سہ جہتی خطرہ

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سات کارروائیاں ہوئی ہیںکالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ترجمان کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول اور ان واقعات کا اعتراف کیا جا چکا تھا۔ دریں اثناء لاہور میں انار کلی کے علاقہ پان منڈی میں بازار میں رش کے دوران موٹر سائیکل پر نصب بم دھماکہ ہوا جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچ آرمی کی جانب سے قبول کی گئی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ پشاور میںافغانستان سے تعلق رکھنے والے داعش کے دہشت گردوں کا سہولت کار ملزم بھی گرفتار کرلیاگیا ہے ۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے ایک انٹرویو میں داعش کو ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے ساتھ ہی وزارت داخلہ نے پانچ شہروں میں حملوں سے متعلق الرٹ بھی جاری کیا ہوا ہے ۔گزشتہ روز وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے واقعے کو رواں سال کا پہلا واقعہ قرار دیا تھاانہوں نے دہشت گر دی کی نئی لہر کا بھی انتباہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی بتایاتھا کہ دارالحکومت میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ہیں۔وزیر داخلہ اور نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر کے حالیہ ہی کے دعوئوں کا جائزہ لیا جائے تو انہوںنے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی حملے کی صلاحیت کھو چکی ہے اور اس کی کمر توڑ دی گئی ہے خود وزیر داخلہ نے کوئی مہینہ قبل ٹی ٹی پی کے ممکنہ خطرے کے امکان کو ہی غیر سنجیدہ ٹھہرایا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان ‘ داعش اور اب بلوچ آرمی کی جانب سے لاہور میں دہشت گردی کی کارروائی کا اعتراف تین مختلف خیالات و نظریات رکھنے والی دہشت گرد تنظیموںکی جانب سے ملک میںتقریباً بہ یک وقت دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا آغاز اور سرگرمی ملک میںتخریب کاریوں و دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے نئے لہر کا عندیہ دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان تین تنظیموں کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہوا ہے جس کے بعد انہوں نے اپنے سرگرمیوں کا آغازکیا یا پھر یہ محض ایک اتفاق ہے بہرحال جو کچھ بھی ہے ملک میں امن وامان کے حوالے سے تشویش کا حامل امر ہے ۔ پاکستان میں جب بھی کرکٹ کے فروغ کے دن آتے ہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں جس کے پس پردہ بھارت کے کردار کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے ۔ سری لنکا کی ٹیم کے کھلاڑیوں پر لاہور میں حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کا تو شواہد بھی موجود ہیں۔بلوچ آرمی نامی نسلی دہشت گرد تنظیم بھی بھارت کا پروردہ ہے یا پھر اس کا صرف نام استعمال ہوا ہے اس سے قطع نظر بلوچستان میں دہشت گردی کو منظم کرنے والا”بھارتی بندر” تو ہمارے پاس ہی ہے واضح رہے کہ 27جنوری سے پی ایس ایل کے میچ کراچی میں شروع ہو نے والے ہیں جہاں سولہ میچ کھیلے جائیں گے جبکہ 11 فروری سے لاہور میں پی ایس ایل کے 30میچز کھیلنے کا شیڈول ہے جس میں کوالیفائنگ رائونڈ اور فائنل لاہور میں ہوگا۔بلوچ آرمی کی اس دہشت گردانہ کارروائی کے پس پردہ کیا مقاصد ہیںاس سے قطع نظر اگرتحریک طالبان پاکستان سے سیز فائر کے خاتمے اور ان کے اہم رہنما کو ہلاک کئے جانے کے رد عمل کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحدی معاملات کے تناظر میں بھی جاری حالات کو دیکھا جائے تو اس کے امکانات بھی واضح ہیں۔ٹی ٹی پی کی جانب سے اس امریکی اسلحہ کا استعمال حیران کن ہے جس پرسقوط کابل کے موقع پر افغان طالبان نے قبضہ کر لیاتھابعض تبصرہ نگاروں کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک سکے کے دو رخ ہیں اور ان کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر تعاون موجود ہے ۔یہ عناصر اس حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت میں آنے کے بعد افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے عناصر کو غیر مسلح کرنے کی بجائے مذاکرات پر اصرار کر رہے ہیںشاید ان ہی کی ترغیب پر پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور معاملت کی سعی کی جس میں کامیابی نہ ہوسکی۔طالبان کے ترجمان نے اپنے تازہ ترین بیان میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کو بہتر گردانا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو وہ مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں جس کے جواب میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی بات چیت پر تیار ہونے کا عندیہ دیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی بلکہ پاکستان کو بالاخر مذاکرات و مفاہمت کاراستہ اختیار کرنے کی بجائے سخت اور ٹھوس فیصلہ کرنا ہو گا جو قبل ازیں قبائلی اضلاع کو بالخصوص اور ملک کو بالعموم دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے عمل میںکارگر نسخہ ثابت ہوا ہے ۔سوال یہ نہیں کہ داعش بڑا خطرہ ہے یا ٹی ٹی پی یا پھر بلوچ آرمی ۔ قومی سلامتی اور ملکی امن کے لئے تینوں ہی زہر قاتل ہیں جن کا سر کچلنا لازم ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام واقعات اور عناصر کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایسی پالیسی وضع کر لینے کی ضرورت ہے کہ ان واقعات کی روک تھام اور دہشت گردی کی اس تازہ لہر کا ابتداء ہی میں قلع قمع کیا جا سکے ان عناصر کو ابتداء ہی میں مسکت جواب دینا بہت ضروری ہے ۔ دہشت گردوں کے سلیپر سیلزاور ان تنظیموں کے نیٹ ورک کے خلاف جتنا جلد ممکن ہو سکے عملی اقدامات کرکے ان کا خاتمہ کیا جائے انٹیلی جنس کو دہشت گردی کے گزشتہ واقعات کے دوران کے برابرمتحرک کیا جائے یہ بھی مد نظر رہے کہ بہترین انٹیلی جنس وہ ہوتی ہے جو خطرے کو بروقت بھانپ لے اور خطرے کے امکانات پیدا ہوتے ہی خطرہ پیدا کرنے والوں کا سر کچل دیا جائے۔پے درپے واقعات کے نتیجے میں ملک میںعدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے توقع کی جانی چاہئے کہ ٹی ٹی پی ‘ داعش اور بلوچ آرمی کے نئے خطرے اور چیلنج کا پہلے سے بڑھ کر مسکت جواب دیا جائے گااور ملک بھر میں سکیورٹی کے انتظامات و اقدامات پوری طرح سے یقینی بناکرکسی بھی ممکنہ خطرے کو پوری طرح سے مسدود کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   معاملات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟