Mashriqiyat

مشرقیات

حاجی صاحب بیمارہیں،نصیب دشمناں انہیں کورونا مورونا نشتہ ،بس بڑھاپے کے باعث وہ لڑکھڑانے لگے ہیں اور اب انہیں عاقبت کی شدید فکر نے آگھیرا ہے۔لڑکھڑاہٹ کے ساتھ اس فکرمندی نے انہیںبستر سے اٹھنے کے قابل نہیںچھوڑا۔عمر کے آٹھ عشرے انہوں نے ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں میں گزارے کہ پل بھر کو بھی انہیں یا د نہیںرہا تھا کہ ایک روز وہ لڑکھڑا بھی جائیں گے ، اب جب وقت آپہنچا ہے تو انہیں یہ فکر بھی لگ گئی ہے کہ عشروں کی محنت سے جمع کئے اس سرمائے کا کیا ہوگا ،جس کے لئے وہ عمر بھر عزیز رشتہ داروں سے سر بگریباں رہے۔
یہ نہیں کہ حاجی صاحب کے وارثوں کی کمی ہے ،اللہ کے فضل سے دادا اور نانا ہی نہیں پردادا اور پرنانے کے خطابات بھی وہ زندگی ہی میں سمیٹ چکے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ بیٹیوں کو وہ پرایا دھن سمجھتے آئے تھے ،انہیںبیاہنے کے بعد وہ گویا ان سے دست بردار ہوگئے تھے ،اس پرائے دھن سے ہونے والی اولاد اب ان کے دھن دولت پر نظریں جمائے ہوئے ہے،ادھر وہ اپنی بہنوں تک کو پرایا دھن قرار دینے کے بعد ان کے حصے کو بھی ڈکار گئے تھے، بیٹیوں کو شرعی وارث تسلیم کرنے کو ان کادل مان رہا۔رہے بیٹے تو ظاہر ہے انہیں حاجی صاحب سے زیادہ اس مال کی ضرورت ہے، جو حاجی صاحب نے جان لڑاکر عزیز رشتہ داروں سے سمیٹا تھا۔
ٹانگوں کی لڑکھڑاہٹ اپنی جگہ ،تاہم حاجی صاحب کا دماغ اب بھی پوری طرح کام کر رہا ہے ،وہ صاحب فراش ہونے کے باوجود اپنے بیٹوں کو کاروباری اونچ نیچ سمجھاتے رہتے ہیں۔منڈی میںغلے کی ان کی سب سے بڑی دکان ہے جہاں ان کا بڑا بیٹا بیٹھتا ہے ، آٹا، چینی کے بحران کے سر اٹھانے سے پہلے ہی حاجی صاحب بھانپ لیتے ہیں ،دو قدم چلنے کی سکت نہ رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ درست چال کیسے چلتے ہیں۔دکان سے چینی کا تمام سٹاک گوداموں میںذخیرہ کرنے کا حکم صادر فرما کر حاجی صاحب کی سانس دھونکی کی طرح چلنے لگی تھی ،ذرا دم لیا تو کہنے لگے ”اللہ کاعمر بھر فضل رہا کسی چیز کی کمی اولاد کو ہونے نہیںدی،اب لب گور ہوں تو رہ رہ کے خیال آرہا ہے کہ کچھ مہینوں کی مہلت ملتی تو الحاج بن کر اللہ کے سامنے پیش ہو جاتا”۔حاجی صاحب کا چھوٹا بیٹا کچھ زیادہ ہی پڑھ لکھ کر گستاخ ہو چکا ہے ،باپ کی آرزو سن کر اسے مرزا غالب کا شعر یاد آگیا:
کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
حاجی صاحب سمجھ گئے کہ بیٹا ان پر چوٹ کر رہاہے۔اک لمحے کو انہیں خیال آیا کہ بہنوں کا غضب کیا گیا حق بھی وہ لوٹا سکتے ہیں اور بیٹیوںکو بھی اپنا دھن قرار دے کر وراثت میں سے حصہ بقدر جثہ دے کر اپنا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں ،تاہم اگلے ہی لمحے اس خیا ل کو انہوں نے جھٹک کر بوجھ ہلکا کرنے کے لئے توبہ واستغفار شروع کر دی۔