انسداد ذخیرہ اندوزی کا قانون

وفاقی کابینہ کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کو مروج قوانین کے مطابق قابو کرنے میں ناکامی کے بعد آرڈیننس جاری کرکے سخت سزا دینے کی منظوری سے ریلیف کی توقع آرڈیننس کے مؤثر نفاذ اور اس پر عملدرآمد سے عبارت ہوگی۔ ذخیرہ اندوزی روکنے سے متعلق جاری آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے مرتکب افراد کو تین سال قید اور ضبط شدہ مال کی پچاس فیصد بطور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزی سے فائدہ حاصل کرنے والے اصل مالکان کو سزا دی جائے گی۔بادی النظر میں یہ سزائیں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور اس کے سدبات کیلئے مؤثر اور ٹھوس اقدام ثابت ہو سکتی ہے البتہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی پر انعام ماضی کے نظائیر کے باعث زیادہ مؤثرہونے کی اُمید نہیں، بہرحال اس کے باوجود دس فیصد انعام کی رقم کے حصول کیلئے ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی کی پیشکش حکومت کا اچھا حربہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ ذخیرہ اندوز مافیا ایک ایسا منظم مافیا ہے جس کے رابطے حکومت اور بیوروکریسی میں بڑے مؤثر ہوتے ہیں اور یہ سب مل کر ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں جس کے نتیجے میںبحران کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے فائدہ اُٹھانے کی مافیا نے پہلے سے تیاری کر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارے تئیں اگر حکومتی صفوں اور بیوروکریسی میں ذخیرہ اندوز مافیا کو معاونین میسر نہ آئیں اور ذخیرہ کئے گئے سامان اور اشیاء کی بڑی کھپت کا موقع ہی نہ ملے، طلب اور رسد کے بگڑتے توازن پر حکومتی مشینری کڑی نظر رکھنے کی ذمہ داری نبھائے تو بحران کی کیفیت ہی پیدا نہیں ہوگی۔ جب اس کیلئے ماحول ہی بننے نہ دیا جائے تو ذخیرہ اندوز مال کو روکے رکھنے کی بجائے نکاس اور کھپت پر توجہ دیں گے۔ حکومت کو آڈیننس کے اجراء کیساتھ ساتھ مافیا کی منڈی اور مارکیٹ میںمسابقت پر توجہ دینی چاہئے۔ حکومت کے پاس آٹا، دال، چاول، چینی اور اس قسم کے دیگر اشیاء کی قیمتوں کا مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کیلئے یوٹیلیٹی سٹورز کی صورت میں بہتر سہولت میسر ہے اس کو مزید فعال بنانے، یوٹیلیٹی سٹورز کی تعداد میںمزید اضافہ اور موبائل یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے مضافاتی اور دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کو بھی اس سے مستفید ہونے کے مواقع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء کے معیار، صفائی اور یوٹیلیٹی سٹورز میں ہونے والی بدعنوانی جیسے معاملات پر توجہ دیئے بغیر حکومت کو اس ضمن میں کامیابی مشکل ہوگی۔ اس امر کا اعادہ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے محض قانون سازی کافی نہیں بلکہ اصل توجہ قوانین پر عملدرآمد کی ہے جہاں تک قوانین کی بات ہے تو کاروباری سرگرمیوں کے قواعد وضوابط پہلے سے موجود ہیں، رائس کنٹرول اور انسداد ذخیرہ اندوزی ونفع خوری ایکٹ1977ء پورے ملک میں نافذ العمل ہے، اس کی موجودگی میں اگر حکومت نیا آرڈیننس لیکر آتی ہے تو تبدیلی کی بنیاد صرف یہ آرڈیننس نہیں بلکہ اصل تبدیلی اس پر عملدرآمد سے ہی آئے گی۔ ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ وطن عزیز میں معمول کی بات ہے، پچھلی حکومتوں کو تو چھوڑیں خود موجودہ دور حکومت میں بھی منظم مافیا آٹا بحران اور چینی کی سمگلنگ میں ملوث ہے جس کیخلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ محض مفادات رکھنے والے گروہ جب ایسا کرتے ہیں تو حکومت ان کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ماسک اور سیناٹائزرز کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا تو اس کا فائدہ بھی مافیا نے راتوں رات ان اشیاء کی ناپیدگی اور سمگلنگ کرکے اُٹھایا، تمام تر اختیارات کے باوجود سرکاری مشینری اور متعلقہ محکمے نہ صرف ناکام رہے بلکہ ان کیخلاف تحقیقات اور تعزیروتادیب کی نوبت ہی نہ آئی، ایسے میں آرڈیننس کتنا مؤثر ہوگا اس پر حکام کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جائزہ لیا جائے تو حکومت اس قدر بھی بے بس نہیں، حکومت کے پاس نفاذ قانون، خفیہ معلومات اور اعداد وشمار سبھی کچھ ہے۔ اگر حکومتی مشینری کو پوری طرح بروئے کار لایا جائے تو ایسا ممکن نہیں کہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مارکیٹ کا استحصال کرسکیں، حکومت کو آرڈیننس کے نفاذ کیساتھ ساتھ ان سبھی محکموں کی کارکردگی کو فعال اور مؤثر بنانا ہوگا جن کی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ وہ سمگلنگ کو روکیں اور طلب ورسد اور قیمتوں پر نظر رکھیں۔