نوپورشرما

نوپورشرماکے ایک اورحامی کاسرتن سے جدا

مہاراشٹر( ویب ڈیسک)بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ نوپورشرماکی حمایت میں پوسٹ کرنے پر راجستھان میں ہندودرزی کی طرح ماراشٹرمیں ایک دوافروش کابھی سرتن سے جداکیا گیا ہے۔

انڈیا کی مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) امراوتی میں ایک طبی پیشہ ور کے قتل کی بھی تحقیقات کرے گی۔ پولیس نے اب تک دوفروش امیش کولھے کے قتل کیس میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ امراوتی تحصیل دفتر کے قریب رچنا شری مال میں امیش کولھے کی امیت ویٹنری کے نام سے میڈیکل کی دکان ہے۔21 جون کی رات وہ اپنی دکان بند کرکے گھر کے لیے نکلے۔رات تقریباً ساڑھے 10 بجے، چار پانچ حملہ آوروں نے انھیں پکڑ لیا اور چاقو سے امیش کا گلا کاٹ کر فرار ہو گئے۔حملے کے وقت امیش کی جیب میں 35000 روپے نقد تھے لیکن حملہ آوروں نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔

مزید پڑھیں:  اسرائیلی حملے جاری ،مزید 32فلسطینی شہید ہوگئے

امیش کولھے کے بھائی مہیش کولھے نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا ہے کہ بھیا نے کچھ گروپس میں نوپور شرما کے بارے میں کچھ پیغامات فارورڈ کیے تھے۔ امیش بلیک فریڈم نامی ایک واٹس ایپ گروپ کے سرگرم رکن تھے۔اس گروپ میں ہندو نواز پوسٹیں شیئر کی جاتی تھیں۔ کچھ دن پہلے امیش نے بھی نوپور شرما کے متنازع بیان کی حمایت میں اس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کی تھی۔پولیس کو شبہ ہے کہ گروپ کے باہر بھی یہ پوسٹ وائرل ہوئی اورایک مسلم گروپ کو بھیج دیا تھا۔مقامی پولیس نے اس کیس میں سات افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں سے ایک عرفان نامی شخص کو اس واردات کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:  رفح پر حملہ خون کی ہولی ثابت ہو سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت