noor-muqaddam-case

خودکشی کا خدشہ ،جیل میں ظاہر جعفرکی کڑی نگرانی

ویب ڈیسک:اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ نور مقدم کے قتل کا مرکزی ملزم ظاہر جعفر دو دیگر قیدیوں کے ساتھ ایک سیل میں قیدہے اور قاتل کو "خودکشی کے خدشات” کے پیش نظر دانت برش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق "ایسے قیدیوں جو اپنے عزیزوں کے قتل میں ملوث ہوں یا کسی ایسے جرم میں جس سے ان کی معاشرے میں بدنامی ہو میںخودکشی کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے ظاہر جعفر کے ساتھ سیل میں تین لوگوں کو رکھا گیاہے تاکہ اگر کوئی انہونی دیکھنے میں آئے تو باقی لوگ خطرے کی گھنٹی بجا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ جب ایسی خبریںسامنے آئیں کہ ظاہر کوسر میں دردکی شکایت پر فوری طور پر اسلام آباد کے ایک ہسپتال لے جایا گیا تو سوشل میڈیاپر ملزم کوخصوصی سہولت دینے پر تنقید کا طوفان امڈ آیا تھا جس کے بعد پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض چوہان نے احکامات دئے کہ ملزم کو کسی قسم کی ترجیحی سہولت فراہم نہ کی جا ئے ۔جیل حکام کے مطابق ظاہر جعفر کے والد نے بیٹے سے ملنے کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی ایسے ہی اسی جیل میں قید ملزم کی والدہ نے دوسرے سیل میں قید اپنے شوہر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا جو تسلیم نہیں کی گئی ۔