پاکستان کی اچھی پیشکش

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے نئی امریکی قیادت کو پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان،امریکا اور چین کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے،الجزیرہ ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کو چین سے پاکستان کی قربت کو معاشی اور سیاسی حریف کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیئے،بلکہ پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تاریخی طور پر امریکہ چین میں رابطے کے امکانات پیدا کئے ہیںپاکستان نے ایسا کردار1972ء میں بھی ادا کیا تھا،انہوں نے کہا کہ امریکہ کوسی پیک میں آنا چاہیئے،امریکہ سی پیک میںسرمایہ کاری کرے نئی امریکی انتظامیہ سے تعلقات میں اضافے کی امید ہے اور قریبی تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں،افغان امن عمل میں نئی امریکی قیادت سے مل کر کام کرنے کے بھی خواہشمند ہیںامر واقعہ یہ ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دور صدارت کے دوران چین کے خلاف امریکی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان مخاصمت کی نئی داستانیں رقم ہوتی دیکھی گئیں،خصوصاًچین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مل کر سی پیک اور گوادر بندرگاہ میں سرمایہ کاری اورتکنیکی تعاون سے ابھرنے والی صورتحال کو امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے نقصان دہ سمجھ کر اقتصادی ناکہ بندی کی کوشش شروع کریں،اس مقصد کیلئے بھارت جیسی بڑی اور وسیع منڈی میں سرمایہ کاری کیلئے ڈالروں کے انبار لگادیئے،جبکہ اس دوران اچانک کورونا وباء کے پھوٹنے سے امریکی سابق صدرٹرمپ نے چین پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف جارحانہ اقتصادی اور سماجی ناکہ بندی کی کوششیں شروع کردیں،بلکہ اپنے حمایتیوں کو بھی اس پروپیگنڈہ مہم میں شامل کر کے چین کی اقتصادی ناکہ بندی کی آڑ میں پاکستان کو بھی رگید نے کی کوششیں شروع کردیں،تاہم دوسری جانب افغانستان میں جس طرح امریکی پالیسیاں مسلسل ناکامی سے دوچار رہیں،اور وہ شکست پر شکست کا سامنا کرتارہا ساتھ ہی وہ افغانستان کے دلدل سے باہر نکلنے کیلئے پاکستان سے تعاون کا بھی طلبگار تھا اب جبکہ امریکی انتخابات کے نتیجے میں واشنگٹن میں جو بائیڈن کی قیادت میںنئی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور اس نے اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کا عندیہ بھی دیدیا ہے سابق صدر کے بعض جارحانہ اقدامات کو رول بیک کرنے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں جبکہ مسلمانوں کے خلاف امیگریشن پابندیوں کے خاتمے کا اعلان بھی کردیا گیا ہے ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دنیا بھر کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے اس لئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے چین اور امریکہ کے مابین کشیدہ تعلقات کو ختم کرنے کیلئے مصالحتی کردار کا اعلان نیک شگون ہے شاہ محمود قریشی نے بالکل درست کہا ہے کہ1972ء میں سابق آمر جنرل یحییٰ خان کے دور میں تو امریکہ اور چین کے درمیان مکمل مخاصمت والی صورتحال تھی اور دونوں کے درمیان تعلقات تھے ہی نہیں جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ کے دورہ پاکستان خاموش سفارتکاری کے ذریعے خفیہ طور پر اس دور کے سیکرٹری خارجہ ہنری کیسجنر نے بیجنگ کا دورہ کیا جس کی بھنک بھی دنیا کو نہ لگ سکی اور جب معاملات مکمل طور پر طے پاگئے تو امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر کے دنیا بھر کو حیرت زدہ کردیا گیا امریکی انتظامیہ اس معاملے میںمدتوں تک پاکستان کے تعاون پر رطب اللسان رہی تاہم وقت گزرنے اورخاص طور پر چین کے اقتصادی طور پر آگے بڑھنے کی وجہ سے امریکہ کو یہ صورتحال اپنے اقتصادی اور سیاسی مفادات کیلئے چیلنج سمجھتے ہوئے چین کے مفادات کو زک پہنچانے کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑااور ان دنوں دونوں بڑی قوتوں کے درمیان مخاصمت کی نئی شکل دیکھنے کو مل رہی ہے، ان حالات میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ایک بار پھر مصالحت کی پیشکش یقیناً ایک اچھی سوچ ہے اور امید ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کو نو منتخب صدر جو بائیڈن کی قیادت میں امریکہ اور چین کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے اس پیشکش سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے کیونکہ دوبڑی طاقتوں کے مابین مخاصمت سے کسی ایک کو بھی فائدہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں امید ہے صدر جو بائیڈن اس پر خلوص پیشکش پر غور کریں گے اور چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔