اسرائیلی ویکسین سے فلسطینی شہری محروم

مسلم ممالک کی اکثریت اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کیساتھ سفارتی تعلقات استوار کر رہی ہے' عرب ممالک نہ صرف خود اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کر رہے ہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطین کے مسلمانوں کیساتھ امتیازی رویے کیساتھ پیش آرہی ہے۔ لاکھوں فلسطینی اسرائیل کے زیرتسلط زندگی گزارنے پر مجبور ہیں' اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح سے اسرائیل اپنے شہریوں کو سہولیات فراہم کر رہا ہے' فلسطین کے شہریوں کا بھی اسی طرح سے خیال رکھا جاتا' کیونکہ تیس لاکھ کے قریب فلسطینی اسرائیل کے زیرتسط اور ماتحت زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اسرائیل کے قیام سے لیکر آج تک اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کیساتھ ناروا سلوک سے پیش آرہی ہے' حال ہی میں اس امتیازی سلوک کی مثال سامنے آئی ہے کہ اسرائیل نے کورونا سے بچاؤ کیلئے جو ویکسین منگوائی تھی وہ اسرائیلی شہریوںکو تو لگائی جا رہی ہے لیکن اپنے زیرِ تسلط فلسطینیوں کو اس ویکسین سے محروم رکھا جا رہا ہے حتیٰ کہ غزہ اور مغربی کنارے جو فلسطینی اور یہودی ایک ساتھ رہ رہے ہیں وہاں بھی اسرائیل نے یہودیوںکو تو کورونا ویکسین لگائی اور جو بچ گئے ہیں انہیں مارچ 2021ء تک ویکسین لگا دی جائے گی لیکن اسی علاقے میں مقیم فلسطینیوں کو ویکسین لگانے کا اعلان نہیں ہوا ہے' آپ اندازہ کریں کہ اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو بھی کورونا ویکسین سے محروم رکھا جا رہا ہے' جو انسانی حقوق کیخلاف ہے اور عالمی سطح پر ہونے والے اوسلو نامی معاہدے کی رو سے بھی اسرائیل اس بات کا پابند ہے کہ وبائی صورتحال میں اسرائیل فلسطین کیساتھ ملکر کام کرے گا۔ کیسی عجیب منطق ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ کی زمینوں پر ملکیت کا تو دعویدار ہے لیکن وہاں پر رہنے والے فلسطین کے مسلمانوں پر خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے' انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہئے' جو مسلمانوں کی طرف سے معمولی نوعیت کے امتیازی سلوک پر چیخ اُٹھتے ہیں' فلسطینیوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے بھی ان کی زبانوں پر تالے لگ گئے ہیں۔شعبۂ طب سے منسلک ہر فرد بالخصوص ڈاکٹرز کے حلف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت کریں گے' یہی وجہ ہے کہ اگر دشمن ملک میں بھی مریض کے علاج کیلئے رابطہ کیا جائے اور اس مقصد کیلئے ویزہ طلب کیا جائے تو سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود مریض کو ویزہ دینے سے انکار نہیں کیا جاتا ہے' کیونکہ بین الاقوامی سطح پر نہ صرف انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قوانین موجود ہیں بلکہ اخلاقی اقدار بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو تکلیف کی صورت میں تنہا چھوڑ دیا جائے' آج کی دنیا تو مہذب کہلاتی ہے لیکن دورِقدیم اور جہالت کے دور میں بھی ڈاکٹرز کو خاص اہمیت حاصل تھی' جہاں اطباء کو کسی ایک ملک یا قوم کا نمائندہ نہیں سمجھا جاتا تھا' ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ حالت جنگ میں جب دشمن کو علاج کی ضرورت پیش آئی تو مخالف گروہ نے علاج کی سہولت خدمت سمجھ کر انجام دیں، تاہم اسرائیل اپنی ان ذمہ داریوںسے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے' حالانکہ اپنے یہودی شہریوں کی طرح مسلمان شہریوں کو بھی ویکسین فراہم کرنا اسرائیل کی قانونی ذمہ داری بنتی ہے' لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہودی آبادی کی ضروریات پوری ہو جانے کے بعد وہ مسلمان آبادی کو ویکسین فراہم کرنے کا سوچے گا۔ مغربی ممالک کی اسرائیل کیساتھ وفاداری سمجھ میں آتی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مسلم ممالک بھی اسرائیل کے حق میں رطب اللسان دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی شہریوں وحکومت کی طرف سے فلسطینیوں کیساتھ امتیازی سلوک محض علاج معالجہ میں ہی نہیں برتا جاتا بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی فلسطینی طلبہ کیساتھ نسلی بنیادوں پر سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسرائیل کی نئی نسل میں متعدد ایسی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں کہ جب ان کے درمیان فلسطینی مسلمان آ گیا تو وہ ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے، اسرائیلی عوام کا یہ برتاؤ اس امر کا عکاس ہے کہ یہودی فلسطینیوں کو کسی صورت قبول اور برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں' کچھ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب فلسطین اور اسرائیل الگ الگ ریاستیں ہیں تو پھر اسرائیل سے اچھے کی اُمید کیوں کی جا رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کشمیر کی طرح فلسطین کے کئی علاقے اسرائیل نے اپنے زیرتسلط رکھے ہوئے ہیں' جن کی زمینوں پر اسرائیل قابض ہے اور مستقبل میں ان زمینون کو ہڑپنے کیلئے منصوبہ سازی بھی کر رہا ہے لیکن انہی زمینوں پر بسنے والے فلسطینی جو دراصل ان زمینوں کے اصل مالک بھی ہیں انہیں بنیادی حقوق دینے کیلئے تیار نہیں ہے، فلسطینی مسلمانوں کی حالت نہایت کمزور ہے، ایسے حالات میں مسلم اُمہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کی آواز بنیں، اگر مسلم ممالک اس کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے لگیں گے تو فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ پس پردہ چلے جا ئیگا۔