مشرقیات

تھکا اونٹ چلنا چاہتا بھی تو چل نہ سکتا تھا غزوہ ذات الرقاع سے مسلمان لوٹ رہے تھے ہر ایک کا دل چاہتا تھا کہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا دل بھی یہی چاہتا تھا لیکن ان کا اونٹ چل کر ہی نہ دیتا تھا سارا لشکر آگے نکل گیا یہ آہستہ آہستہ پیچھے جانے لگے ۔ مسند احمد بن حنبل میں ہے لشکر سے یہ اونٹ بھاگ گیا تھا جس کی وجہ سے حضرت جابر پیچھے رہ گئے تھے بہرحال جو بھی صورت ہوحضرت جابر کارواں میں نہیں گرد کارواں میں چل رہے تھے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ 19`18برس کی عمر میں ایمان لے آئے انصار صحابہ میں وہ بڑے درجہ کے صحابی ہیں جنگ خندق میں انہی کو یہ شرف حاصل ہوا تھا کہ انہوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا موقع وہ تھا جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔
جابر بن عبد اللہ انصاری کو لشکر ا سلامی کے پیچھے پیچھے آتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وجہ پوچھی اور جب وجہ معلوم ہوئی تو حضرت جابر کے اونٹ کے لئے دعا فرمائی۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ظاہر ہے کہ قبول ہوئی چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کرنے کے بعد کوڑا لیا اور اونٹ کے ہنکانے کے لئے اسے رسید کیا بس پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس کی چال بدلی قدم تیزی سے اٹھنے لگے حال یہ ہو گیا کہ لشکر کا کوئی اونٹ اس کے برابر نہ چل سکتاتھا وہی حضرت جابر جو قافلے میں سب سے پیچھے رہتے تھے اب لشکر میں سب کے آگے آگے نظر آنے لگے ۔
یہ حال دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔۔ اونٹ بیچتے ہو؟ حضرت جابر اونٹ کیا رسول اکرمۖ کے لئے تو اپنی جان بھی بیچ دیتے اور خوشی خوشی بیچ دیتے فوراً عرض کیا کہ ۔۔حاضر ہے! اونٹ کا مول ہوا اور خیبر البشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس درہم میں اونٹ خرید لیا طے یہ پایا کہ مدینہ پہنچ کر حضرت جابر اونٹ خدمت اقدس میں پہنچا دیں گے اور وہیں دام ادا ہو جائیں گے ۔ مدینہ پہنچے تو حضرت جابر اپنا اونٹ لے کر خدمت اقدس میںحاضر ہوئے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرما کر خیر الانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ چالیس درم تول دو۔۔ اس زمانے میں درم تول کے دیئے جاتے تھے جب حضرت بلال نے ترازو میں درم ڈالے تو معاً حضور سرور کشور ررسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک سنائی دیا کہ ۔۔۔ تول جھکتا رکھو۔ ناپ تول کے بارے میں اسلام میں بڑے سخت احکام ہیں جن گناہوں پر سخت ترین عذاب دیا جائے گا ان میں سے ایک گناہ کم تولنا یا کم ناپنا ہے یہ وہ گناہ ہے جس سے کوئی چھوٹ ہے ہی نہیں چاہے آدمی حج کر آئے ۔ اس گناہ کا عذاب آخرت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی ملتا ہے کم نانپنے اور کم تولنے والا ہمیشہ ہاتھ اور دل کا تنگ رہے گا۔۔ ہر طرح اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ذلیل و خوار رکھے گا۔ ارشاد نبویۖ کے مطابق حضرت بلال نے درم جھکتے تول کرحضرت جابر کو دیئے یعنی انہیں قیمت سے کچھ زیادہ ہی مل گیا۔۔ یہ ہے کھری معاملہ داری مگر اللہ کے رسولۖ تو پھر اللہ کے رسولۖ تھے آپۖ تو خطا پر بھی عطا کے بہانے ڈھونڈتے رہتے تھے یہ تو موقع ہی عطا کاتھا چنانچہ قیمت سے زیادہ پا کر ابھی حضرت جابر خوش ہی ہو رہے تھے کہ زبان مبارک سے ارشاد ہوا۔۔۔ اپنا اونٹ بھی لے جائو!۔

مزید دیکھیں :   جذبات اور سوالات کا آتش فشاں