تراش از تیشۂ خود جادۂ خویش

صورتحال اس مصرعے کی سی تو نہیں ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بہ نام وطن ‘ مگر اسی طرز پر یہ کہاجا سکتا ہے کہ ہم جو وقفے وقفے سے دبے الفاظ میں توجہ دلاتے رہے ہیں یعنی کبھی بہ حیلہ پٹرول کبھی بہ نام بجلی و گیس تو بالآخر اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ‘ کیونکہ یہ جو اب تنگ آمد بہ جنگ آمد عوام کی چیخ و پکار سن کر سیاسی جماعتوں نے بھی مہنگائی کے خلاف اپنے اپنے طور پر شہر شہر احتجاج کا ڈول ڈال دیا ہے ‘ تو حکومت کا یہ اعلان اب کوئی معنی نہیں رکھتا کہ ”حکومت مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کی تکلیف سے آگاہ ہے ‘ اور وزیر اعظم فرما رہے ہیں کہ مختلف پروگرامز کے ذریعے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں”وغیرہ وغیرہ ‘ کیونکہ پہلے مہنگائی میں اضافہ کیا جائے پٹرولیم ‘ بجلی ‘ گیس کے نرخ آئی ایم ایف کے حکم پر بڑھا کر عوام کی چیخیں نکالی جائیں ‘ اس کے بعد ریلیف کی باتیں کی جائیں ‘ تو عام حوالوں سے اسے طفل تسلیاں کہا جاتا ہے ‘ یا پھر اسے لالی پاپ سے تشبیہ دی جاتی ہے ‘ یا بچوں کے ہاتھوں میں جھنجھنا قرار دیا جاسکتا ہے یعنی ہمارا اپنا ہی شعر اس صورتحال پر منتطبق ہوتا ہے کہ
وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں
ہمارے ہاتھ میں پھر جھنجھنے ہوں
مگر کیا کیا جائے کہ اب لالی پاپ سے عوام بہل سکتے ہیں نہ دیگر مسائل ابھارنے سے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے ‘ سیانوں نے بہت پہلے کہا تھا کہ مصر کی معیشت کو زمین بوس کرنے والے رضا باقر کو آئی ایم ایف نے پاکستان کو انہی حالات سے دو چار کرنے کے لئے مسلط کر دیا ہے ‘ اوپر سے موصوف کو ”قانون سازی” کے ذریعے اتنے اختیارات سونپے گئے کہ کوئی اس کے اقدامات پر نہ سوال اٹھا سکتا ہے نہ ان اقدامات کو روک سکتے ہیں اب موصوف نے ڈالر کی اونچی اڑان پر جو تبصرہ فرمایا ہے اسے پاکستان کے زخم زخم معاشی صورتحال پر نمک پاشی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو فائدہ ہو رہا ہے ‘ اور وہ اپنے پیاروں کو جو رقوم باہر سے بھیجیں گے ان کے بدلے پہلے سے زیادہ رقم ملے گی۔ سبحان اللہ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں۔ چند لاکھ افراد تو یقینا خوش ہوں گے مگر یہ جو باقی کے کروڑوں کی چیخیں نکل رہی ہیں ان میں پوشیدہ فریاد اگر عرش معلیٰ میں اذن باریابی ملی تو تیرا کیا بنے گا؟؟ والی صورتحال پر کون قابو پائے گا؟ نون لیگ کے خواجہ آصف نے بھی تو یہی کہا ہے کہ رضا باقر نے مصر کا بیڑا بٹھایا ‘ اب پاکستان کی باری ہے ‘ ایک اور سوال بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ امریکہ اور آئی ایم ایف کیا چاہتے ہیں؟ ہماری دانست میں تو یہ اتنا ٹیڑھا سوال ہے ہی نہیں جس کا جواب نہ دیا جائے سکے ‘صرف امریکہ اور آئی ایم ایف ہی کیا اسرائیل سے لیکر بھارت تک اس سلسلے میں مغربی قوتوں کے ساتھ ہیں اور یہ سب مل کر کسی نہ کسی طور پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حریص نظریں گاڑھے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف ان کا آلہ کار کے طور پر کب سے اس کوشش میں ہے کہ پاکستان کی معیشت کو زمین بوس کرکے بالآخر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے ‘ یعنی اسے(خدانخواستہ) اپنے ایٹمی اثاثوں سے محروم کردیا جائے ‘ ورنہ صرف تین نکات پر عمل درآمد نہ ہونے کے نام پر پاکستان کو مسلسل گرے لسٹ میں رکھنے کا کیا جواز بنتا ہے ؟ صورتحال کو اس نہج تک لانے کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں کہ اپنا راستہ خود تراشنے کے بجائے بقول علامہ اقبال ہم نے دوسروں کے راستے پر چلنے کی غلطی کی۔
تراش ازتیشۂ جادۂ خویش
براہ دیگر اں رفتن عذاب است
بات کسی اور طرف نکل رہی ہے حالانکہ ہم نے موجودہ صورتحال یعنی مہنگائی پر تبصرہ کرنا تھا ‘ اس لئے یہ جوشہر شہر احتجاج کیا جارہا ہے اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے نہ آج اور نہ ماضی میں حکمران طبقات نے کبھی اس پر سنجیدگی سے توجہ دی ہے ‘ وہ بقول مرزا غالب
قرض کی پیتے تھے مے ‘ اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اور آج حالات بالکل سامنے ہیں ہم نے ملک کی ترقی کے نام پر قرضے لئے مگر ان کو منصوبوں پر خرچ کرنے کے لئے بیرون ملک جائیدادیں ‘ جزیرے ‘ کمپنیاں بنا کر اپنے ذاتی کاروبار پھیلائے اور آف شور کمپنیاں بنا کر ان میں ڈالروں کے انبار جمع کر دیئے ‘ عوام بھوکوں مرتے رہے ہم نے پرواہ نہیں کی ‘ چڑھنے والے قرضوں کی قسطیں ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے ان قرضوں پر چڑھنے والے سود کی ادائیگی بھی ہمارے لئے عذاب بنتی چلی گئی اور سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے ‘ یوں سود در سود کے چلیپائی نظام نے ہماری معیشت کو جکڑ کر رکھ دیا اور اب جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے اسے بہ امر مجبوری یعنی عالمی مہاجن کے احکامات پر عمل کرنے کی سزا کے طور پر رضا باقر جیسے آئی ایم ایف کے مفادات کے تحفظ کرنے والے کو قبول کر چکے ہیں ‘ جو ہمیں ڈالر کی اڑان کے حوالے سے ”نئی طرز کی خوشخبری” کی نوید دے کر خوش کر رہے ہیں ‘ یعنی ابتدائے عشق ہے ‘ اور ابھی سے رونے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا ‘ بلکہ آگے آگے جو حشر ہماری معیشت کا ہونے والا ہے اس کی ایک معمولی سی جھلک امریکہ یاترا کے دوران آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے کے لئے جانے والے وزیر خارجہ کے وہیں قیام کے دوران ہی ”وزیر” سے ”مشیر” کے درجے پر تنزلی کرنے والے شوکت ترین کی ناکامی میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے ‘ یوں پٹرول میں دس روپے کے قریب ا ضافے کے بعد مہنگائی کی شرح میں 1.38فیصد اضافے اور مجموعی طور پر 14.88 فیصد مہنگائی بڑھنے کے بعد پاکستان عالمی سطح پر مہنگے ترین ملکوں میں چوتھے نمبر پر آجانا کسی اچھنبے کی بات تو نہیں اگرچہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہماری وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان چوتھے نمبر پر نہیں بلکہ 30ویں نمبر پر ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اس پر سوال اٹھانے والے ‘ اس کی وجہ شاید وہ خبر ہو جو ملتان کے ایک بھکاری کے بارے میں آئی ہے کہ وہ کروڑوں کا مالک ہے ‘ اس پر اگلے کسی کالم میں کہ بقول جون ایلیائ
اس سے نبھے گا رشتہ سودوزیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بلا کا بدحساب ‘ اس کو حساب چاہئے