مشرقیات

کون مسلمان ہو گا جو درود نہ جانتا ہو ہر نماز میں درود پڑھا جاتا ہے ۔ سنن ابو دائود اور سنن نسائی میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری قبر کے پاس درود شریف پڑھتا ہے اس کو میں خود سنتا ہوں اور جو کہیں دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ کوپہنچا دیا جاتا ہے
پہنچتا کس طرح ہے اس کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کام کے لئے بندھے ہوئے ہیں کام ان کا بس یہی ہے کہ روئے زمین پرجہاں کہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جائے وہ آپۖ کو پہنچادیتے ہیں ۔ درود پڑھنے والے پر خود سلام بھیجتے اور بار گاہ الٰہی کی نعمتیں اور برکتیں نازل کرتے ہیں۔
طبرانی میں ہے آپۖ نے ارشاد فرمایا کہ ۔۔۔ جو شخص اپنی تحریر میں درود کے الفاظ لکھے کسی کتاب میں کسی مضموں میں کسی شعر میں تو جب تک میرا نام اس تحریر میں لکھا ہوا رہے گا اس پر فرشتے برابر درود بھیجتے رہیں گے جہاں اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آئے وہاں بولنے اور سننے والے دونوں پرلازم ہے کہ آپۖ پر درود بھیجے ۔ چھوٹے سے چھوٹا درود یہ ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاجائے ۔
درمختار میں ہے کہ جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہو یا اس میں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آئے تواپنے دل میں زبان کوحرکت دیئے بغیر صلی اللہ علیہ وسلم کہنا چاہئے کیونکہ خطبے کے دوران میں کچھ بولنے کی اجازت نہیں بعض درس گاہوں کے سرکش اور بے پروا نوجوان سیرت اورمیلاد کی محفلوں کے لئے اعلان کرتے ہیں کہ یوم مصطفیۖ ہو گا یوں محبوب رب المشرقین والمغربین کا نام لینا نہ صرف بے ادبی ‘ گستاخی اور گمراہی ہے بلکہ یہ آپ کی محبت میں کمی کی علامت ہے کافروں ‘ یہودیوں اور نصرانیوں کا یہ طریقہ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا ۔جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لکھا جائے تو صلواة و سلام بھی لکھا جائے۔
در مختار میں ہے آپ ۖ کے نام نامی سے پہلے سیدنا بڑھا دینا مستحب اور افضل ہے اگر ایک مجلس میں کئی بار آپ ۖ کا اسم مبارک لیا جائے تو امام طحاوی کہتے ہیں ہر بولنے والے اور سننے والے کو درود کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں عام خیال یہ ہے کہ ایک بار درود لازماً پڑھنا چاہئے پھر یہ مستحب ہو جاتا ہے در مختار ی میں ہے کہ درود پڑھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ خاموشی سے پڑھا جائے ۔
بے وضو درود پڑھنا جائز اور باوضو درود پڑھنے میں بڑی فضیلت ہے دعائوںسے پہلے اور بعد میں درود شریف پڑھنے سے دعائیں بار گاہ الٰہی میں پہنچتی ہیں ورنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کی روایت معجم اوسط اور طبرانی میں ہے اور اسی مطلب کی روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ترمذی میں بھی مروی ہے کہ ۔۔۔ دعا معلق ہو جاتی ہے ۔
حکم نبوی ہے کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کثرت سے مراد کیا ہے اس کے بارے میں بعض علماء کا خیال ہے کہ پانچ سو مرتبہ درود پڑھا جائے تو وہ کثرت کی تعریف میں آجاتا ہے ظاہر ہے جتنا زیادہ درود پڑھا جائے اتنا ہی ثواب ہے درود سے رزق کے دروازے کھلتے اور سکینت حاصل ہوتی ہے ۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات