این اے 31پشاور

این اے 31پشاور ، 1988سے 2018تک انتخابی تاریخ کے آئینے میں

ویب ڈیسک :قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 31پشاور کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیر پائو یہاں سے الیکشن لڑچکے ہیں عمران خان اور آفتاب شیر پائو کو اس حلقے سے غلام بلور کیخلاف کامیابی ملی تھی جبکہ بے نظیر بھٹو کو غلام بلور نے شکست دیدی تھی عمران خان دوسری مرتبہ اس حلقے سے انتخاب لڑرہے ہیں۔
1988 سے 2018 تک ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی 3، پیپلز پارٹی 2 اور تحریک انصاف بھی 2 مرتبہ کامیابی اپنے نام کر چکی ہے جبکہ 2002کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار یہاں سے کامیاب ہوئے تھے 1988 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے عمران خان نے کامیابی کے بعد اس نشست کو خالی کردیا تھا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے موجودہ ضمنی انتخاب کے امیدوار غلام احمد بلور1988 اور2013 میں اسی حلقہ سے ہونے والے ضمنی انتخابات میں دونوں مرتبہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
1988میں آفتاب احمد شیر پائو نے غلام بلور کو شکست دیدی تھی تاہم وزیراعلیٰ کا عہدہ ملنے کے باعث انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی اور ضمنی انتخاب میں غلام بلور کامیاب ہوگئے تھے 1990 کے انتخابات میں اس حلقے پر بے نظیر بھٹو نے غلام احمد بلور کا مقابلہ کیا تھا اور غلام احمد بلور نے بے نظیر بھٹو کو شکست دیدی تھی 1993 میں پیپلز پارٹی کے سید ظفر علی شاہ نے اے این پی کے غلام احمد بلور کو شکست دیدی ۔1997 کے انتخابات میں غلام بلور نے پیپلز پارٹی کے قمر عباس کو شکست دیدی ۔2002 کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد سامنے آیا اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد خان نے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے عثمان بشیر بلور کو شکست دیدی تھی 2008 کے عام انتخابات میں پشاور کے اس حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور نے پیپلز پارٹی کے ایوب شاہ کو شکست دیدی جبکہ 2013میں یہاں سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خود حصہ لیا عمران خان نے غلام احمد بلور کو شکست دیدی تھی۔
عمران خان نے یہ نشست خالی کردی جس کے بعد ضمنی انتخاب میں اے این پی کے غلام بلور نے پی ٹی آئی امیدوار گل بادشاہ کو شکست دیدی۔2018 کے عام انتخابات میں اس حلقے کا نام تبدیل کردیا گیا اور اسے این سے ون سے این اے 31 بنا دیا گیا تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لینے والے شوکت علی نے 87 ہزار975ووٹ حاصل کرکے 42ہزار 526 ووٹ حاصل کرنیوالے اے این پی کے غلام احمد بلور کو شکست دی تھی ۔غلام بلور اس حلقے سے 5مرتبہ ایم این اے رہ چکے ہیں تین مرتبہ عام انتخابات اور دو مرتبہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔

مزید دیکھیں :   شہید جگری دوستوں کی بی ون امتحان میں کامیابی