۖ سے منصوب محض ایک اتھارٹی کے قیام سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا ثبوت نہیں دے سکتے۔ ریاست مدینہ صرف باتوں سے نہیں بنے گی۔ ہمیں اپنی سیاست، معیشت، عدالت، سماج اور تمدن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اور اس کیلئے ہمیں رہنمائی مغرب زدہ آئین ودستور سے نہیں ملے گی بلکہ قرآن و حدیث سے ملے گی۔آج ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اصل دستور اور آئین یعنی قرآن کو بالائے تاک رکھ کر مغرب کی اندھی تقلید شروع کررکھی ہے۔آج اگر ہم نے دنیا میں ایک باوقار قوم بننا ہے تو ہمیں اپنے سیاسی، معاشی، عدالتی اور سماجی نظام کو درست کرنے کیلئے رہنمائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ملے گی۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ قرآن وسنت اور سیرت طیبہ کی روشنی میں ہمارے معاشرے میں موجود معاشی ناہمواریوں کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے، عدالتی نظام میں موجود سقم کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے، سیاسی میدان میں ریاست مدینہ کے رہنما اصولوں سے رہنمائی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کے کیا قابل عمل حل ہوسکتے ہیں۔