اب معافی نہیں

اب معافی کا وقت گزر گیا ہے اب حوالگی کرناہو گی ، یہ طالبان نے پنچ شیر کے باغیوں کو صفا بتادیا ہے ۔عام معافی ان کے لئے تھی جنہوں نے 15 اگست سے قبل جو کچھ کیا تھا اس تاریخ کے بعد بغاوت وسرکشی کر نے والو ں کے لئے کوئی رعایت وچھوٹ نہیں ہے ، پنچ شیر کی وادی اب طالبان کے زیر نگوں ہے اس امر کا بھی امکا ن ہے کہ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہو ں توپنچ شیر کا معاملہ قصہ پارینہ بن چکا ہو گا کالم کی لکھت تک وادی کے مرکز برزگ کو مکمل طور پر گھیر ے میں لے لیا گیا تھا ، اب کسی کے لئے راہ فرار نہیں باقی رہی تھی ، طالبان اگر چاہتے تو ہفتے کی رات کو شہر میں داخل ہو سکتے تھے مگر انہوں نے خون وخرابہ سے اجتنا ب کرنے کی غرض سے شہر کو محض محاصرے میں لئے رکھا ان کاموقف ہے کہ شہر میں بچے ، بوڑھے ، خواتین ،لا غر اور بیمار افراد بھی ہیں اس لئے بزور طاقت داخل نہ ہوا جائے بہتر ہے کہ وادی میں مو جو د جنگجو خود کو طالبان کے حوالے کردیں طالبان نے وادی پنچ شیر کے کٹھن اور کٹھو ر راستوں کو عبور اور سر کرنے کے بعد جس حکمت عملی سے جنگجو ؤں کو گھیرے میںلیا ہے وہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان ہر لمحہ کے لئے بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اگرچہ جنگجو ؤں کی جانب سے ہفتہ کے روز بھی یہ راگ الاپا جا تا رہا کہ طالبان وادی پر قابض ہو نے کا میا ب نہیں ہوئے ہیں تاہم طالبان کی جا نب سے احمد مسعود اور امراللہ صالح اور شیعہ کمانڈر محمد مہدی کے جنگجو ؤں کی کمر تو ڑ کر رکھ دی گئی ہے، اگر طالبان کو غیر یقینی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے تو امراللہ کے فرار کی کہا نی کیا ہے ۔ اوراحمد مسعود کی جا نب سے بات چیت کی پیشکش کا مطلب کیا ہے ۔ جب طالبان مذاکرات کے ذریعے مفاہمت چاہ رہے تھے تواس وقت شیعہ کماندڑ اور امراللہ صالح و احمد مسعود سبوتاژکر نے میںپیش پیش تھے ۔جب سرپر آن پڑی ہے تو دوبارہ مفاہت کے راستے کی دہا ئی دینا شروع کردی ہے ۔طالبان جن کے بارے میں محض یہ پروپیگنڈ ہ کیا جا تا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں اب انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گر د نہیں بلکہ وہ ہیں جنہو ں نے ان کے خلاف اقداما ت کیے ، البتہ ایک بات ضرور رہی کہ طالبان میں سیا سی مفاہمت کا بیس سال پہلے فقدان پا یا جا تا تھا مگر اب انہو ں نے امریکی فوج کے انخلاء کے عمل اور اشرف غنی کے فرار کے بعد جس برد باری کا مظاہر ہ کیا اسی طرح وادی پنچ شیر کے مسئلے کوحل کر نے کے لئے جو تدبیر اختیا ر کی اس سے ثابت ہو تا ہے کہ طالبان میں سیاسی شعو ر پہلے سے کہیں زیا دہ اجا گر ہو چکا ہے ۔ امراللہ جو اشرف غنی حکومت کے نائب صدر تھے وہ فرار ہو کر وادی پنچ شیر کیو ںپہنچے ۔ وہ اپنے دیگر ساتھیوںکے ہمر اہ جو اعلیٰ وفد کے چہر ے لئے پاکستان آکر گم ہو گیا ان کے ساتھ فرار کیو ںنہ ہوئے وادی پنچ شیر کا انتخاب انہوں نے اس لئے کیا تھا کہ بعض طاقتیںجو افغانستان میں اپنے مطلب کی حکومت چاہتے ہیں ان کی مدد سے طالبان کی طاقت کو کھاجائیں ۔ طالبان نے پنج شیر وادی کا مواصلا تی نظام معطل کر دیا بجلی کی سپلائی منقطع کردی پھر بھی جنگجوؤں کا باہر کی دنیا اورخاص طور پر میڈیا سے رابطہ رہا ایسا کیو ںکر رہا ، ظاہر ہے کہ سازش کے پر دوںمیںملفو ف طاقتیں ان پشت کی پر موجو د تھیں ، بھارتی میڈیا نے جس بری طرح طالبان کی کامیابیوں کے خلا ف سینہ کوبی کی ہے وہ اس جا نب اشارہ کر تی ہے کہ بھارت کو کس قدر تکلیف ہوئی ہے ، بھارت طالبان کے خوف سے پہلے ہی سے گھبرایاہو ا تھا چنا نچہ چند ماہ قبل جس کا ذکرگزشتہ کے کا لم میںبھی کیا گیا تھا کہ بھارت کے وزیر خارجہ نے شنگھائی معاہد ے کے ممالک کے اجلا س کے فوری بعد وسطی ایشیا کے ممالک کا دورہ کیا تھا ، اس وقت طالبان اور امریکا کے مذاکرات دوحہ میں چل رہے تھے اور بھارت شروع دن ہی سے امریکی انخلاء کا مخالف تھا چنا نچہ اس نے وسطی ایشیا کے مسلم ممالک میں یہ کا وشیں کیں کہ دوحہ مذاکرات کو نا کام بنا دیاجائے اور امریکا انخلاء کا ارداہ ترک کر لے یا پھر بھارت کو ایسا کر دا ر افغانستان میں دے جائے کہ اس کی ویسی ہی بر تری ہوجائے جیسی کہ امریکا کو حاصل ہے ۔ یہ سب خواہشیں دیو انے کے خواب کی طرح چکنا چور ہو کر رہ گیں ، طالبان نے وادی پنچ شیر کے جنگجو ؤں کے لئے جو احکا مات جا ری کیے ہیں ان میں سب سے بڑا فیصلہ یہ ہے کہ طالبان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر احمد مسعو د اور اس کے حواری بندوق کی زد میں آجائیں توتذبذب وتردد کی ضرورت نہیں تاہم امراللہ صالح کوزند ہ گرفتا رکیاجائے یہ ہدایت اس امر کی روشنی میںدی گئی ہے کہ افغانستان کی سابق رجیم کے اکابر کے برعکس امراللہ صالح نے جو رخ اختیا ر کیا اور وادی پنچ شیر کو اپنا مسکن بنایا یعنی طالبان مکمل طورپر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان سازشوں کی پشت پنا ہی میں کو نسی کونسی اندرونی و بیر ونی طاقتیں ملو ث ہیں ۔ان کے عزائم کیا ہیں ، جیسا کہ ایک طرف امریکا طالبان کی تعریف کر رہا ہے تو دوسری جانب اس نے افغانستان کے نو بلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں ۔ ہر ملک کا ایک مرکزی بینک ہو تا ہے جیسا کہ پاکستان کا اسٹیٹ بینک ہے ان بینکو ں کو ملکی زرمبادلہ امریکا کے سنٹرل بینک میں رکھوانا پڑتے ہیں اس مجبوری سے امریکا فائد اٹھا کر جس ملک کے چاہے اکاؤئنٹ کو منجمد کر دے چنانچہ افغانستا ن کے ساتھ بھی یہ ہا تھ ہو ا ہے ، پہلے افغانستان کا مر کز ی بینک نہیں ہوا کر تا تھا تاہم اشرف غنی نے افغان مرکزی بینک قائم کیا ۔اس حوالے سے امریکا نے دیگر ممالک کی معیشت اپنے کنڑول میں حاصل کرلی ہے ، ایک ملک کے لئے امداد ی رقم اس کو کس طریقے سے منتقل ہوتی ہے اس موضوع پر بعدازاںتفصیلی گفتگوہو گی ۔