کرونا کرونا کا راگ الاپتے رہئے

زندگی کا سفر جاری ہے، کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا؟ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ ہر آدمی اپنے حصے کی زندگی گزارتا ہے اور پھر اگلی منزل کی طرف کوچ کر جاتا ہے لیکن اس چند روزہ حیات میں وہ بہت کچھ دیکھتا ہے، حضرت انسان کی چکاچوند کر دینے والی کارگزاریاں دیکھتا ہے حکمران آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے مگر انسان کے جوش وخروش میں کوئی کمی نہیں آتی، وہ اس طرح زندگی گزارتا چلا جاتا ہے جیسے اس نے یہاں سے کبھی رخصت نہیں ہونا۔ سالہا سال کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے اور بیچارے کو پل کی خبر نہیں ہوتی! لوٹ کھسوٹ، ماردھاڑ، ظلم وستم، ملاوٹ، رشوت، ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری اور نجانے کیا کیا کچھ کرتا رہتا ہے اور یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھ سے میرے کئے گئے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا لیکن دنیاوی چکاچوند اسے اپنے اندر غوطہ لگانے نہیں دیتی، اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت نہیں ملتا، اسے اپنی طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے سامنے بکھرے ہوئے لاتعداد مناظر میں ساری زندگی کھویا رہتا ہے، وہ اپنے آپ کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا اپنی پہچان کیساتھ ہی خالق کائنات کی پہچان مشروط ہے جب ہم اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتے اپنے آپ کو مکمل طور پر فراموش کردیتے ہیں تو غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہم نے اب تک بہت کچھ دیکھ لیا ہے کرونا کو دیکھنا تھا سو یہ بھی دیکھ لیا، اس وبا کے دوران لوگوں کے روئیے بھی دیکھے ہمارا، یہ خیال تھا کہ کرونا ہمیں اللہ کریم کی یاد دلا دے گا، یہ وائرس ہم سے زندگی چھیننے میں تو کامیاب رہا لیکن اس محاذ پر بری طرح ناکام رہا ہے۔ یہ ہمیں تبدیل نہیں کرسکا، ہم نے اس سے درس عبرت حاصل نہیں کیا! وبا کے ان دنوں میں رمضان المبارک کے شب وروز بھی ہمیں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، چھوٹی دکانیں کھولنے کا اعلان ہو چکا ہے، تعلیمی ادارے پندرہ جولائی تک مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں، اس کیساتھ ساتھ تمام بورڈز کے امتحانات بھی منسوخ کر دئیے گئے ہیں، طلبہ کیلئے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ انہیں بغیر کسی امتحان کے اگلی کلاسوں میں ترقی دیدی جائے گی، ویسے کل ایک ستم ظریف کہہ رہے تھے کہ طلبہ کو زیادہ خوشیاں منانے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ یہ فیصلہ واپس بھی لیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں عہدحاضر میں اب تک بہت سے کئے گئے اہم فیصلے واپس لیے جاچکے ہیں! کرونا اپنے ساتھ بہت کچھ لایا ہے اس میں سیکھنے کیلئے بھی بہت کچھ ہے اور درس عبرت حاصل کرنے کا بھی بڑا اچھا موقع ہے لیکن کس کو کہہ رہے ہو؟ اگر انفرادی طور پر کسی نے کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہو تو ضرور کی ہوگی لیکن اجتماعی طور پر ہمارے رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ دکاندار اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو سب کچھ کرونا پر ڈال دیا جاتا ہے، گلی گلی سبزیاں بیچنے والے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں، اگر کسی طرف سے کوئی صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے تو وہ کرونا کرونا کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرونا کی ہمارے سامنے کیا حیثیت ہے، ہم لوگ خود بھی تو کسی کرونا سے کم نہیں ہیں۔ انتظامیہ جرمانہ لیکر دکاندار کو چھوڑ دیتی ہے، تو وہ جرمانے میں ادا کی گئی رقم اپنے گاہک سے دوگنے چوگنے منافع پر دوبارہ وصول کرلیتا ہے۔ ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ بیٹا ڈسپلن انسان کے اندر ہونا چاہئے اگر آپ کا ضمیر مردہ ہوچکا ہو تو پھر آپ پر کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا۔ باہر سے آپ کو کتنا بھی ڈرایا دھمکایا جائے سزا دی جائے، آپ پر کچھ اثر نہیں ہوتا، جب تک آپ اندر سے تبدیل نہیں ہوتے بات نہیں بنتی، کسی کو باہر سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا! ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں افطار کے وقت چٹ پٹی چیزیں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہیں، طرح طرح کی چٹنیاں، آلوپکوڑے، سموسے اور پھر خاص طور پر کچالو پیڑا سب چھوٹے بڑے شوق سے کھاتے ہیں، لوگوں کے ذوق وشوق کو دیکھتے ہوئے پانچ سو روپے میں فروخت ہونے والی کچالو کی بوری اب بلیک میں پانچ ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے، ہر سال کچالو افغانستان سے درآمد کیا جاتا تھا لیکن اب سرحد بند ہونے کی وجہ سے کچالو افغانستان سے نہیں آرہا جبکہ یہاں ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے، دکاندار ایک بہت بڑا ماہر نفسیات بھی ہوتا ہے، اسے سب کچھ معلوم ہوتا ہے کہ کن دنوں یا کس موسم میں کس چیز کی طلب بڑھ جائے گی، اس لئے وہ پہلے ہی سے بہت سی اشیاء کا ذخیرہ کر لیتا ہے۔ رمضان المبارک میں پشاور میں کچالو کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اس لئے دکانداروں نے اس مقدس مہینے کی آمد سے قبل ہی اپنا سٹاک جمع کر لیا تھا، اب عام صارف کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن آپ کو عام لوگوں کی ہمت کی داد بھی دینی پڑے گی کہ اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ کچالو پیڑا کھانے سے باز نہیں آتے؟ کبھی کبھی تو حیرت ہوتی ہے، افطار سے کچھ دیر پہلے بازاروں میں چٹ پٹی اشیاء پر لوگ اس طرح گرتے ہیں جیسے کل کے دن نے طلوع نہیں ہونا، سب کچھ آج ہی خریدنا ہے؟ دوستو! یہ زندگی کے میلے ہیں کاروان گزرتے رہتے ہیں اور سب کچھ اسی طرح چلتا رہتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ کرونا کی کیا مجال ہے جو ہمارا کچھ بھی بگاڑ سکے ہم ویسے ہی ہیں جو پہلے تھے!