اپنے لوگوں پر مزید مہنگائی کا بوجھ نہیں ڈالنے دیں گے – وزیراعظم عمران خان

مہمند: وزیراعظم عمران خان کا مہمند میں جلسے سے خطاب، خطاب میں انہوں نے کہا کہ شاندار استقبال پر قبائلی عوام کا شکریہ اداکرتا ہوں، احساس پروگرام متعارف کروا کرپیچھے رہ جانے والوں کی ذمہ داری لی ہے. قبائلی علاقوں میں تعلیم اور صحت کا نظام سب سے برا،نوکریاں بھی نہیں ملتیں، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں سب سےزیادہ نقصان قبائلی عوام کو ہوا. اب قبائلی علاقوں میں ترقی لانے کا موقع ہے، قبائلی علاقوں کے عوام کو اوپراٹھا کرترقی یافتہ پاکستانی شہروں سے ملانا ہے. یہ سیاسی تقریر نہیں، میرا دینی فرض ہے۔

وزیراعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ جس قوم میں انسانیت اورعدل وانصاف ہو اللہ اسےاوپر اٹھا لےگا، اللہ نے پاکستان میں نعمتوں کی بارش کررکھی ہے. مہمند میں بہترین زیتون کی پیداوار ہوتی ہے، قبائلی علاقے میں صحت احساس پروگرام لارہے ہیں. قبائلی نوجوانوں کوکاروبارکےلیےقرضے بھی فراہم کریں گے، قبائلی علاقے کےڈھائی ہزار طلبہ کو اسکالرشپس دیں گے. روزگار کے لیےمہمند میں انڈسٹریل اسٹیٹ لگائیں گے، مہمند کے عوام کو مہمند ڈیم سے پانی فراہم کریں گے۔
وزیراعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان عظیم ملک نہ بننے کی ایک ہی وجہ ہے، کبھی بھی کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا جس کے حکمران کرپٹ ہوں. وسائل کی کمی کی وجہ سے کوئی ملک غریب نہیں ہوتا، ملک تب غریب ہوتا ہے جب حکمران ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر لے جاتے ہیں. کرپٹ حکمران ملک کا پیسہ چوری کرکے لندن اور امریکہ میں بڑے بڑے گھر لے لیتے ہیں، جن کے اکاوَنٹ،کاروبار اور محل بیرون ملک ہیں انہیں کبھی ووٹ نہ دیں.میرے اوپر الزام لگایاگیا کیا میں لندن بھاگ گیا؟ 10ماہ میں عدالت کو تمام دستاویزات دیں.

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے افغانستان میں امن قائم ہو، 40 سال سے افغان عوام عذاب میں مبتلا ہیں. دعا ہے افغان امن معاہدہ کامیاب ہو، افغانستان میں امن سے قبائلی عوام کو بھی فائدہ ہوگا. افغان سرحد کھولنے کی کوشش کروں گا تاکہ عوام کو روزگار ملے، قبائلی علاقوں میں 3اور4جی ٹیکنالوجی کی ذمہ داری وفاقی وزیرمواصلات کو سونپ رہا ہوں۔

وزیراعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نےبجلی کی پیداوار کےلیے40،30سال کے معاہدے کررکھے ہیں، گزشتہ حکومت نے بجلی کی مہنگی قیمت پر معاہدے کیے جس سے گردشی قرضے بڑھے. ہمارے حکومت کے پہلے سال کی آدھی آمدنی قرضوں کی قسطیں ادا کرنےمیں ضائع ہوگئی. ملک چلانے کےلیے مزید قرضہ لینا پڑا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فیصلہ کیا ہے بجلی کی قیمتیں ہرصورت کم کرنی ہیں، فیصلہ کیا ہے بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھائیں گے. بجلی کی قیمتیں کم کرنے کےلیے ہرقدم اٹھائیں گے، اپنے لوگوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالنے دیں گے. جو بھی ہوجائے گیس اور بجلی کی قیمت کم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فکر نہ کریں مشکل وقت گزرگیا ہے، سب سے زیادہ مشکل وقت 2019 تھا. وعدہ کرتاہوں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، رپورٹ آنے والی ہے کسی کو نہیں چھوڑیں گے.