الیکش کمیشن میں پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈںگ کا الزام ثابت

ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصہ سنا دیا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے غیر ملکیوں سے لیے گئے فنڈز مننوعہ قرار دے دیئے۔ الیکشن کمیشن نےچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بیان حلفی کو غلط قراردیتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پرپاکستان تحریک انصاف پرممنوعہ فنڈز لینا ثابت ہوگیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ تحریک انصاف کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ فیصلے میں قراردیا کہ پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی فنڈنگ لی ہے۔ عمران خان نےالیکشن کمیشن میں غلط بیان حلفی جمع کرایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے2008سے2013 تک غلط ڈیکلیریشن دیے،عمران خان کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ غلط تھے۔ پارٹی نے 34 غیرملکیوں اور عارف نقوی سے فنڈزلیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے کیس کے آغازمیں 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی اور 13 کوچھپائے رکھا۔ پی ٹی آئی نے 34 غیرملکیوں سے فنڈزلیے۔ کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ابراج گروپ،آئی پی آئی اور یوایس آئی سےفنڈنگ لی۔پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فارن فنڈنگ ضبط کر لی جائے۔
فیصلہ الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 3 رکنی کے دیگر2ارکان میں نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی شامل ہیں۔
واضح رہے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجا کی سربراہی میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 21 جون 2022 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

مزید دیکھیں :   بدعنوانی میں محکمہ صحت کے درجنوں اہم افسرملوث