ahmed masood

بات چیت اورمزاحمت دونوں کے لئے تیارہیں،احمدمسعود

ویب ڈیسک (کابل)وادی پنجشیرسےطالبان کےخلاف مزاحمت کا اعلان کرنےوالے سابق مجاہدکمانڈر احمد شاہ مسعود کےبیٹےاحمد مسعود نےکہا ہے کہ وہ طالبان سےبات چیت کو تیارہیں تاہم ہتھیاروں کے بل بوتے پرکوئی ہم سےمعاملات نہیں کرسکتا۔

انہوں نےکہاکہ"افغانستان کبھی بھی ایک مضبوط مرکزی نظام قائم کرنےکےقابل نہیں رہا،یہ 100 سال سے زیادہ عرصے سےناکام ہےاوراسکا بہترین حل ملک کی مجموعی علاقائی سالمیت پرسمجھوتہ کیےبغیرعلاقائی یونٹوں کوبااختیاربناناہے۔"

لند ن کےاخبارالشرط الاوسط کوانٹرویو دیتے ہوئے انہوں نےیہ بھی کہا کہ "ملک کے انتہائی مرکزی نظام حکومت اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی اورناقص حکمرانی کی وجہ سے،افغان حکومت آبادی کی حمایت حاصل کرنےمیں ناکامرہی ہے۔"

انہوں نےکہا،"اس متنوع اورکثیرنسلی افغان معاشرے نےاس بات پر زور دیا ہےکہ اسے ایک عدم مرکزیت پرمبنی سیاسی نظام اورمسلح افواج کی ضرورت ہے۔"

ان کاکہناتھاکہ طالبان کےساتھ مذاکرات کرناایک درست آپشن ہے،کیونکہ وہ سب افغان ہیں اورایک ہی مذہب ،اسلام کا حصہ ہیں۔

انہوں نےانکشاف کیا،"طالبان کے ساتھ ہمارے پہلےہی سے رابطے ہیں،ہمارے مشترکہ نمائندے کئی بارایک دوسرے سے ملے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ"ہم سیاسی مذاکرات کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک جامع حکومت بنانے کےلیے تیار ہیں لیکن جو بات قابل قبول نہیں ہے وہ ایک ایسی افغان حکومت کی تشکیل ہے جو انتہا پسندی کی خصوصیت رکھتی ہو ،جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطےاوردنیا کےلیے بڑے پیمانے پرسنگین خطرہ بنے گی۔