بہ عشقِ محمدصلی اللہ علیہ وسلم رقیبِ خدا یم

ربیع الاول کے مہینہ کی فضیلت یہ ہے کہ اس میں وہ آفتا بِ ہدایت طلوع ہواجس نے عالم انسانیت کے گوشے گوشے کو منور کیا اور جس کی روشنی سے یہ جہاں ہمیشہ روشن رہے گا۔ پروردگار نے اسی افضل ماہ میں آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دُنیا میں معبوث فرمایا۔آپۖ کی آمد کو اللہ نے ہم سب پر احسانِ عظیم ٹھہرایا۔تاریکی میں ڈوبی ہوئی انسانی زندگی کو روشنی بخش دی، انسانیت کا مقدر بدل ڈالا، عقائد و افکار،معاشرت و معیشت، تعلیم و تربیت اور سماج میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے محبت کے جس قدر اسباب بنائے،وہ سب اپنے محبوب کی ذات میں یکجا کردیئے۔جونہی ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے توعاشقانِ رسول جھوم اُٹھتے ہیں ۔قریہ قریہ درود و سلام اور پُر تاثیر صدائیںسماعتوں میں رس گھولتی ہیں۔ آپۖ سے سچی اور حقیقی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے شب وروز اسوہ حسنہ میں بسر ہوں۔آیتِ قرآنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ذکر ہے ۔ اللہ نے جب آپ ۖ کو اپنا محبوب بنایا تو پھر آپۖ کی اتباع کرنے والا بھی اللہ کی نظر میں محبوب شمار ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور استعارہ سراجاً منیر(سورہ الاحزاب) قرار دیا ہے۔یعنی عشقِ الٰہی کے شعلہ سے ایک ایسی روشن قندیلِ نبوت جو ہماری زندگی کے ہر معاملہ میں راہِ ہدایت پر چلنے کے لیے روشن کر دی گئی۔سورہ الاحزاب کی آیت ہے کہ” تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھلا نمونہ رکھ دیا گیا ہے ۔” یعنی ہماری نجات کا دار و مدار اس بات پہ آ ٹھہرا کہ آدمی نے خدا کے ماننے ، اس کے دین پر کاربند ہونے اور اس کی کتاب کے قانون کی اطاعت کرنے میںرسول اللہ کے پیش کردہ اسلوب اور نمونہ سے کہاں تک استفادہ کیا ہے۔ اُسوہ حسنہ ہی سے انسانی زندگی تما م شعبوں میں اب تک راہنمائی حاصل کرتی رہی ہے۔ عہدِ رسالت میں جو تعمیری انقلاب ٢٣ برس کے عرصہ میں آیا وہ آپۖ ہی کے اسوہ حسنہ کا صدقہ ہے اور اُسوہ حسنہ کے اتباع کی پہلی شرط آپۖ سے محبت ہے،جس کے بغیر اتباع کا تصور ہی محال ہے۔ تاریخ نے حضور ۖ کے اُسوہ حَسنہ کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا۔ اُسوہ حَسنہ کی پیروی ہی سے مذہبی،ذہنی، فکری، تہذیبی ،سیاسی اور معاشی انقلاب آسکتا ہے ۔ سورہ القلم میں یہ ارشاد ہوا
کہ” اے حبیبۖ آپ بے شک اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں۔”آپۖ اپنی اُمت کے لیے نمونہ ہیں تو اب اس اُمت کو اقوام عالم کے لیے وہی کچھ بننا ہے ،لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے،راست بازی اور صداقت کو عزیز رکھنا ہے، علم سے مالا مال ہونا،اعتمادِ الٰہی کو خزانہ بنانا اور دوسروں سے مانگنے کی بجائے حاجت مندوں کی امداد کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے۔ ہمیں اپنی طرف دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر کیا ہم اللہ کے محبوب کی سیرت پر عمل پیرا ہیں؟تاریخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ اقدس کے اہم واقعات ہی نہیں بلکہ جُزئیات تک کا ذکر ملتا ہے حتیٰ کہ اُٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے بات چیت کرنے کھانے پینے اور رہنے سہنے کی ایک ایک ادا کو بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔صوم و صلوٰة سے میدانِ جنگ تک ہر عمل صحابہ کرام نے سنتِ نبوی کی پیروی کے لیے نمونہ بنایا کیونکہ اسی پیروی میں زندگی کا بلند ترین نصب العین موجود ہے۔آپۖ نے اللہ اور بندوں کے درمیان اس حقیقی تعلق کو واضح کیا جو رضائے الٰہی کا موجب بنتا ہے اور اللہ کی رضا رحمت کا سبب بنتی ہے۔ آپۖ نے حجة الوداع کے تاریخی خطبہ میں معاشرتی،سماجی اور سیاسی ضابطہ حیات کے اصول وضع کر کے انسان کو آبرومندانہ زندگی بسر کرنے کے قابل بنا دیا۔ صحابہ کرام نے عشقِ محمدۖ میں اصلاح احوال کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ اس تناظر میں ہمیں اپنے اندرونی احساسات کو بھی پرکھنا ہوگا وگرنہ ہمارے ظاہری معمولات نے تو ہمیں بے نقاب کر رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بلال مدینہ چھوڑ کر دمشق چلے گئے۔ ایک مرتبہ حضورۖ خواب میں آئے اور فرمایا ”بلال تم نے مجھے تکلیف دی، میرا پڑوس چھوڑ دیا اور مجھے ملنے نہ آئے۔”
حضرت بلال مدینہ آئے ۔یہ ظہر کا وقت تھا اور اُسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں عہدِ رسالت میں اذان دیا کرتے تھے۔ مدینہ کے لوگ ان کی آواز پہچانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُنہوں نے مدینہ کیوں چھوڑا۔ جونہی بلال نے ‘اللہ اکبر’ کہا ،لوگ بے تابی سے باہر نکل آئے۔ اُنہیں خیال ہوا جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار پھر اُن کے درمیان موجود ہوں۔ اذان ختم ہوئی تو حضرت بلال لوگوں سے مخاطب ہوئے ” میرے دوستو! تمہارے لیے خوشخبری ہے ،جو آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں اشک بار ہوئیں وہ جہنم کی آگ سے محفوظ ہو گئیں۔”
قارئین کرام ! ایک مسلمان اس سے بڑھ کر کیا تمنا کرسکتا ہے جو فارسی کے شاعر عطاء اللہ خان عطا اپنے اس شعر میں کہہ گئے ہیں کہ
چہ شد گر بچشمِ جہاں بے نوا یم
بہ عشقِ محمدۖ رقیبِ خدا یم
٭٭٭