چند سنجیدہ معروضات

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لیئے جانے کے فیصلہ کا نتیجہ آچکا ہوگا حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں خوب گلے شکوے ہوئے جی ڈی اے، پی ٹی آئی پر بے وفائی کا الزام بھی لگایا ۔سینیٹ الیکشن میں سندھ اور وفاق میں ووٹ نہ دینے والے پی ٹی آئی واتحادی ارکان کے حوالے سے خوب لے دے ہوئی لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کیا ہوا اور اپوزیشن کے7سے9ارکان کا ضمیر تبدیلی کے لئے کیسے بیدار ہوا،وفاقی وزراء کا دعویٰ ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں175ارکان شریک تھے۔اطلاع یہ ہے کہ172ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔172ارکان اعتمادکی مطلوبہ تعداد کے مطابق ہیں وزیراعظم آسانی سے اعتماد حاصل کر لیں گے اگر کوئی انہونی نہ ہوئی۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے وزیرا عظم کے قوم سے خطاب اور وفاقی وزراء کے تندوتیز بیانات کے جواب میں الیکشن کمیشن کا بیان غور طلب ہے ماضی میں جو الزام تحریک انصاف نون لیگ پر لگاتی تھی کہ وہ اداروں کو متنازعہ بنا کر دبائو میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اب پچھلے چند دنوں سے یہی الزام پی ٹی آئی پر لگ رہا ہے۔ایک سادہ سی دستوری وقانونی بات حکمران اتحاد کو نجانے کیوں سمجھ میں نہیں آرہی وہ یہ کہ الیکشن کمیشن کا کام آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔آئین کی دفعہ186کے تحت آرٹیکل226پر رائے کے لئے دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے۔قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ ہر گز نہیں۔دستور اور انتخابی قوانین میں جو لکھا ہے الیکشن کمیشن نے اس پر عمل کیا اس لئے اب الیکشن کمیشن بارے نامناسب الفاظ کہنے اچھالنے سے بہتر ہے کہ شو آف ہینڈز کے ذریعہ الیکشن کروانے کی حکومتی خواہش کے حوالے سے اپنائی حکمت عملی کے نادرست ہونے کا اعتراف کیا جائے۔قبل ازیں بھی تفصیلی عرض کر چکا ۔مختصراً یہ کہ جب دستوری ترمیم کے لئے اپوزیشن سے بات کرنے کی ضرورت تھی حکومت سپریم کورٹ چلی گئی۔پھر ایک مسودہ قانون اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر قومی اسمبلی میں لے آئی جو عدم اتفاق کا شکار ہوا،صدارتی آرڈیننس موجود تھاپر صدارتی ریفرنس دائر کر دیا گیا۔اس ترتیب میں سمجھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن اگر ہٹلر کے وزیر گوئبلز کی طرح شور مچاتے رہنا ہے تو یہ الگ بات ہے۔
اب بھی الیکشن کمیشن کے وضاحتی بیان کے بعد وفاقی وزراء کے بیانات نامناسب ہیں۔اچھا ویسے یہ الیکشن کمیشن کس نے تشکیل دیا؟موجودہ حکومت نے اور دستوری تقاضوں کے مطابق تشکیل پایا اب حکومت جوکہہ رہی ہے یہ مناسب ہر گز نہیں۔ہماری دانست میں صورتحال کشیدہ ہے۔حکومت کے اتحادیوں کی شکایات موجود ہیں خود اس کے اپنے ارکان کے شکوے ہیں۔ایک سیاسی حکومت کا جو رویہ ہونا چاہئے وہ اڑھائی سال یوں نہیں بن پایا اس پر ستم یہ کہ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں فرمایا''اپوزیشن والے شکلوں سے ہی غدار لگتے ہیں''کیا وزیراعظم نہیں سمجھتے کہ انہوں نے حزب اختلاف پر سنگین الزام عاید کیا ہے۔یا پھر وہ یہ نہیں جانتے کہ غدار کسے اور کیونکہ کہتے ہیں؟وزیراعظم اپوزیشن کو غدار کہنا کسی المیئے سے کم نہیں یہی وہ تند بیانی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے جس کی طرف حکومت کے ناقدین پچھلے اڑھائی برسوں سے متوجہ کرتے آرہے ہیں مگر کوئی سمجھنے کوتیار ہی نہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم کے اس سنگین الزام کے بعد تقسیم کی خلیج مزید گہری ہوئی اس کے اثرات عملی سیاست اور پارلیمانی امور پر پڑیں گے۔حکومت کے پاس ابھی اڑھائی سال ہیں اس عرصہ میں کیا وہ اس الزام کے بعد اپوزیشن کے تعاون سے قانون سازی کر سکے گی؟۔اس سوال کا عمومی جواب یہ ہے کہ کیسے اور کیوں اپوزیشن تعاون کرے گی۔ثانیاً یہ کہ ایک غدار اپوزیشن کے تعاون سے اگر کوئی قانون سازی ہوئی بھی تو اس کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کیا ہوگی یہ محض جذباتی سوال ہرگز نہیں۔بہت ادب سے مکرر عرض ہے جس قسم کی سیاست ہورہی ہے ہم ایک بار پھر پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں کی بند گلی میں پھنس چکے ہیں۔کاش کہ حکمران قیادت کو بھی فوراً اسے ان دودہائیوں کی نفرت بھری سیاست کے نقصانات سے آگاہ کر سکتے ۔خوش آئند امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن کی مبینہ بے اعتدالیوں پر کارروائی شروع کردی ہے اب حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ملک بھر میں ہوئی خریداری کے ثبوت فراہم کرے۔الیکشن کمیشن کو بھی چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان وسندھ کے حوالے سے موجود شکایات کا بھی نوٹس لے اور وزیراعظم سے ان کے اس بیان پر ثبوت مانگے جس میں انہوں نے سینیٹ کے لئے ایک ووٹ کی قیمت75کروڑ بتائی تھی۔حرف آخر یہ ہے کہ وزیراعظم فقط تحریک انصاف کے نہیں22کروڑ عوام کے وزیراعظم ہیں مگر ان کے بیانات پالیسیوں اور دیگر معاملات سے لگتا ہے کہ وہ صرف تحریک انصاف کے وزیراعظم ہیں یہ مثبت رویہ ہرگز نہیں ثانیاً یہ کہ حب الوطنی اور غداری کی اسناد تقسیم نہ کی جائیں یہ کھیل شروع ہوا تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔