گرفتار پی ٹی آئی کے 70 افراد

اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی کے 70 افراد کو چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے گرفتار پی ٹی آئی کے 70 افراد کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں گرفتار پی ٹی آئی کے 70 افراد کارکنان کو پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر پیش ہو کر بتائیں کیوں کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کیا جارہا ہے.

ڈپٹی کمشنر کی پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو وفاقی دارالحکومت سے پی ٹی آئی کے حراست میں لیے 70 افراد کو بانڈ لے کر چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کیس ہو تو اس عدالت کو کل بتائیں اور اس کر نظرثانی کریں۔علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگی کو بادی النظر میں آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے مدثر نارو سمیت 5 لاپتہ افراد کو آئندہ سماعت پر بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے اپنے ریماکرس میں کہا کہ کیا صدر مملکت اور گورنروں نے جبری گمشدگیوں کی سالانہ رپورٹس جمع کرائیں؟ سیکریٹری داخلہ 5لاپتہ افراد کو پیش کریں ورنہ موجودہ اور سابق وزرائے داخلہ کو طلب کریں گے.

مزید دیکھیں :   چین کیساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے کے منتظر ہیں،آرمی چیف

مدثر نارو سمیت 5 لاپتہ افراد کو 17 جون تک بازیاب نہ کرنے کی صورت میں وزیر داخلہ پیش ہو کر بتائیں کیوں نہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم اور وزرائیداخلہ کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کریں۔دوسری طرف وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ یقین دلاتا ہوں لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرانے کی کوشش کروں گا، شمالی اور جنوبی بلوچستان کے بیانیے کو ترک کرکے مسائل کو حل کریں گے، اتفاق ویکجہتی سے دہشتگردی کو دوبارہ شکست دیں گے، خضدار کچلاک خونی سڑک کو خوشحالی کی سڑک بنائیں گے۔