افغانیوں کوواپس

افغانیوں کوواپس جانا چاہئے

افغانستان کی تاریخ اور امور کے ماہرین بلا مبالغہ اس قوم کی تاریخ اور مزاج و سرشت وفطرت پر لاکھوں صفحات لکھ چکے ہیں گزشتہ چالیس پچاس برسوں سے تو دنیا میں جتنا ذکر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیاپرافغانستان کا ذکر ہوتا رہا ہے اور آج تک ہو رہا ہے اتنا شاید ہی کسی دوسرے ملک اور قوم کا ہوا ہو۔ سنگلاخ اور اونچے پہاڑوں اور وادیوں سے گھرا ہوا یہ ملک سٹرٹیجک اہمیت کے حوالے سے اتنا اہم ہے کہ سکندر اعظم سے لیکر برطانیہ ‘ روس ‘ امریکہ اور اب چین جیسے سپر پاورز کی انتہائی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ یہاں قدم جما کر اس کے خزانوں اور جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی طاقت میں خوب اضافہ کر لیں۔ لیکن جتنے بھی سپر پاورز نے یہاں قدم رکھا ہے وہ یہ بات جانتے ہوئے بھی بھول جاتے ہیں کہ افغانی ‘ حملہ آوروں کو کسی صورت بھی اپنے ملک پر قبضہ کرنے نہیں دیتے اگرچہ یہاں جتنے بھی بیرونی حملہ آور آئے ہیں’ ان کو خوش آمدید کہنے اور راستہ دینے کے لئے مٹھی بھر افغانی ہی کام آتے رہے ہیں لیکن افغانیوں کی اکثریت نے ہمیشہ استعمار کو اپنے ملک سے بھگانے کے لئے اپنا سب کچھ دائو پر لگایا ہے ‘ اور نتیجتاً کامیاب رہے ہیں ۔ لیکن وہ جو مٹھی بھر استعمار کو خوش آمدید کہنے والے ہوتے ہیں ‘ انہوں نے ہمیشہ اپنا کھیل کچھ اس انداز سے کھیلا ہے کہ اس خطہ میں گزشتہ نصف صدی سے امن و سلامتی مفقود ہے ۔ اس وقت قدیم گریٹ گیم کا جو ایکٹ چل رہا ہے اس میں امریکہ جیسے سپر پاور نے تین ٹریلین ڈالر کی کثیر رقم اڑا کر اور بیس طویل برسوں تک اپنی اور نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ کیل کانٹے سے لیس افواج کے باوجود جو کچھ حاصل کیا وہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی ہے ۔گزشتہ بیس برسوں میں وطن عزیز پر جو گزری سو گزری اور ہم اس لئے برداشت کرتے رہے کہ شاید افغانیوں کی عاقبت سنور جائے اور پڑوسی ہونے کی حیثیت سے ہمیں بھی سکون نصیب ہو لیکن شومئی قسمت دیکھئے کہ ”بکری جان سے گئی ‘ کھانے والے کو مزہ نہ آیا” کے مصداق امریکہ تو امریکہ کہ آخر سپر پاور رہے اور اس کے اپنے عالمی مفادات ہیں ‘ افغانستان بھی ہم سے راضی نہ ہوا ۔۔۔ راضی ہونا تو ایک طرف رہا ‘ اس دوران اس نے بھارت کے ساتھ جو پینگیں بڑھائیں اور ہر بڑے شہر اور بالخصوص پاکستان سے ملے سرحدات کے شہروں میں بھارتی قونصل خانے را کے گڑھ بن کر پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہتشگردی کرانے کے لئے استعمال
ہوتے رہے ۔ پاکستان کا اخلاف اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوا کہ حالات ایسے بنے کہ بنیا جی کے تین ارب ڈالر ایسے اکارت گئے کہ ”نہ پانی کے اوپر نہ پانی کے نیچے” دوسری طرف تین لاکھ کی افغان حکومتی افواج ‘ امریکہ ‘ برطانیہ اور بھارت کی فوجی اکیڈمیوں اور تربیتی اداروں کی تربیت یافتہ ‘ جدید امریکی اسلحہ اور بھارتی ہیلی کاپٹروں سے لیس ہر روز یا ہتھیار ڈال کر یا فرار ہو کراپنے شہر طالبان کے حوالے کر رہی ہے ۔ یاللعجب! لیکن اپنی ان کوتاہیوں ‘اور کمزوریوں کا سارا ملبہ ‘ امریکہ سے لیکر بھارت تک سب مل کر پاکستان پر ڈالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ چلو یہ تو سب کچھ گریٹ گیم کا حصہ ہے اور سپر پاورز ہمیشہ سے ایسا کرتی آئی ہیں اور بھارت سے بھی گلہ نہیں کہ وہ تو ازل ازل سے پاکستان کے ساتھ جنم جنم کی دشمنی پر ادھار اور قسم کھائے بیٹھا ہے کہ آخر ہم پاکستانیوں نے پاکستان قائم کرکے ان کی دھریت ماتا(ہندوستان ‘ اکھنڈ بھارت) کو تقسیم کرنے کا ناقابل معافی گناہ کیا ہے لیکن حیرانگی ان افغانیوں پر ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئے ‘ یہیں پلے بڑھے اور یہیں تعلیم و روزگار حاصل کیا ‘ لیکن اس کے باوجود بغیر ثبوت گناہ تقصیر کے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور لعن طعن میں لگے رہتے ہیں یہ امر اللہ صالح ‘حمد اللہ محب اور اشرف غنی کے سدھائے اور پڑھائے ہوئے لوگ ہیں ۔ ان کوپاکستان میں رہ کر بھی بھارت سے بڑی عقیدت رہی۔
حکومت پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ ایسے لوگوں کے حوالے سے کسی مصلحت پسندی کا شکار نہ ہوا جائے۔ پی ٹی ایم والوں کو بھی بتا دینا چاہئے کہ سیاست اور شہری حقوق اپنی جگہ ‘ لیکن اگرآپ کے لوگ بھارت اور این ڈی ایس کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانی افواج پر کیچڑ اچھالنے کی مہم میں شریک ہیں تو یا تو بھارت جا کر وہاں کی شہریت حاصل کریں یا لر و بر پر یقین کو عملی شکل دیتے ہوئے افغانستان جا کر افغانستان میں امن لانے میں اپنا کردار ادا کریں پاکستانی پختونوں کی اکثریت 99.9فیصد پاکستان زندہ باد کے نعرے کو دل جان سے عزیز رکھتے ہیں۔پاکستان زندہ باد