وزیر اعظم کے نظریات

حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے شریعت اسلامیہ کے ممتاز امریکی سکالر اور کیلی فورنیا میں واقع زیتونا کالج کے مہتمم شیخ حمزہ یوسف کو دئیے گئے ایک نشری انٹرویو میں اپنے ان اساسی نظریات و افکار کی وضاحت کی جو بعد میں ان کی عملی سیاسی زندگی کے محرکات ثابت ہوئے۔ ہمارے سیاسی تجزیوں میں اِس انٹرویو کی اہمیت اس اعتبار سے مسلم ہے کہ اپنی گفتگو کے دوران وزیر اعظم صاحب نے زندگی میں عقیدے کے ساتھ ساتھ تزکیے اور سیاسی تمدن میں اصولوں کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ شیخ حامد یوسف کے ساتھ وزیر اعظم کا مکالمہ دراصل انکی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔ شخصیت انسان کے ذھنی رجحانات اور نظریات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ سیاسی قائدین کے نظریات اکثر انکے سیاسی مقاصد، رجحانات اور عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ قومی ترقی اور مقاصد کے حصول کے لیے عوام الناس اور ان کے قائدین میں فکر و عمل کی یکسانیت کا پایا جانا نہایت ضروری ہے۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب قائدین کی شخصیت اور ان کی ذہنی ترکیب اور ڈھانچے کا بغور جائزہ لیا جائے۔ قائدین کے نظریات اور رجحانات کی تشہیر سے عوام اور خود قائدین کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے اور ایک صحتمند سیاسی تمدن کے تمام فریقین کو ایک دوسرے کے مسائل سننے، سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔
شیخ حمزہ یوسف کو دیئے گئے انٹرویو کے تناظر میں وزیراعظم کے شخصی ارتقا کے تین اہم مدارج متعین کیے جا سکتے ہیں جن کے تجزیئے سے ان کی شخصیت کے کئی ایک پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ شخصی ارتقا کا پہلا درجہ جستجو، لگن اور عمل پیہم سے عبارت ہے۔ زندگی میں یہی جستجو ایک عملی انسان کی حقیقی شناخت ہے۔ وزیر اعظم کی گفتگو سے ان کی زندگی کی رنگا رنگی اور تنوع عیاں ہے۔ یہی رنگا رنگی ہے جس کے باعث ہمیں ان کی زندگی کے ابتدائی دور میں کھیل اور تعلیم باہم یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ بقول وزیر اعظم کھیل کے ساتھ ساتھ حصول تعلیم کے اہداف نے شروع ہی سے ان کی زندگی میں توجہ اور ارتکاز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
زندگی میں انسان کو اتار چڑھائو کا سامنا رہتا ہے۔ دکھ کے ساتھ سکھ اور کامیابیوں کے ساتھ ناکامیاں بالآخر انسان کے ایک غیر مرئی ذات پر عقیدے کی پختگی کا باعث بنتی ہیں۔ انسانی زندگی میں خدا کا عمل دخل نہ ہوتا تو ہماری زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کے تابع رہتی۔ لیکن خدا ہی وہ کارساز ہے جو ہماری کوششوں کو اپنی حکمت کے موافق اس طرح سے نتیجہ خیز بناتا ہے کہ کبھی تو ہمیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے اور کبھی ہماری جدوجہد کامیابیوں سے ہمکنار ہوتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے لیے بھی عقیدے کی بازیافت زندگی کے اتار چڑھا کا نتیجہ رہی۔ بقول وزیر اعظم عقیدہ زندگی کے بارے میں انسان کے زاویہ نگاہ کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اِسی کی بدولت انسان اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کو خدا کے مرہون منت قرار دیتا ہے۔ وہ عاجزی کی راہ اختیار کرتا ہے جس سے اس میں تفاخر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ عقیدہ بتدریج انسان کی انانیت کو ختم کر دیتا ہے۔
عقیدے سے تزکیے کے سوتے پھوٹتے ہیں اور یہیں سے وزیرا عظم کے ارتقائے سلوک کا دوسرا درجہ شروع ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کے نزدیک تزکیہ کردار کی بالیدگی کا دوسرا نام ہے۔ تزکیہ یہ ہے کہ انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا شعور اور ادراک رکھے اور ان کی تکالیف کو کم سے کم کرنے کی سعی جاری رکھے۔ بقول وزیر اعظم تزکیے کے عدم وجود ہی کے باعث ہمارے سیاستدان زیادہ تر انسانیت اور انسان دوستی کے عنصر سے عاری ہیں۔ انکے خیال میں عقیدے اور تزکیے کا باہمی تعلق انتہائی گہرا اور عمیق ہے اور یہی وہ تعلق ہے جس نے انہیں پہلے پہل اپنی شہرت، ناموری، آرام و آسائش تیاگتے ہوئے سیاست کی وادی پرخار کی راہ دکھلائی۔ یہ معاشرتی اصلاح اور عمومی فلاح و بہبود سے متعلق ذمہ داری کا احساس تھا جس نے بقول وزیر اعظم ان کی سیاسی جدوجہد کے مقاصد کا تعین کیا۔ احساس ذمہ داری انسانی شخصیت کا ایک اہم وصف ہے۔ ہمارے ہاں فلاحی ریاست کا عملی نفاذ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ہم ایک دوسرے کی نسبت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہ ہو پائیں۔ اسی طرح قانون کی حکمرانی کا بھی ایک اہم ترین پہلو قانون کا یکساں نفاذ اور اس کا غیرمشروط اتباع ہے۔
فلاحی ریاست کا ایک اہم ہدف وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں وسائل کی تقسیم اصول انصاف کی بجائے طبقہ وارانہ بنیادوں پر استوار ہے۔ سماجی اور معاشی ناہمواریوں کا ادراک وزیر اعظم کے شخصی تاثر کے تیسرے اہم ترین پہلو کی حیثیت سے نمایاں ہے۔ معاشی افراط و تفریت پر مبنی موجودہ نظام کو بدلنے کے لیے از حد ضروری ہے کہ ملکی وسائل سے محدود اشرافیہ کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے تاکہ عام لوگوں تک بنیادی سہولیات اور ضروریات زندگی کی عملی ترسیل ممکن ہو پائے۔ بقول وزیر اعظم ہم خداداد صلاحیتوں سے متصف ہیں۔ ہم ترقی کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنے آپ کو طبقاتی اجارہ داریوں کے تسلط سے آزاد کر سکیں۔