شکریہ اور جوابِ شکریہ

ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت نے انتہائی نامساعد حالات اور تہیہ ٔ طوفاں کئے بیٹھی اپوزیشن کے باوجود اپنے تین سال مکمل کرلئے ۔تین سال کی تکمیل پر وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرکے اپنی مجبوریوں ،مشکلات اور کامیابیوں کا تذکرہ کیا اور اپوزیشن نے بھی ایک بیان کے ذریعے اپنی قرطاس ابیض جاری کیا ۔جس میں حکومت کی غلطیوں اور ناکامیوں کے تذکرے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔واضح رہے کہ آج کی اپوزیشن سیاست کی کوئی نووارد اور نئی نویلی نہیں بلکہ ملک میں طاقت کے کھیل میں دہائیوں سے شریک شخصیات اور جماعتوں پر مشتمل ہے ۔یہ ملک اچھا یا برا آج جس حال میں اس میں ان شخصیات اور جماعتوں کا کم یا زیادہ حصہ موجود ہے ۔کوئی اس کے لئے اپنی بے بسی اور کم اختیاری اورکسی ادارے کے عدم تعاون کا رونا روئے تو اس سے یہ حقیقت نہیں چھپ سکتی ۔ اقتدار کے دنوں میں جو ریاستی ادارے انہیں منی لانڈرنگ ،سیاسی اور حکومتی عہدوں کی تقسیم میں بدترین اقربا پروری ،کمیشن ،غیر قانونی بھرتیوں ،قبضہ مافیا کی سرپرستی سمیت دیگر قباحتوں سے نہیں روکتے وہ صرف مثبت اور تعمیری کاموں کی راہ میں ہی کیوں مزاحم ہوتی ہے ۔ہر سول دور میں یہ سارے منفی کام پوری رفتار سے چلتے ہیں مگر جب عوام کی بہتری ملک کے مستقبل کے حوالے سے بڑے فیصلوں کی باری آتی ہے تو سول حکمران بے بس اور لاچار ہوجاتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ ملکی امور سے متعلق فیصلے کرنے میں اخلاص اور مشاورت کی کمی کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔جس کام میں مشاورت کی ضرورت نہیں ہوتی وہ بہ آسانی کسی رکاوٹ اور مزاحمت کے بغیر ہوجاتا ہے اور جس اہم اور دور رس فیصلے کے لئے مشاورت اور ریاستی سطح پر ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے اس پر کھٹ پھٹ شروع ہوجاتی ہے اور یہ کشمکش آگے چل کر میموگیٹ اور ڈان لیکس بن جاتی ہے۔عمران خان ملک کی روایتی سیاسی کلاس سے باہر کے انسان تھے اس لئے ان کا حکومت میں آنا بظاہر ناممکن تھا اور جو کسر رہتی تھی وہ عمران مخالف کئی خوفناک مہمات کے ذریعے پوری ہوئی ۔اس کے باوجود عمران خان حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر شاید بہت سوں کی طرح خود انہیں بھی یقین نہیں تھا کہ وہ ایک دن حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہو ں گے ۔یہ ان کی ٹیم کی حکومتی ناتجربہ کاری،انتخاب اور فیصلوں سے ابتدا میں ہی عیاں ہوگیا ۔روپے پیسے کی طلب سے کوسوں دور اور اقرباپروری جیسی قباحتوں سے بے نیاز اور اپنی ساکھ کے حوالے سے بے رحمی کی حد تک حساس عمران خان کی شخصیت پانی پر تیرتی ہوئی نائو کی مانند تھے مگر پانی بھی وہی تھا اور اس کے رنگ ڈھنگ بھی وہی تھے جو ماضی کا خاصہ اور حصہ تھا۔ ان کے سیاسی اور حکومت ساتھی دنیا پرست اور فن زرگری کے ماہر تھے جنہوں نے ہر دن کا آخری سمجھ کر وہی کرتب اور کرشمے دکھائے جو ماضی کے دورمیں ہوا کرتے تھے ۔یوں ایک کے بعد دوسرے سکینڈل کا طوفانی ریلا حکومت کو ہلا کر گزرتا چلا جاتا رہا ۔ یوں حکومتی کارپردازوں کے ساتھ کئی سکینڈل منسوب ہوتے چلے گئے ۔یہ عالم کرپشن کے حوالے سے ایک زیروٹالرنس رکھنے والے شخص کے نیچے ہے اور جس نظام میں اس قباحت پر غض ِبصر یا حوصلہ افزائی کرنے والے حکمران رہے ہوں اس کا اندرونی حال کیا رہا ہوگا ؟اس کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ۔اچھا بھلا خوش حال ملک آج اگر قرضوں میں ڈوبی ہوئی نسلیں تیار کرتا ہے تو اس کا کوئی سبب تو ہوگا ؟عمران خان نے صرف اتنا کیا کہ کسی سکینڈل پر کنڈلی مار کر بیٹھنے اور کچھ کرداروں کو بچانے کی بجائے ایسے کرداروں کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا۔عمران خان کی حکومت عام آدمی کے لئے خوش خبری ثابت نہ ہو سکی ۔مشرف کے بعددوڑنے والی مہنگائی اس دور میں پر لگا کراُڑنے لگی۔ ان مسائل کا حل چہرے بدلنے اور تجربہ در تجربہ میں تلاش کیا گیا مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔عمران خان نے اپنے خطاب میں تین سال تک فوج کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔اپوزیشن کی کوشش اور خواہش کے باوجود نے فوج نے ماضی کی روایت کے عین مطابق حکومت کو اپنی مدت اقتدار پوری کرنے میں تعاون کیا ۔یہ تعاون پیپلزپارٹی او ر مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے ساتھ بھی ہوا ۔ملٹری سول کشمکش کی جو چاٹ دار کہانی ہر دور میں مغربی میڈیا کو حاصل ہوتی تھی اور پھر اس کی بنیاد پر مغربی ادارے اور لابیاں پاکستان میں اپنے لئے سپیس حاصل کرتی تھیں اس بار ایسا نہ ہو سکا ۔فوج نے یکسوئی کے ساتھ عمران خان حکومت کا ساتھ دیا اور عمران خان نے ماضی کے کئی کرداروں کی طرح مغربی اداروں اور شخصیات کومتاثر کرنے کی خاطرمصنوعی ٹارزن بننے کا راستہ نہیں اپنایا کیونکہ شاید وہ مغربی ذہن کو زیادہ قریب سے جانتے اور سمجھتے تھے کہ جو تیسری دنیا کے حکمرانوں اور سیاست دانوں اور جرنیلوں سے کام لیتے ہیں اور مطلب براری کے بعد انہیں اشرف غنی کی طرح الوداعی سلام کئے بغیر تنہا چھوڑ دینے میںلمحوں کی تاخیر نہیں کرتے ۔یہ لوگ اپنے مغربی دوستوں کی طاقت اور وفا کے زعم میںخود اپنی مٹی اپنے لوگوں سے دور ہوچکے ہوتے ہیں۔شکوہ اور جواب شکوہ کے ماضی کے برعکس اس بے مقصد کشمکش کے نہ ہونے پر فوج کاشکریہ بھی بنتا ہے اور فوج کا جواب ِشکریہ بھی بے جا نہ ہوگا۔