ضمنی بجٹ بجلی اور پٹرول بم

قومی اسمبلی سے حکومت منی بجٹ کثرت رائے سے منظور کرانے میںضرور کامیاب ہوئی ہے لیکن ایوان میں حکومت کے حق میں جتنے ووٹ پڑے ہیں وہ ایوان کی سادہ اکثریت سے کم ہے جس سے قطع نظر جہاں ایک جانب حزب اختلاف کو اس منی بجٹ پرسخت تحفظات ہیں جبکہ عام آدمی بھی لامحالہ اس بجٹ کے اثرات سے خوفزدہ ہے لیکن وزیر خزانہ کا استدلال ہے کہ عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا حالانکہ حکومت کے اس اقدام سے عوام پر 350ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جس کی توجیہہ وزیر خزانہ یہ کہہ کر رہے ہیں کہ نیا ٹیکس نہیں لگا رہے ہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی بنایا جارہا ہے اس موقع پر ایوان میں سیاسی شور شرابہ سے قطع نظرجو نکات اٹھائے گئے وہ قابل ذکر ہیں۔حزب اختلاف کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ نکتہ قابل غور ہے کہ منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا ریونیو میں کمی ہوئی ہے یا اخراجات میں اضافہ ہوا ہے عوام پر 350ارب روپے کا بوجھ ہی نہیں ڈالا جارہا ہے بلکہ ہر ماہ پٹرول اور بجلی بھی مہنگی کی جارہی ہے ۔اس موقع پر اگرچہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بڑی اگر مگر کی مگران کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ منی بجٹ پیش کرنا آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے ضروری تھا جن کی لازمی شرط ان پُٹ اور آئوٹ پُٹ میں توازن لانا تھا جس کے بناء جی ایس ٹی پورانہیں ہو سکتا تھا دوسری جانب وزیر خزانہ کی جانب سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے موقف کی اثابت سے اس لئے انکار ممکن نہیں کہ آج ہماری 18سے 20 ٹریلین کی سیل ہے اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے ۔دوسری جانب درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لئے جتنے بھی اقدامات کئے جائیںوہ ضروری اور ناگزیر بن چکے ہیں۔آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض کے حصول کے لئے پہلے سے طے شدہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کو بڑھانا حکومتی مجبوری بن گئی تھی جسے ضمنی بجٹ لاکرپوری کی جارہی ہے ۔343ارب روپے کے مزید ٹیکس وصول کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً ڈیڑھ سو اشیاء کی قیمتوں پر سترہ فیصد کی شرح سے جو جی ایس ٹی نافذ کر دیا گیا ہے اگرچہ حکومت انکاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر اشیاء عام آدمی اور روز مرہ استعمال کی ہیں سادہ سی بات یہ ہے کہ اشیاء کی قیمت پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے قیمتوں میں اسی شرح سے خود بخود اضافہ ہو جائے گا مگر وزیر خزانہ یہ طفل تسلی دے رہے ہیں کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا جو عوام کو گمراہ کرنے اور ان کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے جب مختلف اشیاء کی قیمتوں پر بلاتخصیص سترہ فیصد جی ایس ٹی عائد ہو گا تو اس سے قیمتوں میں اضافہ کیسے نہ ہوگا اور اگر بقول وزیرخزانہ ایسا نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے پھر حکومت بھاری محصولاتی ہدف کس سے اور کیونکر حاصل کر پائے گی۔امر واقع یہ ہے کہ حکومت کے اقدامات کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بجلی ‘ پٹرول ‘ ڈیزل ‘ گیس ‘خوراک اور ادویات کی نرخوں سے لیکر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تک ہر چیز کی قیمت حالیہ سالوں میں حیران کن حد تک بڑھ گئی ہے اور مشکل امر یہ ہے کہ یہ اضافہ بدستور جاری ہے اور اس کے روکنے کا کوئی امکان نہیں۔شاید ہی کوئی مہینہ ایسا ہو جب بجلی اور تیل کی نرخوں میںاضافہ نہ ہوا ہو یا پھر ڈالر کی قیمت نہ بڑھی ہو پریشان کن امر یہ بھی ہے کہ ملکی پیداوار مسلسل انحطاط کا شکار ہے اور درآمدی اشیاء سے طلب پوری کی جاتی ہے جو اپنی جگہ ایک سنگین مسئلہ ہے درآمدی اشیاء میں اضافہ خاص طور پر خوراک اور عام ضرورت کی اشیاء کی تجارت میں اضافہ ملکی وسائل سے طلب پوری کرنے میں ناکامی کا واضح اشارہ ہے ۔تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے درآمدات اور برآمدات کا توازن بہت بگڑ چکا ہے باقی اشیاء ایک طرف صرف گزشتہ مالی سال کے دوران خوراک کی اشیاء کی درآمدات 54فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا اور وطن عزیز کے آٹھ ارب 34 کروڑ ڈالراشیائے خوراک درآمدکرنے پر صرف ہوئے مشکل امر یہ ہے کہ زرعی معیشت کے حامل ملک ہونے کے باوجودخوراک کی ضروریات پوری نہیں ہو پارہی ہیں جس پرغور کیا جائے تو کم از کم زرعی اشیاء اور خوراک کے معاملے میںخود کفالت کا حصول ناممکن نہیں مگر بدقسمتی سے ہم اپنے اس وسیلے کو بھی ترقی نہیں دے پاتے نہایت تشویش کی بات یہ ہے کہ آمدہ موسم میں گندم کی پیداوار کا ہدف بھی شاید پوری نہ ہو سکے ۔کھادکی ذخیرہ اندوزی اور کسانوں کو بروقت کھاد نہ ملنے کے باعث گندم کی بوائی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی کا امکان ہے اگر خدانخواستہ مزید گندم درآمد کرنے کی ضرورت پڑے تویہ نہ صرف ملکی معیشت پربوجھ کا باعث ہو گا قیمتی زرمبادلہ کا استعمال ہو گا بلکہ گندم کی کم پیداوار سے کسان بھی بدحال ہونگے اور آٹا و گندم کی مہنگائی کا بھی خطرہ بڑھ جائے گا۔خوراک اور توانائی کی مہنگائی سے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔حزب اختلاف نے اس منی بجٹ کو رکوانے کے لئے کتنی سنجیدگی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اس سے قطع نظر مسودہ قانون کی منظوری کے بعد حکومت خود کو جس طرح سرخرو سمجھ رہی ہے حقیقت اس کے برعکس ہے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ لادنے سے حکومت کا مزید کمزور ہونا اور عوام کی نظر میں مزید غیر مقبول ہونا یقینی ہے ۔