بالاکوٹ شہیدوں کا شہر

عالمی شیطانی ایجنڈے کے پاکستانی مظہر یعنی ٹرانس جینڈر بل پر گفتگو کرتے ہوئے محترم قاسم جلال کو بالاکوٹ یاد آ گیا جہاں آپ 2005ء کے زلزلے کے بعد تشریف لائے تھے۔ اپنے کالم ”ٹرانس جینڈر بل، عالمی شیطانی ایجنڈا”میں آپ نے اپنی بالاکوٹ یاترا کا احوال بیان کرتے ہوئے اہل ِ بالاکوٹ کو جن شاندار الفاظ میں نوازا ہے میری یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر اس ”بالاکوٹ نوازی” پر قاسم جلال کے لیے حرف ِ تحسین اور روزنامہ”مشرق” کے لیے ہدیہ تشکر ہے۔میرا تعلق اسی بالاکوٹ سے ہے جہاں قاسم جلال کے بقول وہ کچھ ہوتا تھا جو ناقابل ِ بیان ہے مگر چوں کہ قاسم جلال زبان و بیان پر قدرت رکھتے ہیں اس لیے اس روانی سے بہت کچھ کہہ دیتے ہیں کہ سانس تک نہیں لیتے ۔
قاسم جلال کے پاس ہر وہ چیز موجود ہے جو دل دکھانے کے کام آتی ہے۔ آپ پہلے اپنے نشتر سے زخم لگاتے ہیں پھر اس پر نمک چھڑکتے ہیں اور اس ڈھنگ سے زخم لگاتے اور کار ِ نمک پاشی کرتے ہیں کہ بندہ مرغ ِ بسمل کی طرح تڑپتا ہے مگر لب تک نہیں ہلا پاتا۔ میں بھی تڑپ رہا ہوں مگر احتجاج نہیں کر سکتا، اپنی صفائی میں کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن کیا کروں کہ زلزلے میں گھروں کے بام و در نہ رہے تو قاسم جلال لٹے ہوئے بالاکوٹ کے ملبے پر کھڑے ہو کر قہقہے لگانے کے لیے بالاکوٹ پہنچ گئے تھے۔ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ اہل اقتدار نے تو ہمارے ساتھ جو کیا سو کیا مگر جلال سے بھرے ہوئے ایک شخص نے بھی حسب ِ توفیق وہ کچھ تقسیم کیا جو ہم سے سنبھالا ہی نہیں جا رہا۔
اہلِ بالاکوٹ تو شکوہ کناں تھے کہ اہلِ قلم ان کے حق میں بولتے نہیں اور اہل ِ اقتدار کو اپنے وعدے کا پاس نہیں۔کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، اجلاس ہوئے،کھلی کچہریاں سجیں، مسند نشیں آئے اور خواب دکھا کر واپس چلے گئے مگر لٹے پٹے لوگ 2005ء میں جہاں تھے اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ہم تو سبھی سے یہی کہتے تھے کہ:
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیجیے کوئی تو بولا ، کسی کے قلم کی سیاہی تو ہمارے لیے صرف ہوئی۔ اہلِ بالاکوٹ اب تو خوش ہو لیں۔ اہل ِ بالاکوٹ ہی کیوں، زلزلے نے تو کئی شہروں، قصبوں اور گاؤں کو ویران کیا تھا۔ قاسم جلال کو بالاکوٹ کا مدنی پلازہ اور اس سے وابستہ داستانیں تو از بر ہیں مگر آپ نے اگر ذرا تکلیف کی ہوتی تو اسی بالاکوٹ میں آپ کو اور بھی بہت کچھ سلامت مل جاتا مگر نہیں صاحب! آپ نے تو کالم کا پیٹ بھرنا تھا، اس لیے آپ کو بہت دور کی سوجھی ۔
تسلیم کہ ہم گناہ گار ہیں مگر ہم وہ ہر گز نہیں جو آپ جیسے لکھاری نے ہمارے بارے میں لکھ کر اپنا قلم توڑا ہے۔ مجھے یہ سب کچھ لکھنے کی بھی ضرورت نہ تھی مگر ہزاروں شہیدوں کے معصوم چہرے، ویران گلیاں، خوابوں سے خالی آنکھیں، بے یارومددگار لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ میرے قلم میں جو سیاہی ہے اس میں ہزارہ ہی نہیں کشمیر، پنجاب اور گلگت کی کئی صبحوں اور کئی شاموں کا عطر شامل ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے بھی مجھے روشنی کی کمک ملتی رہتی ہے۔ میرے خون میں قبائلی علاقوں کی شفق بھی گھلی ملی ہوئی ہے۔ میں پورے پاکستان کا ترجمان ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ اعجاز نعمانی نے کہا تھا:
پورب، پچھم، اتر، دکھن سارے اپنے لوگ
میں دنیا کے ہر زندہ انسان میں رہتا ہوں
یہ سب بجا مگر میں اپنے بالاکوٹ کا رسول حمزہ توف بھی تو ہوں۔کوئی مجھے برا بھلا کہے تو کوئی بات نہیں، میں اسے دعا ہی دوں گا مگرکسی کو یہ اجازت کیسے دی جا سکتی ہے کہ وہ پورے ایک معاشرے کے منہ پر کالک ملتا پھرے۔ بالاکوٹ شہیدوں کا شہر ہے، اس شہر کی تاریخ اور ثقافت سے جو بہت کم بھی آگاہ ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ شہر کسی امیر، وزیر، وڈیرے اور جاگیر دار سے کبھی مرعوب نہیں ہوا۔ یہ وہ قریہ ہی نہیں جس کا نقشہ قاسم جلال نے اپنی تحریر میں کھینچا ہے۔روزنامہ مشرق ہمارے صوبے ہی کا نہیں پاکستان کا ایک نمایاں اخبار ہے ۔اس اخبار سے میرے کئی دوست ،کئی احباب منسلک ہیںجن میںمشتاق احمد شباب اور عارف بہار شامل ہیں ۔

مزید دیکھیں :   ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا