پٹرول بحران کا خدشہ

ملک میں ایک بار پھر پٹرول بحران کا خدشہ، آئل کمپنیز کا حکومت کو خط

ویب ڈیسک :ملک میں ایک بار پھر تیل کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ملک میں تیل کے بحران کی گھنٹی بجا دی، او سی اے سی نے معاملے کی حساسیت پر حکومت کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بروقت ایل سیز نہ کھلنے سے ملک میں تیل کے بحران کا خدشہ ہے، بروقت ایل سیز کو یقینی بنانے کے لیے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کردار ادا کریں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز نہ کھلنے سے کچھ آئل کارگوز منسوخ ہوچکے ہیں اور ایل سیز نہ کھلنے سے تیل کی سپلائی میں تعطل پیدا ہورہا ہے
جسے فوری طور پر ختم کرنا ناگزیر ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرمالیت کا تیل درآمد کیا جاتا ہے، ملک میں ماہانہ 4 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن پٹرول 2 لاکھ میٹرک ٹن ڈیزل درآمد کیا جاتا ہے، ایک مرتبہ سپلائی چین متاثر ہونے کے بعد بحالی میں 6 سے 8 ہفتے لگیں گے۔دوسری جانب اوگرا نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ترجمان اوگرا نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا وافر سٹاک موجود ہے
اوگرا ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی شارٹیج کی خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہے، مزید 80 ہزار ایم ٹی پیٹرول اور 90 ہزار ایم ٹی ڈیزل لے جانے والے جہاز بلنگر خانے پر ہیں۔ترجمان اوگرا نے مزید کہا کہ مقامی ریفائنریز بھی کام کر رہی ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی طلب کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزید دیکھیں :   بینکنگ سیکٹر سے حاصل قرضوں میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ