وزیراعظم شہبازشریف نے سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کا پلان پیش کردیا

ویب ڈیسک: وزیر اعظم نےجنیوا میں بین الاقوامی موسمیاتی کانفرنس برائے پاکستان میں سیلاب متاثرین اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کا پلان پیش کردیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے پیش کردہ پلان کے مطابق پاکستان کو متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے ساڑھے 16 ارب ڈالر عالمی امداد درکار ہیں۔ 10 ارب ڈالر بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ ہوں گے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوِں کی بحالی کے لئے 4 ارب 35 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ انتظامی امور کی انجام دہی اور حکومتی اداروں کی استعداد بڑھانےکیلئے 41 کروڑ 30 لاکھ ڈالر درکار ہوں گے۔
اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی سماجی سرگرمیوں میں شمولیت یقینی بنانے اور ان کی بحالی پر 1 ارب 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے خطاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی، بحالی کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیا۔
بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی عوام کادکھ،دردمحسوس کرنےپرتمام شرکاکاشکریہ اداکرتاہوں، آج ہم تاریخ کےاہم موڑپرکھڑےہیں، سیلاب سےپاکستان میں بڑےپیمانےپرتباہی ہوئی، 33ملین لوگ متاثرہوئے، مکانات،تعلیمی ادارے،زراعت کےشعبوں کونقصان پہنچا، انفرااسٹرکچرکی تباہی کیساتھ معیشت بری طرح متاثرہوئی، متاثرین کی تعمیرنواوربحالی کیلیےبڑےپیمانےپرامدادکی ضرورت ہے۔

مزید دیکھیں :   پولیس کاخیال ہے اندرسے کوئی شخص حملہ آورسے رابطے میں تھا،وزیردفاع

شہباز شریف نے کہا کہ مشکل وقت میں مددکرنیوالےممالک کوپاکستان نہیں بھولےگا، سیلاب متاثرین کی بحالی اورتعمیرنوکیلیےفریم ورک تیارکیاہے، جس پرکام کرنےکیلیے16.3بلین ڈالرکی ضرورت ہے، پاکستان 16 ارب ڈالر میں سے پچاس فیصد خود برداشت کرے گا

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کانفرنس میں تمام شرکا کی آمد پر مشکور ہوں، آج پاکستان کو سیلاب کی وجہ سے درپیش مسائل پر بات کرنے آیا ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس کے ساتھ سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کادورہ کیا، پاکستان کے عوام انتونیو گوتریس کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔