ڈینگی کے خلاف غفلت پر مبہم کارروائی

موسم میں خشکی آنے پر ڈینگی کے خاتمے اور کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں لیکن صوبائی حکومت مختلف سطح کے اجلاسوں کے بعد بالآخر سخت اقدام پر مجبور ہو گئی ہے وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت ڈینگی کی صورت حال کے حوالے سے اجلاس میں ڈینگی کی وبائی صورتحال پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناقص کارکردگی پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور کو عہدے سے ہٹانے اور انکوائری کرانے حکم جاری کر دیا گیا ہے اس موقع پر بریفنگ میںوزیراعلیٰ محمود خان نے پشاور میں ڈینگی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل کوآرڈی نیشن کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میںڈینگی کے تدارک کیلئے گھر گھر مہم اور عوامی آگاہی کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مختلف اداروں کو ڈینگی کے تدارک کے لئے جاری فنڈز کی جانچ پڑتال کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بناکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی اگرچہ سخت تاددیبی قدم بعد از خرابی بسیار اٹھایا گیا ہے لیکن بہرحال یہ قدم ضروری تھا اگر یہی قدم ماہ دو ماہ قبل اٹھایا جاتا تو بروقت ہوتا۔ کورونا کے برعکس ڈینگی کنٹرول کرنے کا آزمودہ طریقہ کار موجود تھا جس پر عمل کرنے میں سنگین غفلت کا ارتکاب کیا گیا ڈینگی کے حوالے سے ہر بار حکام یہی جملہ دہراتے رہے کہ ڈینگی سے اموات نہ ہوئیں ڈینگی کے مریضوں کے لئے آئسو لیشن وارڈ کا قیام ‘ ادویات اور علاج کی سہولتوں کا انتظام اور سب سے بڑھ کر لاروے کی تلفی اور صورتحال دیکھ کر سپرے کی جو ضروریات تھیں ان پر کماحقہ توجہ نہ دی گئی ڈینگی سے اموات کے بعد ہی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا تب پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا ۔ اس سال آگاہی مہم بھی حفاظتی اقدامات کی طرح کمزور تھا ۔ ماہرین کے مطابق دینا کے باقی چند ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈینگی ایک مخصوص پیٹرن پر سر اٹھاتا ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہر تین یا چار سال بعد یہ بیماری اتنی بڑھتی ہے کہ اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سنگاپور میں بھی اس مچھر کی ایک قسم ایسی ہے جو وہاں دو سال بعد متحرک ہو جاتا ہے۔اس مچھر کے لاروا کی پیداوار کا سال بھر میں دو مرتبہ سیزن ہوتا ہے۔ جو زیادہ تر برسات کے موسم میں جنم لیتا ہے۔ اس لیے ان دنوں میں انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔جہاں تک غفلت برتنے پر ڈی ایچ او پشاور کے خلاف تاددیبی کارروائی کا تعلق ہے یہ معاملہ بھی واضح نہیں بعض اطلاعات کے مطابق ان کا صرف تبادلہ کیا گیا ہے جو کوئی سزا نہیں سزا تحقیقات کے بعد تاددیبی کارروائی یا پھر معطلی کی باقاعدہ دستاویزی کارروائی ہے جسے اختیار نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کو صرف ہدایت کرکے مطمئن نہیں ہونا چاہئے بلکہ جس کارروائی کا انہوں نے حکم دیا ہے اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے غفلت کا ارتکاب کرنے سے قبل متعلقہ عناصر سو بار سوچیں اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔جب تک سیاسی قائدین از خود انتخابی قوانین کااحترام نہیں کریں گے اور عملی طور پر یہ ثابت نہیں کریں گے کہ وہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں اس وقت تک ملک میں کسی بھی سطح پرحقیقی معنوں میںعوامی قیادت کا ابھرنا خواب ہی رہے گا۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کی پوری پابندی کی جائے
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے انتخابی شیڈول کے اجراء کے ساتھ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سمیت تمام ارکان کابینہ گورنر سپیکر اور عوامی عہدہ رکھنے والے افراد پر ان اضلاع کے دورے اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر پابندی عائد کردی ہے الیکشن کمیشن ہر بار اپنی آئینی ضرورت پوری کرکے اس طرح کی پابندی تو عائد کرتی ہے لیکن کمیشن کے پاس اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کا کوئی ذریعہ نہیں اس لئے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہے البتہ الیکشن کمیشن اس کا نوٹس لیکر آئینی اختیارات کے استعمال میں بھی اکثر و بیشتر تساہل اور چشم پوشی کا مظاہرہ کرتی ہے الیکشن کمیشن نوٹس لیتی بھی ہے تو سخت اقدامات کی نوبت کم ہی آتی ہے جس سے قطع نظر جو سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات پرزوردیتی ہیں اور حکومت و انتظامیہ تینوں فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی معاملات میں مداخلت سے از خود باز رہیں اس طرح سے ہی شفاف انتخابات کا انعقاد اور عوام کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق فیصلے کی آزادی دی جا سکتی ہے حقیقی عوامی نمائندوں کی کامیابی کی راہ عدم مداخلت ہی سے ہموار ہوگی جس کے بظاہر تو سبھی متمنی ہوتے ہیں لیکن اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی عہدیدار بالخصوص انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے کا قانونی و آئینی فریضہ نبھانے میں تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔
بی آر ٹی کے فیڈر روٹ کا جائز مطالبہ
مختلف کاروباری اور عوامی حلقوں کی جانب سے فروٹ منڈی اور ارد گرد کی آبادی کی سہولت کے لئے بی آر ٹی کا فیڈر روٹ شروع کرنے کا مطالبہ قابل توجہ ہے ۔ جی ٹی روڈ کے ارد گرد آبادی کی توسیع اور کاروباری عوامل کی ضروریات کا سروے اور ادراک حکومت کا فرض ہے بنظر غائر دیکھا جائے تو مختلف چھوٹی بڑی رہائشی سکیمیں فروٹ منڈی ‘ ترناب فارم اور شہد مارکیٹ وغیرہ کے ساتھ تعلیمی اداروں میں آنے جانے والے طالب علموں کو ٹرانسپورٹ کی معقول اور صاف ستھری سہولت بی آر ٹی سروس شروع کرکے ہی دی جا سکتی ہے اس حوالے سے مسافروں کا سروے زیادہ مشکل کام نہیں اس روٹ پر سروس کا اجراء خود ٹرانس پشاور کے لئے بھی منافع بخش ہو سکتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر ٹرانسپورٹ اور ٹرانس پشاور کے حکام اس عوامی مطالبے پر توجہ دیں گے اور اسے پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کی جائے گی تاکہ عوامی مطالبہ پورا ہو اوران کو ٹرانسپورٹ کی جدید سہولت مل سکے۔مضافاتی علاقوں کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولت دے کر ہی ان علاقوں کو رہائش اور کاروبار کے لئے پرکشش بنایا جا سکتا ہے اور اسی طرح سے ہی صوبائی دارالحکومت پشاور پرآبادی کے بے تحاشا بوجھ میں مزیداضافے کا راستہ روکا جا سکتا ہے ۔