کم سے کم اُجرت میں اضافہ کا لفظی عندیہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں محکمہ محنت کے معاملات کا جائزہ اور خاص طور پر محنت کشوں کا ڈیٹا جمع کرنے اور کم ازکم اُجرت بڑھانے پر غور اس امر پر دال ہے کہ صوبائی حکومت محنت کشوں کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے اور وزیراعلیٰ ووزیرمحنت صوبے کے محنت کشوںکو ان کا جائز اور دیرینہ حقوق دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کشوں کی تعداد اور ان کے شعبوں سے متعلق مستند اعداد وشمار اکٹھی کرنے کے بعد ہی کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کرنا ممکن ہوگا۔ صوبے میں محنت کشوں سے متعلق اعداد وشمار پہلے سے بھی موجود ہوں گے اس میں ترمیم واضافہ اور ان اعداد وشمار کی دوبارہ جانچ پڑتال کی ضرورت ہے محنت کشوں کے کئی مسائل ہیں اگر یہ کہا جائے کہ ان کا روزگار ہی سب سے بڑے مسائل کا مجموعہ ہے تو مبالغہ نہ ہوگا، محنت کشوں اور ان کے بچوں کو حقوق دینے کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے اور اقدامات کا تو بہت شور ہوتا رہتا ہے لیکن عملی طور پر ابھی ابتداء کرنے کی ضرورت ہے وزیراعلیٰ نے اعلیٰ حکام کے جس اجلاس کی صدارت کی ہے امید ہے کہ صوبے میں محنت کشوں کے مسائل کے حل اور ان کو حقوق دینے کے حوالے سے یہ اجلاس کلیدی ثابت ہوگا۔ محنت کشوں خاص طور پر غیرسرکاری اداروں میں کام کرنے والوں کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ نجی اداروں میں الاماشاء اللہ لیبرلاز کا کوئی تصور ہی نہیں، مراعات اور سہولیات سے تو نجی اداروں کے جملہ ملازمین واقف ہی نہیں، حکومت نے خود کم سے کم اُجرت مقرر کی ہے اس پر شاید ہی کسی ادارے میں عمل درآمد ہو رہا ہو۔ جہاں وزیراعلیٰ محنت کشوں کی کم سے کم اُجرت میں اضافہ کرنے کے نیک ومبارک کام کا عزم رکھتے ہیں اس سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اور وزیرمحنت لیبر انسپکٹروں کی رپورٹوں پر صاد کرنے کی بجائے آزاد ذرائع سے محنت کشوں کی کم سے کم اُجرت کی ادائیگی و وصولی کا جائزہ لیں تو حقیقی مسئلے سے بخوبی آگاہی ہوسکے گی۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ جن محنت کشوں کو بنکوں کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے وہاں پر بھی مقررہ اُجرت سے کہیں کم ادائیگی کا محکمہ محنت کے حکام کو سراغ نہیں ملتا۔ محنت کشوں کو کم سے کم اُجرت دینے کے قانون کا جہاں کھلم کھلا مذاق اُڑایا جارہا ہو وہاں کم سے کم اُجرت میں اضافہ میں دلچسپی صرف سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے ملازمین ہی کو ہوگی عام محنت کش ویسے کے ویسا استحصال کا شکار ہی رہے گا۔
امتحانات کے انعقاد وعدم انعقاد کی بحث
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے ریگولر طالب علموں کو پروموٹ اور پرائیویٹ طالب علموں سے امتحان لینے پر غور کی تو گنجائش ہے طرفہ تماشا یہ ہے کہ وفاقی وزیرتعلیم کے واضح اعلان کے باوجود صوبوں کے بورڈز امتحانات کے انعقاد کی تیاریوں سے متعلق اجلاس کر رہے ہیں۔ نجی سکول مالکان کی کوشش ہے کہ سکولز جلد کھل جائیں اور ان کو فیسوں کی ادائیگی ہو، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اور طالب علموں کی زندگیاں ان کیلئے ثانوی حیثیت کا معاملہ ہے، ان کی بھی خواہش ہے کہ امتحانات کا انعقاد ہو بہرحال اس سے قطع نظر والدین اور طالب علم وزیرتعلیم کے اعلان کے بعد یکسو ہوگئے تھے لیکن تعلیم صوبائی معاملہ ہے اس لئے جب تک صوبے اور تعلیمی بورڈز اس حوالے سے باقاعدہ کوئی واضح اعلان نہیںکرتے ابہام برقرار رہے گا۔ سوشل میڈیا پر تو اس فیصلے پر یوٹرن کے امکانات پر کافی بحث چل رہی ہے۔ تعلیمی بورڈز کے پاس ریگولر طالب علموں کو پاس کرنے کا فارمولہ موجود ہے اور اس پر عملدرآمد بھی زیادہ مشکل نہیں اور نہ ہی معدودے چند کے علاوہ طالب علموں کو اس پر اعتراض ہوگا لہٰذا اس حوالے سے تو فیصلہ اور نفاذ ممکن ہے البتہ پرائیویٹ طالب علموں سے احتیاطی تدابیر کیساتھ امتحان لینے کا طریقہ کار یا کوئی بھی ممکنہ دوسری صورت پر غور کر کے جلد کوئی پالیسی کا اعلان کیا جائے تاکہ طالب علم یکسوئی کیساتھ تیاری کر سکیں۔
سکھ برادران کا قابل تحسین جذبہ
ٹورنٹو کینیڈا میں دو سکھ بھائیوں کا کورونا کے مریضوں کے علاج میں احتیاطی اقدامات میں رکاوٹ ثابت ہونے پر اپنی بنیادی مذہبی علامت داڑھی کی قربانی دینا غور کا مقام ہے۔ سکھ برادران نے بادل ناخواستہ اس اقدام سے مریضوں کے علاج کیلئے خود کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کی ضرورت کے تقاضوں کو پورا کیا جس سے ان کی مثالی انسان دوستی، انسانیت کی خدمت اور بیماروں کی خدمت کے جذبے کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ مذہبی علامت کی قربانی معمولی بات نہیں، غیرمسلموں کا یہ رویہ اور ہمارے ہاں احتیاط کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنے اور دوسروں کو بھی خطرے سے دوچار کرنے کا جو مظاہرہ عام ہے اس پر ہمیں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔