خیبرپختونخوا کا صوبائی حقوق

صوبائی حقوق،خیبرپختونخوا کامشترکہ مفادات کونسل اور سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک :خیبرپختونخوا کابینہ نے صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے تمام قانونی اور آئینی ذرائع بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اس مقصد کیلئے مشترکہ مفادات کونسل جیسے ادارے میں آواز اٹھانے کیساتھ ساتھ سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا جبکہ صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلا کر تمام جماعتوں کے ارکان کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گااور ضرورت پڑنے پر اسلام آباد میں احتجاج بھی کیاجائے گا۔
صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس میں کابینہ کے ارکان، صوبائی چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہاکہ وفاق سے ہم اپنا حق چھین کر رہیں گے۔ تاہم انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ صوبے کی آمدن بڑھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کے سادگی اور کفایت شعاری کے سلسلے میں پہلے سے جاری مہم پر مزید موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے اور تمام محکموں کو اس پرسختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے غیر ترقیاتی اخراجات بشمول سرکاری دفاتر کی غیر ضروری تزئین و آرائش نہ کرنے کی بھی سختی سے ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے مشکلات کے باوجود عوام کو سستے آٹے کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے اہم منصوبے جاری رکھنے کے عزم کااظہار کیا۔
کابینہ کے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کے لیے مالی مسائل پیدا کر رہی ہے اوروفاق خیبر پختونخوا کے حوالے سے اپنے آئینی فرائض سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے صوبے کو پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں آج تک کوئی ادائیگی نہیں کی جو صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی اور ملک کے آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وفاق سے خیرات نہیں بلکہ صوبے ک ینی حق مانگ ر ہے ہیں۔
اس کے لیے مشترکہ مفادات کونسل سمیت تمام آئینی ذرائع استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی جائیں گے اور ضروری ہوا تو اسلام آباد میں احتجاج سے بھی گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا ہم نے مالی مشکلات کے باوجود سیلاب زدگان کی امداد جاری رکھی اور خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے سیلاب سے متاثرہ افراد کو ان کے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔ اسی طرح عمران خان کی ہدایت پر سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے صوبائی حکومت نے 20 کروڑ روپے پی ڈی ایم اے کو فراہم کر دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے لیے 14 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ میں سے 30 ارب روپے مزید کی بھی نشاندہی کی جا چکی ہے اسی طرح سنگل ٹریژری اکائونٹ کے ذریعے 20 ارب سیلاب زدگان کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا بنک آف خیبر میں اب تک سیلاب زدگان کیلئے ایک ارب روپے رقم جمع ہو ئی ہے جس کا 20 فیصد سندھ اور بلوچستان کے متاثرین کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات میں خیبر پختونخوا کے سیلاب زدگان کے لیے دس ارب روپے دینے کا اعلان کیا جو صرف اعلان تک محدود ہے اور وفاق نے آج تک خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے ایک پائی تک نہیں دی۔

مزید پڑھیں:  افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، ترجمان دفتر خارجہ