کچھ کمایا نہیں بازار خبر میں رہ کر

آج جون کے مہینے کی 27تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں انفرادی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، زندگی کو سہل بنانے کیلئے کسی نہ کسی کاروبار سے وابستہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ جو قصبہ قصبہ مارکیٹیں اور بازار لگے ہیں اور ان بازاروں میں دکان دکان خریداروں کا ہجوم ہے یہ سب ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔ دکاندار دکانیں کھول کر اس لئے بیٹھے ہیں کہ ان کی دکانوں پر رکھے ہوئے مال کے خریدار آئیں اور ان سے وہ سودا خرید کر لے جائیں جس کیلئے وہ دکان سجائے بیٹھے ہیں۔ اس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے کے مصداق گاہک یا خریدار کی وہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے جس کیلئے وہ خریداری کرنے نکلا ہے اور دکاندار کی وہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے جس کیلئے وہ دکان کھول کر بیٹھا ہوا ہے۔ اسے اصل زر کے علاوہ وہ منافع بھی ہاتھ آجاتا ہے جس کیلئے اس نے اتنی محنت کرکے اور اصل زر خرچ کرکے دکان میں مال ڈالا۔ دکاندار کی اس محنت شاقہ کو ہم دکانداری کہتے ہیں جو کاروبار حیات کی بہت سی اقسام میں سے ایک قسم سمجھی جا سکتی ہے۔
یہ کاروبار محبت ہے تم نہ سمجھو گے
ہوا ہے مجھ کو بہت فائدہ خسارے میں
دنیا میں مختلف النوع یا بہت سی قسموں کے کاروبار ہورہے ہیں، جن میں کچھ کاروبار انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں، کچھ چھوٹے موٹے، کچھ درمیانے درجے کے، کچھ بڑے اور کچھ بہت بڑے، انفرادی کاروبارکی فہرست میں بہت سے کاروبار ایسے ہیں جن کو شروع کرنے والے گھر بیٹھے ہی اپنی آمدن بنا لیتے ہیں، مثلاً گھروں میں مرغیاں پال لینا، شہد کی مکھیاں پالنا، بہت سارے لوگ بھیڑ بکریاں گھر کی چھتوں پر پال لیتے ہیں، ہم نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے گھر کی چھتوں پر گائے اور بیل پال کر انہیں کرینوں کے ذریعہ چھت سے اُتار کر عید قربان پر بکرہ منڈی پہنچا کر فروخت کیا اور یوں ہزاروں کمائے، آج کل لوگ آن لائن جاکر یوٹیوب کیلئے ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرکے گھر بیٹھے پیسے کما رہے ہیں، یہ اور اس نوعیت کے دیگر بہت سے کاروبار انفرادی کاروبار کی ذیل میں آتے ہیں، یہ جو گلی گلی پرچون کی دکانیں کھولے لوگوں کی روزمرہ ضرورت کی اشیاء سجائے بیٹھے ہیں، یہ بھی ان کا انفرادی اور چھوٹے پیمانے کا کاروبار ہے، اپنے گھر کا خرچہ نکالنے کے علاوہ ان لوگوں کی بھی ضرورت پوری کر رہے ہیں جو ان اشیاء کے خریدار کہلاتے ہیں، میں اپنی زندگی بھر کے تجربات کی بنیاد پر عرض کررہا ہوں کہ یہ جو گلی گلی پرچون کی دکانیں کھولنے والے دکاندار ہوتے ہیں حقیقی معنوں میں حق حلال کی روزی کمارہے ہوتے ہیں، وہ یہ جانتے ہیں کہ اہل علاقہ کو کیا کچھ چاہئے، سو وہ ہول سیل مارکیٹوں سے ایسی اشیاء چن چن کر لاکر اپنی پرچون کی دکانوں پر سجا کر رکھتے ہیں جو اہل علاقہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں، اہلیان علاقہ میں بچے بوڑھے جوان زن ومرد سب ہی کو گنا جاسکتا ہے جو اس علاقہ میں رہائش رکھتے ہیں، اس لئے انہیں ٹافیوں سے لیکر گھروں میں استعمال ہونے والی ہر وہ چیز رکھنی پڑتی ہے جو عام لوگوں کی ڈیمانڈ ہوتی ہے، ہم چوں چوں کا مربع کہہ سکتے ہیں پرچون فروشوں کی دکان میں پڑی ہوئی اشیاء کو اور ان کی اس محنت شاقہ کی بدولت حاصل ہونے والی آمدن کی رفتار کو کسی خراب گھڑی یا وال کلاک کی بے ربط ٹک ٹک کی آواز سے تشبیہ دے سکتے ہیں، بڑا صبرآزما کام ہوتا ہے یہ پرچون فروشی کا جبکہ اس کے مقابلے پرچون فروشی ہی میں کچھ کام ایسے ہیں جن کی رفتار منافع کو گھڑی کی ٹک ٹک کی بجائے، طبلے کی تھاپ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے یعنی اس میں آمدن یا منافع قدرے زیادہ ہوتا ہے، ایسے کاروبار میں ہم کپڑا بیچنے والے بزاز کے کاروبار کی مثال دے سکتے ہیں، گھڑی کی ٹک ٹک، طبلے کی تھاپ کے بعد ایسے کاروبار کا درجہ آجاتا ہے جس میں آمدن ومنافع کے دھماکے ہوتے ہیں، ایسے کاروبار یا کام کاج میں پراپرٹی ڈیلنگ یا جائیداد کی خرید وفروخت کے کام ہیں جس میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو گاہک کی ضرورت اور اس کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھتا ہو یا آئے ہوئے گاہک کو خالی ہاتھ واپس جانے نہ دینے کا گر جانتا ہو، اگر ایسی بات نہ ہو تو پھر دکان دار کو یہ بات کرنے کا حق حاصل ہے کہ
کیا شکایت ہے جو کٹ گئے گاہک
مال ہی جب دکان میں نہ رہا
(باقی صفحہ 7)