اور کھل جائیں گے دو چارملاقاتوں میں

پچھلے دنوں ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ سیاست خلوص نیت سے کی جائے تو عین عبادت ہے ۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں اب سیاست مفادات اور حصول زر کی جنگ بن کر رہ گئی ہے ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں چند ایک کوچھوڑ کر جتنے بھی سیاستدان ہیں ان کے اثاثوں میں سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اور بعد میں زمین و آسمان کا فرق نہ سہی کافی فرق ضرور ہوتا ہے ۔ اس کا ایک اور اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر الا ماشاء اللہ’ جماعت اسلامی وغیرہ کو چھوڑ کر کہیں بھی جمہوری روایات کا چلن موجود نہیں۔ نام لینے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ نسل در نسل ”جمہوریت” خاندانوں کے اندرہی اندر چلی آرہ ہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کے بانی اور اکابرین اپنے اثاثوں کو بڑھاتے رہنے اور محفوظ رکھنے کے لئے ہی سیاست کرتے ہیں۔ پارٹی میں کوئی کارکن کتنا ہی مخلص اور شب و روز محنت کرنے والا ہو وہ کبھی بھی پارٹی کا صدر اور چیئرمین نہیں بن سکتا ۔۔ ایمرجنسی’ ضرورت اور بعض اوقات سخت مجبوری کے تحت کسی اور کوچند دنوں کے لئے برائے نام کرسی صدارت پر بٹھانا الگ بات ہے ۔اس طرز سیاست نے پاکستان میں جمہوری اداروں کا یہ حال کردیا ہے کہ نام کو تو یہاں انتخابات بھی ہوتے ہیں اور عوام ووٹ بھی ڈالنے پولنگ سٹیشنز میں تشریف لاتے رہتے ہیں لیکن حیرانی تب ہوتی ہے کہ عوام نے جس کو ووٹ ڈالا ہوتا ہے وہ ناکام اور جس کے ہاتھوں میںاقتدر کی لاٹھی ہوتی ہے وہ کامیاب ہوکر عوام کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک ہی انتخاب شفاف وغیر جانبدار ہوا یعنی 1970ء کا جس کے نتائج کو موروثی سیاستدانوں نے قول کرنے سے انکار کرکے ملک کو دو لخت کر دیا۔ بچے ہوئے پاکستان میں سانحہ مشرق پاکستان سے کوئی سبق نہ سیکھ کر آج بھی وہی طرز سیاست رواں دواں ہے ۔ جس کا تازہ مظہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات ہیں۔
جمہوریت کے پنپنے کے لئے خاص آب وہوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کی پہلی شرط ضرورت ملک کے عقائد اور تہذیب و تمدن کے مطابق تعلیم و تربیت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں ان کے دین و مذہب ‘ تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج اور تاریخ وبودو باش کا تعلیمی نصاب تیار کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تعلیم کے پالیسی سازوں کو ان چیزوں کی شد بد بھی بمشکل ہوتی ہے ہمارے ہاں شرح خواندگی کوتعلیم یافتہ کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کے جمہوری نظام میں 500 روپے میں بھی ووٹ خریدا جا سکتا ہے ورنہ آٹے کی تھیلی ایک عدد سائیکل یاگلی کوچے کو پختہ کرنے اور ہینڈ پمپس وغیرہ کے وعدوں پر تو بے دانہ و بے دام صیاد کے شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے سیاستدان جو ان طریقوں سے اقتدار میں آتے ہیں کبھی بھی اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے ۔ ہمارے ہاں کے جمہوری نظام میں جاگیرداروں ‘ سرمایہ داروں اور خان خوانین ‘ وڈیروں ‘ سائیں لوگوں نے 1950 سے اتنابڑا نقب لگایا ہے کہ اسے بھرنے کے لئے قومی سطح پر بہت بڑے دیدہ وروں کی ضرورت ہے ۔ ہاں علامہ اقبال و قائد اعظم جیسے ایک دو بھی آج مل جائیں ‘ تو کام چل جائے گا۔۔ ورنہ ہماری جمہوریت اسی طرح لولی لنگڑی ڈھائی تین برس کی مدت بھی بمشکل ہی پورا کر سکے گی۔
جاگیرداروں’ سرمایہ داروں اور زرداریوں و شریفوں کے اثرات سے مملوک سیاست کے مظاہر ہم صبح و شام دیکھتے ہیں جس میں اعتزاز احسن ‘ خواجہ سعد رفیق ‘ شاہد خاقان عباسی ‘ بلاول بھٹو اور مریم نواز کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں یہی حال دیگر صوبائی جماعتوں کا بھی ہے ۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ہاں آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ ہے اور ان سب پر مستزاد ہماری مضبوط و توانا اسٹیبلشمنٹ کا تو ہمیشہ سے سرپرستی کا ایسا ہاتھ رہا ہے کہ اس کے نیچے ہماری جمہوریت کراہتی رہتی ہے او رعموماً ٹوٹ کربکھر جاتی ہے جس کا اظہار پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے معزولی کے بعد کھل کر کیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ہمارے سیاستدان ہماری اسٹیبلشمنٹ سے شاکی رہے ہیں اگرچہ عجیب بات یہ ہے کہ یہی سیاستدان ‘ اسٹیبلشمنٹ کے چھتری تلے آنے کے لئے سو جتن کرتے رہتے ہیں اور فخریہ انداز میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحہ پر ہونے کا اظہار بھی کرتے تھے جو کبھی بھی صدق دل سے نہیں ہوتا ‘بلکہ مجبوریاں آڑے آتی ہیں اور جب کبھی یہ مشترکہ صفحہ پھٹ جاتا ہے تو سائفر اور ڈان لیکس سامنے آتے ہیں اور یہ کہانی یوں بہت طولانی ہو جاتی ہے آج تک نہ پوری سنائی جا سکی ‘ نہ سنی جا سکی ‘ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہماری جمہوریت(سیاستدانوں) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی عاشق و معشوق والا معاملہ ہے ۔
گلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
لب تازہ غزل خوانی خواجہ سعد رفیق کی سامنے آئی ہے سچ کہا ہے کسی نے کہ گوشت کتنا ہی کمزور ہوساگ اور ”پیتی ” سے بہرحال اچھا ہوتا ہے ۔ سعد رفیق پاکستان کے ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے والد گرامی نے جمہوریت ہی کے لئے جان کی قربانی دی تھی اور پھر خواجہ سعد رفیق نے دس برس سے سیاست میں قدم رنجہ فرما کر پورے پچاس برس اس دشت میں صحرانوردی کی ۔ دل پر پتھر رکھ کر شریف برادران کا ساتھ دیا لیکن اب مریم نواز کے پیچھے شاید ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا مشکل لگ رہا ہے ۔ اب ان حالات سے ان کا دل اتنا بھر گیا ہے کہ پچھلے دنوں اپنے ہاں کی جمہوریت کو چیچک زدہ قرار دے کر دل کی بات زبان پر لے ہی آیا ہے اس کے ساتھ ہی ا ن کی یہ بات وقت کی پکارہے کہ سب سیاستدان مل بیٹھ کر وطن عزیز کو ان معاشی مصائب سے نکالنے کی پر خلوص تدبیر کریں اور اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے کردار و فرائض تک محدود ہو کر جمہوریت کو راستہ دیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ۔
رات آکر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی

مزید دیکھیں :   اساتذہ کبھی خوش نہیں ہوتے