مائنس ون کا” شور ”

ملکی سیاست کے میدانوں، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک بار پھر مائنس ون کا شوروغل برپا ہے، گزشتہ سے پیوستہ روز سابق وزیراعظم عمر ان خان نے بھی کہا کہ”انہیں مائنس کرنے والے خسارے میں رہیں گے عوام جاگ چکے ہیں” پی ٹی آئی کے بعض رہنمائوں نے مائنس ون فارمولے کی خبروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سخت الفاظ میں ردعمل کا اظہار کیا، مائنس ون کی خبریں، افواہیں ہیں خدشات یا کسی کی دلی آروز؟ بنیادی طور پر اگر اس کا کوئی سر پیر ملتا اور سمجھ میں آتا ہو تو ارباب سیاست اور بالخصوص پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو ضرور ردعمل دینا چاہئے یہ ان کا سیاسی جمہوری اور اخلاقی حق ہے، عمر ان خان کو سیاسی عمل سے مائنس کرنے کی خواہش کس کی ہے اور کیا ہچکولے کھاتا سیاسی نظام ایسے کسی انتظام کی صورت میں ردعمل برداشت کر پائے گا؟ اس سوال کی اہمیت ہی مسلمہ نہیں بلکہ اس کا جواب تلاش کیا جانا بھی ازبس ضروری ہے، پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کی اس جماعت بارے رائے جو بھی حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح آج کی حقیقت ہے، آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت تبدیل ہو گی نا ہی مائنس ون کے خو ابوں کو من چاہی تعبیر مل پائے گی، ملکی سیاست میں قبل ازیں مائنس ون کے ذریعے سیاسی انتظامات اور نظام کی سہولت کاری کے جتنے بھی تجربات ہوئے ان کا نتیجہ کیا نکلا؟ پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان اور ان کی فہم کے حامیوں نے سیاسی نظام بی ڈی ممبروں کے ذریعے چلانے کی کوشش کی ان سے قبل فیڈریشن کے مغربی حصے(مغربی پاکستان ) کی چار صوبائی اکائیوں کو ختم کرکے ون یونٹ فارمولے کے تحت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے دو انتظامی یونٹ بنائے گئے، ون یونٹ فارمولے اور بعد ازاں ایوبی حکومت کے استحصالی نظام نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں جو دوریاں پیدا کیں ان کا نتیجہ دوسرے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان کے دور میں سقوط مشرقی پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا، تیسرے فوجی آمر نے مائنس بھٹو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے انہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی چڑھوا دیا مگر سیاسی عمل سے بھٹو کا سحر اور پیپلز پارٹی کا خاتمہ نہ ہوسکا،1988 سے اکتوبر1999 کے درمیانی برسوں میں چار حکومتوں کو کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کے تحت رخصت کروانے کے عمل سے کیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ختم ہوگئے؟ 12اکتوبر1999 کو جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو محترمہ بینظیر بھٹو پہلے ہی بیرون ملک مقیم تھیں ایک سال بعد میاں نواز شریف بھی سعودی عرب کی حکومت کی معرفت دس سالہ معاہدہ جلاوطنی کر کے خاندان سمیت ملک سے چلے گئے، جنرل مشرف نے صدارتی ریفرنس کروایا، اپنی مرضی کی سیاسی جماعت بنوانے کیلئے پہلے نون لیگ کو توڑا پھر پیپلز پارٹی میں سے”محب وطن”ڈھونڈ نکالے اور اٹھتے بیٹھتے یہ کہتے دکھائی دیئے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کا سیاسی کردار ختم ہو گیا ہے لیکن بعد کے برسوں اور حالات نے ثابت کیا کہ یہ فوجی آمر کی خوش فہمی تھیں، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش پر کامیابی سے عمل کروانے والی قوتوں کا خیال تھا کہ اس عمل کے بعد وفاقی سیاست ختم ہو جائے گی دیگر انتظامات کے ساتھ ملک میں صدارتی نظام کا ڈول ڈال لیا جائے گا مگر وہ ایسا نہ کر پائے۔
پاکستانی سیاست کے منتخب ادوار اور طاقتور حلقوں و معاونین کے طے کردہ فارمولہ کا مختصر جائزہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ مستحکم سیاسی عمل اور نظام سے ہی ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جو ہمہ وقت درپیش رہتے ہیں،2018کے انتخابی نتائج کے لئے ہوئی مینجمنٹ کیا اس سے قبل کے انتخابات میں نہیں ہوئی، دوتہائی اکثریت کیسے دلوائی جاتی رہی یہ درونِ سینہ راز ہرگز نہیں،گزشتہ پانچ ماہ کے دوران حکمران اتحاد مفروضوں پر مبنی اس بیانیہ کے غبارے میں سے ہوا نکالنے میں نہ صرف ناکام ہوا بلکہ گزشتہ حکومت کے بعض فیصلوں اور معاہدوں کا گلے پڑا ڈھول بھی بجانا پڑ رہا ہے اندریں حالات یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ اگر ماضی جیسے تجربات سے اجتناب کرتے ہوئے سیاسی عمل کے ذریعے پی ٹی آئی کا مقابلہ کیا جائے تو یہ مناسب ہوگا، البتہ یہ سوال اہم ہے کہ ماضی میں معمولی معمولی باتوں پر نوٹس اور سزائیں دینے کی روایت ڈالنے والے اب کھلی دشنام طرازی اور دھمکیوں کی طرف متوجہ کئے جانے پر ماضی کے برعکس موقف کا اظہار کیوں کرتے ہیں، اس دوہرے معیار کا نہ صرف انہیں جواب دینا چاہئے بلکہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر فرائض بجالانا ہوں گے، عمران خان نے مائنس ون کئے جانے کی صورت میں جن خدشات کا ذکر کیا ہے انہیں محض بڑبولہ پن کہہ کر نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں سیاسی جماعتیں مارشل لائوں، پھانسیوں، سڑکوں پر قیادت کے مار دیئے جانے یا جلا وطنیوں سے ختم نہیں ہوتیں، جمہوری روایات یہی ہیں کہ یہ اپنی غلطیوں کے بوجھ کے نیچے دب کر تاریخ کا حصہ بنتی ہیں، مناسب یہی ہو گا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کو بھی سیاسی میدان میں موجود رہنے سے محروم نہ کیا جائے، مائنس ون فارمولے کی کھچڑی کہیں پک رہی ہے تو ہنڈیا چولہے سے اتارنے میں ہی بہتری ہے اور اگر یہ افواہ ہے یا بعض حلقوں کے مطابق اس افواہ کو خود پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل نے خبر کی صورت دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے تو پھر ضروری ہے کہ عوام کے سامنے پورا سچ لایا جائے، ہم مکرر اس امر کی نشاندہی ضروری خیال کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کی تاریخ کے بدترین ادوار میں اگر کسی کی ناپسندیدہ سیاسی جماعت کی آخری رسومات نہیں ہو پائیں تو ایسا اب بھی ممکن نہیں حکمران اتحاد کے پاس سابق حکمر ان جماعت کے ذمہ داروں اور اہلخانہ کی کرپشن اقربا پروری وغیرہ کے ثبوت ہیں تو تحقیقات اور عدالتی عمل ہر دو کے لئے قانونی طریقہ کار موجود ہے، امید ہی کی جاسکتی ہے کہ کسی قسم کے ایڈونچر سے گریز کیا جائے گا اور اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں دستور کی بالادستی ہو اور قانون کی حکمرانی بھی، فرد گروہ یا جماعت کسی کو بھی دستور وقانون سے کھلواڑ کی اجازت نہ دی جائے ، کسی اگر مگر کے بنا یہ بات سب کو سمجھنا ہوگی کہ ایسے کسی عمل کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جس سے جمہوری عمل اور نظام کسی بند گلی میں پھنس جائیں۔

مزید دیکھیں :   معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کے تقاضے