کاروبار حیات کی مکمل بحالی کا مرحلہ

وزیراعظم عمران خان کی منشاء کے مطابق خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کرنے کیساتھ ساتھ پیٹرول پمپ دن رات کھلا رکھنے اور ہیر ڈریسرز کو بھی ہفتے میں تین دن دکانیں کھولنے کی اجازت دیدی گئی، علاوہ ازیں ملک بھر میں اندرون ملک پروازیں بحال کردی گئیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ٹرانسپورٹ کھولنے سے قبل ایس او پیز پر عملدرآمد اور ٹرانسپورٹروں سے کرایوں کے تعین کیلئے مذاکرات کی بھی ہدایت کی ہے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو کورونا کے باعث ایک مرتبہ پھر بند کر دیا گیا ہے۔ خوش آئند خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں شرح اموات میں معمولی کمی آئی ہے، صوبے کے پانچ ڈویژنز میں نئی اموات نہیں ہوئیں، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پشاور میں چار، مردان میں دو اور صوابی میں ایک مریض کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ وطن عزیز میں جس قسم کی بھی صورتحال ہو عوام کی اکثریت نے حکومت کی مخالفت اور عدم تعاون کی ٹھان لی ہوتی ہے، ایک حلقے کی جانب سے ان حالات میں بھی ملک بھر میں جلوس کا انعقاد کر کے اس کا عملی اظہار ہی نہیں کیا بلکہ بازاروں اورسڑکوں پر معاشرے کے ہر طبقے کے افراد کی جانب سے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو ضروری نہیں سمجھتا۔ لاک ڈائون کھلنے کے بعد ایک ہی دن میں اربوں روپے کا ایسی مصنوعات اور اشیاء کا کاروبار ہوا جن کی چند دن رش میں کمی کے بعد بھی خریداری میں قباحت نہ تھی مگر بازاروں اور شاپنگ مالز پر ایسی یلغار کردی گئی کہ پچاس روزہ لاک ڈائون کی تپسیا ایک دن میں ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔ ان حالات میں حکومت کا مزید لاک ڈائون اور ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا کوئی فائدہ نہ تھا،بہرحال صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاک ڈائون کے خاتمے اور خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کیلئے سخت حفاظتی تدابیر تجویز کر کے ٹرانسپورٹروں کو اس کی پابندی کرائے اور اس ضمن میں سپرے اور دیگر لوازمات کو پورا کرنے کی ذمہ داری حکومت بھی سختی سے نبھائے تاکہ ممکنہ حد تک خطرات سے بچا جاسکے۔ صوبے میں ایک دن کی اموات کی شرح میں کمی آنے کو بہتر ی سے تعبیر کرنا ابھی قبل ازوقت ہوگا جب تک ہفتہ عشرہ نہ گزرے اور شرح اموات اور مریضوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی نہ آئے۔ وائرس کی ہولناکیوں اور خطرات میں کمی کی توقع درست نہ ہوگی۔ ماہرین کا بھی اندازہ ہے کہ جون کے آخر اور جولائی کے اوائل تک وائرس کے پھلائومیں اضافے کا خطرہ ہے اب جبکہ لاک ڈائون کا خاتمہ اور پبلک ٹرانسپورٹ وپروازیں بحال ہورہی ہیں، عید الفطر کے موقع پر بہت بڑے پیمانے پر آمدورفت ہوگی، یہ دس پندرہ دن نہایت ہی پرخطر ہیں۔ اس دوران حفاظتی تدابیرپر عملدرآمد اور احتیاط کے تمام درجوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال حکومت کے پاس تمام کاروبار مشروط طور پر کھولنے کی اجازت دینا ناگزیر ہوگیا تھا، یہ فیصلہ مناسب تھا یا نامناسب اس کا فیصلہ آنے والے دن ہی کریں گے، جب اس فیصلے کے اثرات سامنے آئیں گے البتہ اگر عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور تاجر حضرات بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں توخطرات میں کمی ممکن ہوگی۔ حکومت کی مشکل یہ ہے کہ لاک ڈائون کریں تو معیشت بیٹھ جاتی ہے اور اگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے تو کورونا پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ سے قبل مشاورت اسلئے ضروری ہے کہ اس کی نوعیت اہم، مختلف اور نازک ہے، خاص طور پر برائے نام احتیاطی تدابیر کی بھی پابندی کا یقین نہیں۔ ہمیں من حیث القوم اس امر کو سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں آفت کیساتھ وقت گزارنے والی ہم پہلی نسل اور قوم نہیں دنیا بھر میں آفات آتی رہی ہیں اور مسائل بھی آتے رہتے ہیں، ہمیں اس امر کو بہرحال سمجھنا ہوگا کہ ممکنہ بچائو اور احتیاطی تدابیر کیا ہیں جنہیں اختیار کر کے ہم اپنے معمولات اور کاروبار حیات کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ ہمیں حالات کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا اور بے احتیاطی ترک کر کے احتیاط کو لازم کرنا ہو گا۔ جاری حالات پاکستانی قوم سے اپنی مرضی کی بجائے حالات کیساتھ جینے کے تقاضوں کو اپنانے کا متقاضی ہے۔ صوبائی حکومت کو صحت کی سہولتوں میں اضافے اور حالات سے نمٹنے کی پوری تیاری رکھنی ہوگی اور حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کیخلاف سخت رویہ اپنانا ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹ کی بحالی کے موقع پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر نئے کرایوں کا تعین تو ہوگا لیکن حکومت اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنانے کی ضمانت لینے کے بعد ہی ٹرانسپورٹ بحال کرنے کی اجازت دے اور عیدالفطر کے موقع پر خاص طور پر کرایہ ناموں کی پابندی روانگی کے اڈوں سے لیکر منزل پر پہنچنے تک جگہ جگہ مسافروں سے کرایہ کی معلومات لیکر خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی کی جائے۔ مسافروں کی شکایت وصولی کیلئے حکومت کی جانب سے شکایت مرکز قائم کر کے اس کا نمبر مشتہر کیا جائے تو مسافرگاڑی میںبیٹھے اپنی شکایات سے انتظامیہ کو آگاہ کر سکیں گے جس کی روشنی میں اس گاڑی کے مسافروں سے کسی ایک مقام پر معلومات حاصل کر کے شکایت کی تصدیق کے بعد کارروائی ہوسکے گی۔ حکومت چاہے تویہ کارروائی مشکل نہیں بار بار کی شکایت پر کان نہ دھرنے کا جورویہ ہے جب تک اسے ترک نہیں کیا جائے گا ٹرانسپورٹرز کبھی بھی سرکاری کرایہ نامہ کی پابندی نہیں کریں گے۔