وہ پیڑ کاٹ کے لکڑی کو بیچ کر خوش تھا

وہ جو سیانے کہہ گئے ہیں کہ ''جے منہ بھیڑا ہووے تے بندہ گہل تے چنگی کر دے'' یعنی منہ ٹیڑھا ہو تو کم ازکم بات تو اچھی منہ سے نکالنی چاہئے، تو یہ مقولہ ایسے لوگوں پر پوری طرح منطبق ہو رہا ہے جو ان دنوں لوگوں کو بلاوجہ کورونا سے ڈراتے رہتے ہیں یہ کہہ کر کورونا سے اموات بڑھیں گی حالانکہ مرزا غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
اور پشتو زبان کی ایک کہاوت یوں ہے کہ جو رات قبر کے اندر ہے وہ باہر نہیں، ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑایئے تو یہ جو لوگ ان دنوں (بھی) دیگر بیماریوں یا بغیر کسی بیماری ہی کے انتقال کر رہے ہیں کیا ان سب کو کورونا نے مارا ہے؟ ہمیں تو ان حالات میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ اچھی اور حوصلہ افزاء دکھائی دے رہی ہیں جو لوگوں کو یہ کہہ کر حوصلہ دے رہے ہیں کہ ستاروں کے سائنس کی رو سے 19اپریل رات بارہ بج کر ایک منٹ پر حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو جائیں گے اور رفتہ رفتہ اس وبا کے اثرات کم ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہو جائیں گے۔ یہ پیشگوئی لاہور کے ایک ماہر ستارہ شناس نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام کے دوران کی ہے اور یہ پاکستان کے حوالے سے ہے جبکہ باقی دنیا کے حوالے سے انہوں نے 26اپریل کی تاریخ دی ہے، ان پیشگوئیوں میں کتنی صداقت ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے جبکہ ہم تو اسے اوپر درج مقولے کے حوالے سے پرکھ کر ان لوگوں سے ہاتھ ہولا رکھنے کی گزارش کر رہے ہیں یعنی ہر وقت منفی طرزفکر پھیلانے اور لوگوں کو بلاوجہ ڈرانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بھائی موت تو اٹل حقیقت ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی تو کہا جاتا ہے ناں کہ اُمید پر دنیا قائم ہے۔ جن لوگوں کی منفی سوچ کے حوالے سے ہم نشاندہی کر رہے ہیں ان کی وجہ سے عام لوگ جتنی تیزی سے نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ چار روز پہلے میرے ایک انتہائی عزیز کا انتقال ہوگیا تھا، اس کے جنازے سے واپسی پر میری ایک بھتیجی بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی، راستے میں خواتین کے مابین کورونا زیربحث آیا تو اس نے بتایا کہ اس کے گھر کے بچے تھوڑی دیر کیلئے بھی سودا سلف وغیرہ لینے کیلئے باہر جاتے ہیں تو واپسی پر وہ نہ صرف ہاتھ دھوتے ہیں بلکہ سیناٹائزر بھی استعمال کرتے ہیں، یہاں تک تو بات ٹھیک تھی کہ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں، مگر اس نے یہ بھی بتایا کہ بڑے آکر باہر جائیں تو واپس آکر کپڑے تبدیل اور نہانا ضروری ہو جاتا ہے، گویا جتنی بھی بار بڑے باہر جائیں تو یہ پریکٹس ضروری ہو جاتی ہے۔ ہمارے استفسار پر اس نے کہا کہ بعض دفعہ تو دو دو بار نہانا بھی لازمی قرار دیتے ہوئے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور کپڑے تبدیل کرنے کے بعد پہلا والا جوڑا دھلوانا بھی لازمی ہو جاتا ہے۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس بیماری کو کس قدر خود پر طاری کر رکھا ہے کہ وہ بالکل ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ خیر میں نے بھتیجی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کے گھر والے احتیاط ضرور کریں، مگر اس خوف کو ذہنوں پر سوار کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ بیماری تو انشاء اللہ بالآخر ختم ہو جائے گی جبکہ ان کو نفسیاتی عوارض اس طرح چمٹ جائیں گے کہ ان سے گلوخلاصی ممکن نہیں رہے گی۔
پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا
ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی
ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میںکورونا سے ہلاکتوں کی تعداد اللہ کی مہربانی سے اتنی نہیں جتنی کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں میں سامنے آرہی ہے، اس کی وجہ بعض ماہرین کے نزدیک ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت برداشت ہے جس کا کارن بچپن ہی میں بچوں کو مختلف قسم کے ٹیکے لگانا ہے تاہم اس کے برعکس غریب ملکوں میں پھیلی ہوئی بیروزگاری زیادہ خطرناک ہے۔ ان دنوں لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جس طرح معمولی اور انتہائی کم آمدنی والوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اس کے مظاہر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں، دن بھر عام اور پیشہ ور گداگروں کے غول کے غول دندناتے پھرتے ہیں، یہ تو خیر معمول کی بات ہے مگر اب ان میں حقیقی طور پر ضرورت مندوں کو بھی گلیوں میں مارے مارے پھرتے اور گھروں پر دستکیں دیتے یا کال بیل کے بٹن دباتے دیکھا جا سکتا ہے جو ضروریات زندگی مانگنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس کالم کے لکھنے کے وقت تازہ اخبارات میں لاک ڈاؤن کی کیفیت سے بیروزگاری میں مبتلا پشاور اور بنوں کے دو رکشہ ڈرائیوروں کی خودکشی کی خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے، اگرچہ سرکار نے بیروزگاری سے نبردآزما لوگوں کی حتی المقدور کفالت کا پروگرام شروع کر دیا ہے اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہوچکی ہیں مگر جس طرح ہمارا معاشرہ ہر شعبے میں دونمبری کا شکار ہے، ایک تو گزشتہ روز امدادی رقم کی تقسیم میں بعض علاقوں میں خواتین سے پانچ پانچ سو روپے بطور رشوت وصول کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں تو کل ہفتہ کے اخبارات میں امدادی رقوم کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مستحق افراد کی فہرستیں ترتیب دیتے ہوئے ووٹرز کو ان میں شامل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جبکہ بنوں میں ان لسٹوں میں صاحب استطاعت لوگوں کو شامل کرنے پر ڈپٹی کمشنر نے 11اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، گویا جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑے افسران اور ان کی بیگمات نے ہاتھ رنگے تھے اسی طرح اب احساس پروگرام کا حشر کیا جارہا ہے، خداجانے معاشرے سے یہ بدعنوانی کب ختم ہوگی؟ اور اس حالت میں بھی ہم اپنے رب عظیم سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم پر سے یہ عذاب ٹال دیگا۔ بقول حامد سردش
وہ پیڑ کاٹ کے لکڑی کو بیچ کر خوش تھا
پھر اس کے بعد کڑی دوپہر میں جلتا تھا