”آپ” نے بس گھبرانا نہیں

پہلے اچھی اچھی دو خبریں پڑھ لیجئے تاکہ باقی کالم پڑھ کر دل پر بوجھ محسوس نہ ہو’ عالمی منڈی میں تیل کے فی بیرل نرخوں میں مزید کمی ہوئی ہے ۔ اب فی بیرل 78.63ڈالر کا ہوگیا ہے امریکی تیل اس سے بھی سستا ہے 75.82 ڈالر فی بیرل لیکن آپ کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے معاشی جادوگر شوکت ترین نے بتا دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کو تیس روپے تک لے جانے کے لئے ہر ماہ چار روپے فی لیٹر اضافہ کیا جائے گا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ ڈالر کی انٹر بینک قیمت 174.77 روپے ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 176.90 روپے ۔ سونا بھی 400 روپے فی تولہ سستا ہوا ہے ‘ شادیوں کا سیزن ہے اس لئے خریداروں پر کچھ توبوجھ کم ہوگا ۔ اب آیئے اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ تواتر کے ساتھ ان کالموں میں عرض کرتا آرہا تھا کہ آئی ایم ایف سے 1.06 ارب ڈالر کا پیکج سخت ترین شرائط پر ملے گا ان شرائط کا ڈھول جب عام آدمی کے گلے میں پڑے گا تو چیخیں نکل جائیں گئی۔ ہمارے لائق فائق وزراء ‘ مشیر اور وزارت خزانہ کے ترجمان کہتے تھے کچھ لوگ اپوزیشن جماعتوں کی محبت میں عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے بہت باوقار انداز میں معاہدہ ہوا ہے ۔ بجلی اور پٹرولیم کی پچھلے ایک ماہ کے دوران بڑھائی گئی قیمتیں اس کا حصہ تھیں۔ یوٹیلٹی اسٹور پر فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کو مارکیٹ کی سطح پر لانے کے لئے قیمتوں میں ا ضافہ بھی ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین نے صاف کہا مجھے معلوم تھا ایک دن شیر آجائے گا۔ حکومت نے اپنا بندوبست تو کر لیا ہے اس وقت پٹرولیم لیوی نو روپے سے کچھ اوپر ہے اگلے پانچ ماہ میں اسے تیس روپے فی لیٹر تک لے جانا ہے یوں چار روپے ماہانہ کے حساب سے اس میں اضافہ ہو گا۔ یہ اضافہ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے الگ ہی ہوگا بے فکر رہیں۔ فوری طور پر بجلی کے فی یونٹ نرخ 45پیسے بڑھانے کی تیاری ہے یہ اضافہ اکتوبر کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے چار روپے 75پیسے کے علاوہ ہے جس کے لئے سی پی پی اے نے تحریری درخواست دیدی ہے درخواست تو بس ایک حیلہ ہے ہوگا وہی جو ہوتا ہے ۔ ترقیاتی منصوبوں میں 200ارب روپے کا کٹ لگانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا350 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جائے گا۔ انکم ٹیکس ‘پرسنل انکم ٹیکس ‘ پراویڈنٹ فنڈ ‘ زراعت ‘ خوراک ‘ کھاد ‘کیڑے مارادویات اور ٹریکٹر پر ٹیکس استثنیٰ ختم نہیں ہوگا۔ مشیر خزانہ اور وفاقی وزیر حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے مل کر تسلی دی ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں بس کرونا فنڈ کا آڈٹ ہوگا۔ کیجئے ہمیں اور آپ کو کیا کرونا فنڈ پر بیٹھا صاحب جواب دے گا ارے لیکن وہ تو ریٹائر ہو گیا ہے جس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ کرونا کے ایک مریض پر 26 لاکھ روپے فی مریض خرچہ ہے ۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جی ڈی پی گروتھ پہلے پانچ اور پھر چھ فیصد پر لے جائیں گے ۔ کیسے یہ نسخہ کیمیاء کہاں سے ملا؟ چھ فیصد سے ایک فیصد اور پھر دعویٰ ہوا دو فیصد جی ڈی پی گروتھ ریٹ ہے ۔
سچ پوچھئے توشیر نہیں آیا بلکہ بھوکے بھیڑیوںکا غول تیزیسے بڑھتا آرہا ہے تین سو ماہرین کے ساتھ90دنوں میں ملک اور عوام کی قسمت بدلنے کے دعوے ہوا ہوئے یورپی نظام سے ہم چین پہنچے اور بالآخر مدینہ کی ریاست بنانے کا سفر شروع ہوا اس شہر مقدس کا نام لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ آئی ایم ایف کی پانچ نہیں سات شرائط ہیں دو شرائط غیر ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ کرپشن ختم کرنا ہوگی۔ تمام اشیاء پر17فیصد جی ایس ٹی لیا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے دیئے گئے اہداف بڑے مارجن کے ساتھ حاصل کر لئے ہیں۔ اچھا ویسے کیا یہ بھی آئی ایم ایف نے کہاتھا کہ پٹرولیم پر سیلز ٹیکس کم کرکے لیوی بڑھا لیجئے ۔ سیلز ٹیکس میں صوبوں کا حصہ ہوتا ے لیوی خالص وفاقی آمدنی ہے یہ ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس نے صوبوں کی گردن پر چھری پھیری ہے ۔کیا یہ صرف سندھ کو سبق پڑھانے کے لئے ہے؟۔ سادہ جواب ”ہاں” میں ہے ۔ خیر اس بحث کوچھوڑ دیجئے اس میں کچھ نہیں رکھا ۔ اب ایک سادہ سا سوال ہے مگر جواب کی امید نہیں پھر بھی پوچھ لینے میں ہرج کیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم ایسے دو چار قلم مزدور پہلے دو ماہ سے کہہ ‘ لکھ رہے تھے کہ آئی ایم ایف طے پائے معاملات کے حوالے سے عوام کو اصل بات نہیں بتائی جارہی اس لئے حکومت مختلف مدوں میں سبسڈی کم کرنے کے ساتھ پٹرولیم ‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتی چلی جارہی ہے تو اس پر وزارت خزانہ ناراضگی کا ا ظہار کیوں کرتی تھی؟۔ اب بھی لکھ کر رکھ لیجئے ہمیں ہر حال میں روپے کی قدر میں مزید کمی کرکے فروری 2022 کے اختتام تک200 روپے کا ایک ڈالر کرنا ہوگا۔بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مزید ساڑھے چار روپے اضافہ کرنا ہے ‘ پٹرول کی بنیادی قیمت180 روپے تک لیجانی ہے اس میں چار روپے ماہانہ کے حساب سے پانچ ماہ تک ہونے والے اضافے کا کوئی تعلق نہیں۔ عین ممکن ہے کہ فی لیٹر پٹرول اور ایک ڈالر دونوں کی روپے میں قیمت یکساں ہو۔ مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہونے کو ہے ۔ اکتوبر کے موصول ہونے والے بجلی کے بلوں میں مختلف اقسام کے ٹیکس ‘ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سب کو جمع کرکے فی یونٹ تقسیم کرکے دیکھ لیجئے ایک یونٹ36 روپے کا پڑ رہا ہے ۔ یہ بھی یاد رکھیں بجلی کی بنیادی قیمت میں ماہانہ بنیادوں پر اضافہ ہو گا۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے فٹیف پلان پر عمل لازمی ہے ۔ اقتصادی ترقی کی شرح کو چار فیصد پر کیسے برقرار رکھیں گے یہ کم از کم ہمیں سمجھ میں نہیں آیا۔ ایک بڑی خوشخبری یہ ہے کہ300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے یہ آئی ایم ایف کا حکم ہے ۔ دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے سخت شرائط نرم کرالی ہیں۔ کونسی؟ یہ اللہ جانے آئی ایم ایف اور جناب شوکت ترین ‘ حرف آخر یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کو پارلیمان میں لائے ۔مزید آخر یہ ہے کہ مشیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے موقع پر کہا تھا میں حیران ہوں کہ سابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کڑی شرائط کیوں تسلیم کیں۔ اب کون حیران ہو گا؟ آسان جواب یہ ہے عوام کی آنکھیں باہر نکل آئیں گی حکمران یہی سمجھیں گے کہ وہ ”حیران” ہو رہے ہیں۔