جلتی آگ پر تیل چھڑکنے سے گریز کیا جائے

کابینہ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے اسلحہ لانے کے اعتراف اور وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان کے دھمکی آمیز بیانات اور عمران خان کے کارکنان کے اسلحہ ساتھ لانے کے بیان کا نوٹس لے کر وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔کمیٹی عمران خان اور محمود خان کے بیانات کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کرے گی وفاقی کابینہ نے وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان کے بیان پر شدید تشویش کا اظہاربھی کیا۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دھرنے سے روکا گیا تو اس بار کے پی کی فورس استعمال کریں گے جبکہ ایک انٹرویو میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ آزادی مارچ کے دوران ہماری طرف بھی لوگوں کے پاس پستول تھے۔دریں اثناء پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک تو ایک طرف آج کل سیاسی لیڈر بھی ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیںتقاریر میں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوتی تھی۔حکمرانوں اور سیاستدانوں کے خلاف بیانیات کی بنیاد پر اگر مقدمات کا اندراج اور کارروائی ہونے لگے تو شاید ہی کوئی سیاستدان کٹہرے میں کھڑا نظر نہ آئے باقی گرفتاری اور قید کا فیصلہ تو عدالتوںنے کرنا ہوتا ہے سیاستدانوں کی تقاریراور بیانات کا بلا امتیاز جائزہ لیا جائے تو شاید ہی کوئی سیاسی شخصیت ایسی ہو گی جو توہین عدالت ‘ قومی اداروں اور ان کی قیادت کی توہین اور مخالفین پر بدترین الزام تراشی کا مرتکب نہ ہو ۔سیاستدانوں کی زبان و بیان اور الفاظ کے چنائو کے حوالے سے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہے کے مصداق ہے وگر نہ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاستدان دشنام طرازی اور بہتان لگانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے معلوم نہیں کہ انہیں بعد میں اپنے الفاظ پر پچھتاوا ہوتا بھی ہے یا نہیں یا پھر وہ اسے سرے سے معیوب ہی نہیں سمجھتے ہمارے ہاں کچھ عرصے سے سیاست کا مطلب گالم گلوچ اور مخالفین کے خلاف ایسے ایسے الزامات عائد کرنے کا نام بن گیا ہے کہ شریف آدمی کا سر ان کا خطاب سن کر جھک جاتا ہے میڈیا پر ایک دوسرے کو کن القابات اور کس قسم کے الزامات لگا کر یاد کرتے ہیں وہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں علماء کی تضحیک سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اس سے بھی افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاست میں خود علمائے کرام کا لب و لہجہ بھی خود ان کے شایان شان نہیں ہوتا سوشل میڈیا پر گالی بکنے کے لئے تنخواہ دار جھتے مقرر ہیں جو جتنی گالیاں دے اور الزام تراشی کرے بڑے سے بڑا بہتان لگائے اسے پسند کیا جاتا ہے من حیث المجموع سیاستدانوںکی جانب سے میڈیاسے لے کر جلسوں تک اپنے بیانات اور تقاریر کے ذریعے معاشرے کو جس نہج پر ڈالا گیا ہے اس کا بار دنیا اور آخرت دونوں میں انہی پر ہو گا۔سمجھ سے
بالاتر امر یہ ہے کہ ہر جانب سے کردار کشی اور قبیح الزامات کا ایک ایسا سلسلہ چلایا جاتا ہے جس میں مخالفین ہی کی پگڑی نہیں اچھلتی بلکہ خود الزام تراشی کرنے والے بھی مخالف کے ساتھ خود بھی مادر زاد نظر آتے ہیں ۔یہ ایک ایسا سلسلہ چل نکلا ہے جو صرف سیاستدانوں ہی کا وتیرہ نہیں رہا بلکہ پورے معاشرے کو ان کے لب و لہجہ اور الفاظ نے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے یہ ایک ایسی قبیح حرکت اور عمل ہے کہ اس پر صرف سیاستدانوں ہی کو غور نہیں کرنا چاہئے بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لئے کوشاں اور خاص طور پر علمائے کرام ‘ دانشوروں اور اساتذہ سمیت سول سوسائٹی کو آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کو گالم گلوچ ‘ الزام تراشی اور انتہا پسندی کے فروغ کے لئے استعمال کا راستہ روکا جا سکے ۔جہاں تک بعض رہنمائوں کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کا سوال ہے یہ درست ہے کہ کچھ جذباتی اور نامناسب بیانات ضرور آئے اور جذبات کی رو میں بہہ کر اعصاب اور زبان و بیان پر قابو نہ رہا جس سے احتراز کیا جاتا تو مناسب ہوتا لیکن دیکھا جائے تو یہ معاملہ یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے حکومتی اہلکاروں اور حکومت میں شامل جماعتوں کے بعض رہنمائوں کے بیانات کا بھی اگر قانون و دستور کے مطابق جائزہ لیاجائے تووہ بھی قابل احتساب ٹھہریں گے مناسب یہی ہو گا کہ حزب اختلاف کے رہنما ہوں یا حزب اقتدار کے یہاں تک کہ وفاقی وزراء اور حکومتی شخصیات سبھی اپنے طرز عمل اپنی سوچ اپنے لب ولہجے اور بیانات پر نظر ثانی کریںتو مناسب ہو گا ہم سمجھتے ہیں کہ بیانات کا جواب بیانات سے دینے اور مذمت کرنے کا عمل کافی ہونا چاہئے اور اگر کسی جانب سے کوئی بھڑک ماری گئی ہے اور بدزبانی یا انتہا پسندانہ سوچ کا اظہار کیا گیا ہے تو اس کا احتساب عوامی عدالت پر چھوڑ دیا جائے اس ضمن میں کسی قسم کی کارروائی غلطی کے زمرے میں آئے گی البتہ ان سیاستدانوں اور رہنمائوں کو احساس ضرور دلایا جائے اور خود ان کی جانب سے کبھی کبھار اپنی تقریروں کو اکیلے بیٹھ کر سنتے ہوئے اس عمل کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیاان کا طرز خطاب اور الفاظ اخلاق کے دائرے کے اندر تھے یا پھر اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے یہاں ہم اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ سیاست میں طاقت کا استعمال اچھے نتائج کا حامل نہیں ہوا کرتا اس ضمن میں ماضی قریب میں ایم کیو ایم کی مثال ہمارے سامنے ہے جبکہ سیاسی معاملات میں حکومت کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال اور تشدد بھی خلاف قانون امر ہے اس ضمن میں حال ہی میں عدالت کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق کارروائی نہ کی گئی حکومت کی جانب سے جس لانگ مارچ کو ریاست مخالف ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے در حقیقت ایسا نہیں محولہ لانگ مارچ ریاست مخالف نہیں حکومت مخالف تھاجب ہرجانب سے ایک جیسے رویے اور کردار کا مظاہرہ ہو رہا ہے تو پھر جب کارروائی ہو گی تو اس کی لپیٹ میں سبھی آئیں گے بنا بریں”مٹی پائو” والا فارمولہ بہتر ہوگا۔