بارش متاثرین کی دادرسی

حالیہ بارشوں سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خصوصا بالائی اضلاع میں جہاں بارش ،ژالہ باری اور برف باری کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ،سیلابی صورتحال اور املاک کو شدید نقصان پہنچنے کیساتھ ساتھ جانوروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کیساتھ ساتھ کئی مقامات پر گھروں کی چھت گرنے کی وجہ سے انسانی جانیں بھی تلف ہو چکی ہیں،کھڑی فصلوں کونقصان ہونے کی اطلاعات بھی آچکی ہیں،اب تک17قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور ایسے علاقوں سے جہاں سے تباہی اور بربادی کی اطلاعات یا تو پہنچی نہیں یا پھر مواصلات کے نظام کی کمزوری کی وجہ سے تباہی کی داستانیں پوری تفصیل کے ساتھ سامنے نہیں آ سکیں اور اس حوالے سے مختلف مقامات کی مقامی انتظامیہ یا تو صورتحال پر سنجیدہ توجہ دینے میں غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے یا پھر ابھی تک امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور انہیں موقع نہیں مل سکا کہ وہ اس حوالے سے تمام ریکارڈ جمع کر کے متعلقہ محکموں تک پہنچا کر عوام کی دادرسی کیلئے بندوبست کر سکے ،تاہم نو منتخب وزیرا علیٰ امین اللہ خان گنڈاپور نے جو بیان دیا ہے وہ خاصہ حوصلہ افزاء ہے، انہوں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بارش اور برف باری کی وجہ سے حادثات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے، وزیرا علیٰ نے ان حادثات میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کرے گی ،درایں اثناء وزیراعلیٰ نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے جبکہ برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی، وزیرا علیٰ نے متاثرین کی دادرسی کے حوالے سے متعلقہ اداروں اور حکام سے متاثرین کو امداد بم پہنچانے کیلئے جو ہدایات جاری کی ہیں اس پر اگر چہ اظہار اطمینان کیا جا سکتا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ متعلقہ حکام متاثرین کو آسانیاں اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، اس ضمن میں اگر حکومت اپنا کردار صرف وقتی امداد تک محدود نہ کرے بلکہ جاںبحق اور زخمی ہونے والوں کی مالی امداد کا بھی اعلان کر دے جبکہ تباہ ہونیوالے گھروں کی دوبارہ تعمیر ،جانوروں کی خریداری میں تعاون کرنے جبکہ متاثرہ علاقوں میں مالیہ اور آبیانہ معاف کر کے متاثرہ افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں ہر ممکن تعاون اورامدادمہیاکرے تو اس سے متاثرہ افراد کسی نہ کسی حد تک اپنے پاؤںپرکھڑے ہونے میںآسانیاں محسوس کریں گے ،درپیش حالات میں اب تک کسی بھی ادارے کی جانب سے جو ایسے حالات کے پیش نظر ہمیشہ متاثرہ عوام اور علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر کے ہر قسم کی امداد کرتے ہیں ابھی تک کسی بھی ایسے اداروں کی جانب سے تحرک نظر نہیں آرہا ہے، اس میں قطعاً شک نہیں کہ حالیہ انتخابات اور اس کے بعد انتخابی نتائج پر ملک بھر میں ایک بار پھر احتجاجی آوازیں اٹھ رہی ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے تحت چلنے والے زیلی ادارے جو ہمیشہ قدرتی آفات کی صورت میں آگے آ کر نہ صرف عوام کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ متاثر ہونے والوں کو امدادی سامان اور رقوم پہنچاتے ہیں ،ان کی جانب سے بھی کسی سرگرمی کی اطلاعات سرے سے اگر نہیں ہیں تو شاید بہت ہی کم نظر آتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں موجود امدادی سرگرمیوں سے وابستہ ادارے آگے آئیں اور نہ صرف متاثرین کو ہر قسم کی امداد مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ،خاص طور پر جبکہ رمضان المبارک کی آمد میں لگ بھگ 10/8دن رہ گئے ہیں اور متاثرین کو تعاون کی اشد ضرورت ہے تو یہ ادارے سامنے آئیں جبکہ مخیر حضرات سے بھی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر سال جس طرح رمضان المبارک کے دوران زکواة، صدقات اور خیرات میں کردار ادا کرتے ہیں وہ اس حوالے سے معروف اور قابل اعتماد اداروں کے ساتھ دست تعاون بڑھاتے ہوئے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کریں۔

مزید پڑھیں:  جامعات کے ایکٹ میں ترامیم